موجودہ بحران کا ممکنہ ’آئینی‘ حل

موجودہ بحران کا ممکنہ ’آئینی‘ حل
موجودہ بحران کا ممکنہ ’آئینی‘ حل

  

وزیراعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ لوگوں کو ٹرانسپورٹ چاہیے، سڑکیں چاہئیں، دو وقت کی روٹی اور بجلی ان کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم کی بات تو بالکل درست ہے کیونکہ یہ تمام باتیں جو انہوں نے کی ہیں وہ ہماری بنیادی ضرورت ہیں لیکن انصاف کا کیا جائے جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لئے ضروری ہے لیکن جب ترجیح صرف پل اور سڑکیں ہوں تو پھر انصاف پر توجہ نہیں دی جاتی۔ جو لوگ اس وقت شاہراہ دستور پر بیٹھے ہیں وہ ان میں سے کسی بھی چیز  کا مطالبہ نہیں کررہے وہ صرف انصاف کی تلاش میں ہیں۔گو کہ اس میں سیاسی رنگ ضرور موجود ہے لیکن تمام قوم یہ ضرور جانتی ہے کہ پاکستان میں انصاف آسانی سے نہیں ملتا۔

تاہم وزیراعظم کے بیان کی روشنی میں میرے ذہن میں ایک ممکنہ ’آئینی ‘حل آیاہے جس سے یہ بحران ختم نہیں تو کم از کم غیر معینہ مدت کے لئے حل ضرورہوسکتا ہے ۔یہ حل یقیناً سڑکیں اور پل بنانے والی حکمران جماعت کو ضرور پسند آئے گا اور وہ اس پر فوراً عمل درآمد بھی شروع کر سکتی ہے۔اگر تمام شاہراہ دستور پر ایک شاندار فلائی اوور بنادیا جائے اور اس عالیشان فلائی اوور میں سے ایک راستہ سپریم کورٹ، ایک ایوان وزیراعظم، ایک قومی اسمبلی اور اسی طرح باقی اہم عمارتوں کو دے دیاجائے اور مظاہرین کو وہیں بیٹھا رہنے دیا جائے تو یہ بحران صرف اور صرف آئین کے اصولوں کے اندر رہتے ہوئے حل ہوجائے گا۔ تمام اعلیٰ عہدیداران جو موجودہ احتجاج کی وجہ سے اپنا کام نہیں کر پا رہے اور اپنے دفاتر پہنچنے میں مشکل کا شکار ہورہے ہیں، وہ اس فلائی اوور کے بعد بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے دفاتر میں پہنچ سکیں گے اور دن رات ملک و قوم کی خدمت کر سکتے ہیں۔رہے مظاہرین تو وہ چاہیں تومزید کئی دہائیاں شاہراہ دستور پر بیٹھ سکتے ہیں۔ اس طریقے سے آئین کے اندر رہتے ہوئے ہم اس بحران سے ناصرف چھٹکارا پالیں گے بلکہ آنے والے دنوں میں بھی اگر کوئی غیر آئینی طریقے سے حکومت کا خاتمہ کرنا چاہے تو وہ بھی نہ ہوسکے گا۔مستقبل کے مظاہرین نئے بننے والے فلائی اوور کے نیچے بیٹھ کر دل بھر کے احتجاج کر سکتے ہیں جبکہ حکومتی اہلکار فلائی اوور کا استعمال کرکے اپنی عمارات میں پہنچ سکتے ہیں۔ اس فلائی اوور سے نا صرف دارلحکومت خوبصورت نظر آئے گا بلکہ مستقبل میں کسی بھی قسم کے غیر آئینی اقدام سے بھی بچا  جاسکےگا۔

مزید :

بلاگ -