جمہوریت کو خطرہ یا شخصیات کا ٹکراﺅ !

جمہوریت کو خطرہ یا شخصیات کا ٹکراﺅ !
 جمہوریت کو خطرہ یا شخصیات کا ٹکراﺅ !
کیپشن:   1 سورس:   

  

پچھلے دو ہفتوں کے درمیان کئی بار لکھنے بیٹھا، لیکن وقت کی رفتار کا ساتھ نہ نبھا سکا، وقت اس قدر تیزی سے بھاگ رہا ہے کہ ایک دن کا تحریر شدہ تجزیہ اگلے روز کے لئے بے محل اور متروک ہوجاتا ہے۔ گزرتی ہوئی ساعتوں کی بے ثباتی اور بیتے ہوئے لمحات کی بے یقینی اس طرح عیاں ہے کہ جو سوچ ذہن میں مچلتی ہے، اگلے ہی لمحے وہ دماغ سے ماﺅف ہوجاتی ہے، کیونکہ ہر سوبے یقینی کا راج دکھائی دیتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا، پر جو کچھ دکھا یا جارہا ہے یا کہا جارہا ہے، اس سے منزل نظر آتی ہے اور نہ ہی اس طرف کوئی راستہ سجھائی دیتا ہے۔ اسلام آباد کے ریڈزون میں جو دھرنا جاری ہے اس ضمن میں بڑے بڑے نامور اینکر پرسن روایتی تجزیہ نگاری میں مصروف ہیں۔ کچھ ماہرین تو ایسے بھی ہیں جو اس موقعہ سے بھرپور انجوائے کررہے ہیں اور اس دھرنے کو تفریح کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں، اور دیگر حضرات اپنی اپنی بصیرت کے سہارے ناظرین کو معلومات فراہم کررہے ہیں۔ قوم کا محب وطن طبقہ پریشان ہے اور کسی بھی معجزے کی آس لگائے دعاﺅں میں مصروف ہے۔ چونکہ آزادی اور انقلاب مارچ اپنے آخری پڑاﺅ پر موجود ہیں، اب لوگ اس کے ڈراپ سین کے متمنی ہیں۔ مظاہرین بھی اپنی عملی کاوشوں کے عملی نتائج کے لئے پر امید ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس کاوش سے کیا ممکنہ نتائج برآمد ہوں گے۔ ؟

حقیقت یہ ہے کہ موجودہ صورت حال ایک دن کی قومی لغرش کا نتیجہ نہیں اور نہ ہی اس کا ظہور کسی فوری ردعمل کا مظاہر ہے ۔ تحریک انصاف اس سلسلے میں چودہ ماہ سے سرگرم تھی۔ اس کے سربراہ نے پورا عرصہ انتخابات میں غیرمعمولی دھاندلی کا رونارویا اور ہمہ وقت اس بات کا تقاضہ کیا کہ چند ایک حلقہ جات تک تحقیق کرکے دھاندلی کا پتہ لگایا جائے اس کے ذمہ داران کو کیفرِکردار تک پہنچایا جائے۔ بادی النظر میں اس مطالبے میں کوئی غیر آئینی اور غیرقانونی پہلو نظر نہیں آتا، لیکن افسوس کہ اس وقت اس تقاضے کوسنی ان سنی کرتے ہوئے ایک سیاسی مطالبے سے زیادہ اہمیت نہ دی گئی۔ یہ ضروری تھا کہ ملک کی تیسری سیاسی قوت کی طرف سے تکرار کے ساتھ ایک مطالبے کرنے کے عمل کو اہمیت دی جاتی۔حیرانی تو اس بات کی بھی ہے ملک کی باقی بڑی سیاسی قوتوں نے بھی کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا اور آج جو وہ جمہوریت بچانے کے نعرے میں اکٹھی ہیں ان کو چودہ ماہ اس بات کا احساس کیوں نہ ہوا کہ ایک سیاسی قوت کے مطالبہ کی پذیرائی کا سامان کرایا جائے۔ آج جو جماعتیں آئین اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے میدان میں ہیں ، انہوں نے اس وقت حالات کی نزاکت کا احساس کرکے حکومت وقت کو اس کی سنگینی سمجھنے میں مدد کیوں نہ دی۔ ہماری قوم کی سب سے بڑی بدقسمتی ہی یہی ہے کہ ہم نے کبھی من حیث القوم کسی خطرہ کو برمحل محسوس نہیں کیا اور طوفان آنے کے بعد واویلا مچاتے ہیں ، پھر یوں فعال ہوتے ہیں کہ جیسے اس تاخیر کے مضمرات کی ذمہ داری کسی کی بھی نہیں اور شاید ان کے علاوہ اس مصیبت کا مداوا کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔

 سیاست کے میدان میں برمحل اور بروقت اقدامات ہی ہمیشہ سودمند ہوتے ہیں۔ اگر کسی سیاسی قوت کے کسی سنجیدہ مطالبے یا شکایت کا فوری ازالہ نہ کیا جائے اور اسے حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کسی ارسطو جیسی عقل کی ضرورت نہیں کہ ایسی بے عملی آخر کارکن نتائج پر منتج ہوسکتی ہے۔؟ چونکہ ایک ہم سیاسی جماعت الیکشن کی شفافیت پراپنے تحفظات کا اظہار کررہی تھی، تو اس کے ان تحفظات کو دور کیا جانا ضروری تھا۔ بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکمران ہر بات کو اتنا سہل اور آسان لیتے ہیں کہ بعد میںکئے گئے ان کے فیصلوں کی افادیت صفر ہوجاتی ہے، ہمارے ملک کے برسراقتدار طبقے نے ہر فیصلہ وقت گزرنے کے بعد کیا۔

حکومت نے تحریک انصاف کے مطابات کوپرکاہ کے برابربھی اہمیت نہ دی بلکہ وقت گزاری کے فارمولے کے تحت اس معاملے کو طوالت دی گئی ۔ آج اگر تحقیقاتی کمیشن کا اعلان ہوسکتا ہے تو پہلے کیوں نہیں اور اتنا وقت ضائع کرکے حالات کو موجودہ نہج پر لانے کی ذمہ داری سے حکومت کیونکر بری الذمہ ہوسکتی ہے۔ اگر مطالبہ کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے اس پر پہلے توجہ دی جاتی تو آج حکومت کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے اور قوم جس ہیجان میں مبتلا ہے اسے اس کا سامنانہ کرنا پڑتا ۔ اب جبکہ عمران خان نے مطالبہ کی پذیرائی ہوتی ہوئی تو دیکھ کر آزادی مارچ کا سہارا لیا ہے تو حکومت بھی ہر پہلو پر بات کرنے پر تیار نظر آتی ہے۔ اسی طرح طاہر القادری کے گھر کے اردگرد رکاوٹیں ہٹانے کے نام پر جو خونی کھیل کھیلا گیا اگر اس کو بھی بروقت اقدامات کے ذریعہ حل کرلیا جاتا تو شاید حالات آج مختلف ہوتے۔

اب جو کچھ ہوچکا اس کو ماضی کا باب سمجھ کر نئے سرے سے معاملات کو حل کرنے کی کوشش ہونی چاہئے۔ معاملات جس نہج پر پہنچ گئے ہیں، ان سے واپسی کا راستہ ڈھونڈنا ہر سیاسی پارٹی کا فرض ہے، ملک کی تقریباً ساری سیاسی قوتیں آئین، جمہوریت کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کی پشت پر کھڑی ہیں۔ قومی اسمبلی میں جمہوری نظام کے بچاﺅ کے ضمن میں قرارداد بھی پاس ہوچکی ہے۔ عمران خان نے جو مطالبات پیش کئے ہیں، ان کو تسلیم کیا جانا محل نظر دکھائی دیتا ہے۔ وہ وزیراعظم سے استعفا لئے بغیر اسلام آباد سے مراجعت پر آمادہ نظر نہیں آئے۔ اگرچہ عمران خان کے مطالبات غیر آئینی نہیں، لیکن فی الوقت ان کا تسلیم کیا جانا قرین قیاس نظر نہیں آتا۔ ادھر قادری صاحب نے دس نکاتی چارٹرآف ڈیمانڈ دیا ہے وہ بھی غیر آئینی نہیں لیکن ان کا بھی تسلیم کیا جانا فی الوقت ناممکن نظر آتا ہے۔ بات چیت کے ذریعے معاملات کا حل جمہوریت کا بہترین وطیرہ ہے لیکن بات چیت کے لئے فریقین کو لچک کا مظاہرہ کرنا پڑے گا۔

 یوں لگتا ہے کہ عمران خان نے اپنی کشتیاں جلادی ہیں اور واپسی کے سارے راستے بند کردیئے ہیں اور جس مقام پر وہ پہنچ چکے ہیں، وہاں سے پسپائی ناممکن نظر آتی ہے، بلکہ انہوں نے سول نافرمانی کی کال دے کر اپنی سیاسی ساکھ کو بھی داﺅ پر لگانے سے گریز نہیں کیا۔ وزیراعظم کے استعفے کو سرفہرست رکھ کر تحریک انصاف نے مذاکرات کے دروازے تقریباً بند کردیئے ہیں۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس مطالبے کو آخری حربے کے طورپر استعمال کیا جاتا، لیکن انہوں نے ایسا کرکے خود کو ایک بند گلی میں لاکھڑا کیا ہے، اور قوم کو بھی ان حالات میں کوئی راستہ سجھائی نہیں دیتا۔ اگر عمران خان جمہوریت کی بقا چاہتے ہیں اور آئین کو بچانے کے خواہش مند ہیں تو پھر ان کو مذاکرات کو راستہ دینا ہوگا۔ کیونکہ اگر اس وقت کوئی راستہ کھلا نہ رکھا گیا تو اندھیروں اور تاریکی کا ایک ہی راستہ رہ جاتا ہے جو اس قوم کا مقدر بن سکتا ہے۔ اس لئے تحریک انصاف کے لئے سیاسی طورپر بہتر ہے کہ وہ کوئی راستہ نکالے، ورنہ وہ کچھ بھی حاصل نہ پائے گی ۔ یہ بات کسی کی ہار اور کسی کی جیت نہیں ہوگی، بلکہ پوری قوم کے لئے حزیمت ہوگی اور جمہوریت کے لئے کیا گیا اب تک کا سفر بھی کھوٹا ہو جائے گا۔ اس لئے سیاسی قائدین کو ضد چھوڑ کر حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ آج جو عناصر حکومت کی پشت پر کھڑے ہیں، ان کا فرض ہے کہ حالات کی سنگینی کا ادراک کرتے ہوئے دوسرے فریق کی بھی اشک شوئی کریں اور اسے اس بندگلی سے نکالنے کے لئے بھرپور کردار ادا کرے۔

جو لوگ جمہوریت کی بقا کا درد محسوس کررہے ہیں، اس کا احساس ان کو پہلے ہی ہو جانا چاہئے تھا۔ اب وقت کا تقاضا ہے کہ احتجاج کرنے والی جماعت کو اعتماد دے کر اسے اس بندگلی سے نکالا جائے۔ حکومتی زعماءایسے بیانوں سے احتراز کریں جو جلتی پر تیل کا کام کریں۔ اگر جمہوریت کو بچانا ہے تو یہ لوگ حکومت کو مجبور کریں کہ وقت گزاری کا روایتی طریقہ چھوڑ کر بامقصد مذاکرات کے ذریعے اس بحران کا حل تلاش کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ احتجاج کرنے والوں کو حالات کی سنگینی کا احساس کرنا ہوگا۔ وگرنہ کسی حادثہ کی صورت میں ان کا کردار بھی بری الذمہ نہ ہوگا۔ اگر تحریک انصاف اپنے اندر لچک پیدا نہیں کرے گی، تو خاکم بدہن جمہوریت کی حاصل شدہ موجودہ منزل کھوبھی سکتی ہے۔ اس لئے مطالبات قابل عمل اور قانونی دائرے کے اندر رہ کرکئے جانے چاہئیں تاکہ فریقین کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر کسی تصفیئے پر پہنچ سکیں۔ میرے ذاتی خیال میں دانش مندی اور دانائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قربانی کا جذبہ دونوں طرف موجود ہونا چاہئے۔ حکومت کو اس سلسلے میں پہل کرکے مظاہرین کی اشک شو کا کچھ نہ کچھ انتظام کرنا چاہئے۔

 اس حقیقت سے کون انکار کرسکتا ہے کہ حالات کو اس مقام پہنچانے میں اس کا بڑا ہاتھ ہے، اس لئے جمہوریت سے وابستگی کا درس دینے کی بجائے اسے کسی عملی قربانی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ آئین کی بالادستی اگر کسی قربانی کی متقاضی ہے تو وہ قربانی فریقین کو دینی پڑے گی۔ جو بھی فریق ایسا کرنے میں پہل کرے گا، عوامی ہمدردیاں اس کے ساتھ ہوں گی۔ عوامی تحریک کو بھی یہی روش اختیار کرنا پڑے گی، وگرنہ اس ملک کے کروڑوں لوگ اس کوسراہ نہیں سکے گے۔ مظاہرین کے سربراہوں کو اپنے مطالبات اس حدتک رکھنے پڑیں گے جس سے آئین اور جمہوریت کی بقا کا راستہ پیدا ہوسکے۔ لچک کے بغیر اس بندگلی سے نکلنا محال ہوگا اور حکومت کا رول اس وقت سب سے زیادہ عمل کا متقاضی ہے ، لیکن اس کے ساتھ ساتھ عمران خان کو بھی حوصلے مندی سے قوم کے لئے آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ ان کا یہ رول قوم میں سراہا جائے گا، نظام کو یرغمالی ہونے سے بچایا جائے اور جمہوریت کو خطرات سے نکالا جائے اور ایسا رویہ نہ اپنایا جائے کہ آنے والا مورخ یہ لکھے کہ یہ جمہوریت کی بقاکی کوئی جنگ نہیں تھی بلکہ شخصیات کا ٹکراﺅ تھا اور خدا نہ کرے شخصیات کے اس اژدھام میں آئین لپیٹ دیا جائے۔ یہی اصل امتحان ہے جو یہ ثابت کرے گا کہ واقعی قوم جمہوریت کے لئے مخلص تھی اور یہ کہ واقعی سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کی جڑیں مضبوط ہوچکی ہیں کیونکہ ایک دوسرے کے نقطہ¿ نظر کو سمجھ کر آگے بڑھنا ہی جمہوریت کی روح ہے۔

مزید :

کالم -