کشمیربھارت کا اٹوٹ انگ کیسے؟

کشمیربھارت کا اٹوٹ انگ کیسے؟
 کشمیربھارت کا اٹوٹ انگ کیسے؟

  

گجراتی مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی اس تاک میں ہے کہ وہ اپنا بزدلانہ اورظالمانہ ’’وہی گجراتی نسخہ ‘‘پورے براعظیم کے مسلمانوں پر کس طرح آزمائے ؟ یا دوسرے لفظوں میں پرانا مہاسبھائی منصوبہ کب اور کہاں سے شروع کرے یعنی مسلمانوں کو زبردستی ہندو بناؤ ، یا بھگاؤیا خاک میں دفن کر دو! اپنے زعم میں گھمنڈی اور نسل پرست برہمن’’ملیچھ اور نا پاک‘‘مسلمانوں کو برابر کا شہری مان کر زندگی گذرانے کا موقع نہیں دینا چاہتا ! لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈر ہندو کی مکاری اور چالبازی کا جواب تو کیا لائیں گے وہ ان دغا بازیوں کو سمجھنے سے ہی قاصر ہیں بس بھیگی بلی بن کر بزدلی، شرمندگی اور خوف میں زبان کھولنے سے بھی عاجز ہیں، جو کچھ وہ کہہ دیتا ہے اسے خاموشی سے مان لیا جاتا ہے ، قائد کی وفات کے بعد گزشتہ ستر سال سے میں یہی دیکھ رہاہوں !

نام نہاد اُونچی ذات کا ہندو بر ہمن اور بنیا ایک ہزار سال سے اکبر بادشاہ کا ’’کافرانہ نسخہ‘‘ آزمارہا ہے کہ مسلمانوں کو اسی طرح ہندو مزاج۔ یعنی ہندو مت میں گھل مل جانا ۔ بنا دو جس طرح اکبر نے اپنے درندہ صفت ہندو کارندوں سے’’ہندو مزاج مسلمان‘‘ پیدا کئے تھے سچ تو یہ ہے کہ اسلام اورمسلمانوں کو جتنا نقصان برہمن کے سدھائے ہوئے ’’ہندو مزاج مسلمانوں‘‘ سے پہنچا اتنا خود برہمن نہیں پہنچا سکا! آج بھی برہمن اپنے بھارت، بنگلہ دیش حتی کہ پاکستان اور کشمیر میں بھی اپنے ہندو مزاج مسلمانوں یعنی ہندو کے رنگ میں رنگے ہوئے دھونس اور لالچ سے ورغلائے ہوئے مسلمانوں سے کام لے رہا ہے مگر ہمارے لیڈر اس کا جواب ڈھونڈھنے سے عاجز ہیں اور ہندو مزاج مسلمانوں سے نقصان پر نقصان اٹھائے جا رہے ہیں !

برہمن کا دعویٰ یہ ہے کہ براعظم کی زمین کا اصل مالک تو آریائی ہندو ہیں مسلمان تو باہر سے آئے ہیں اس لئے یہاں سے چلے جائیں یا ہندو بن جائیں ورنہ مرنے کے لئے تیار ہو جائیں حالانکہ آریائی برہمن خود بھی باہر سے آیا ہے یہاں کا اصل باشندہ تو دراوڑ ہے جسے اچھوت بنا دیا گیا ہے، مسلمان کی طرح برہمن بھی باہر سے آیا تھوڑے سے عرصہ کا فرق ہو گا جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، مسلمان نے ایک ہزار سال تک پورے براعظم پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کی ہے جبکہ ہندو تاریخ میں پورے براعظم کا حکمران تو کبھی رہا ہی نہیں! مسلمان نے اپنے ایک ہزار سے زائد عرصہ حکومت میں اس زمین کی تعمیر و ترقی میں وہ کام کئے ہیں جو آج بھی دُنیا کے عجائبات میں سے ہیں !مسلمان نے اپنے طویل عہد حکمرانی میں سے انصاف اور پر امن بقائے باہمی ناقابل فراموش مثالیں قائم کی ہیں مگر ہندو نے صرف ستر سالہ حقیر دور حکمرانی میں ظلم و بے انصافی، انسانیت سوزی، درندگی، کمینگی اور بداخلاقی کی حد کر دی ہے! مگر ہمارے لیڈر برہمن کو منہ توڑ جواب دینے سے عاجز ہیں !

مظلوم کشمیری مسلمانوں سے کیا ہو رہا ہے ؟ ستر سال سے ہندو فوج کی درندگی کی زد میں ہیں مگر ہم ایک ’’آزاد ملک اور آزاد قوم ‘‘صرف تماشا دیکھ رہے ہیں حالانکہ کشمیر تو ہمارا اپنا مسئلہ ہے ہم اس کے لئے جو چاہیں کرسکتے ہیں، دنیا کے گوشے گوشے میں جا کر فریاد کر سکتے ہیں ، اقوام متحدہ کا دروازہ بھی کھٹکھٹا سکتے ہیں، دُنیا میں ہر جگہ ہندوکو ننگا کر سکتے ہیں، یہ ہماراحق بھی ہے اور ہمارا فرض بھی ہے مگر ہم اسے نہیں جانتے! ہندو دُنیا کے سامنے بہانہ کرتا ہے کشمیریوں کو حق دینے سے اس کے دوسرے صوبے بھی یہ حق مانگیں گے اس لئے دُنیا خاموش ہو جاتی ہے کیونکہ ہماری زبانیں گنگ ہیں! ہم دُنیا کو یہ بتانے سے بھی عاجز ہیں کہ کشمیر بھارت کے دوسرے علاقوں کی طرح نہیں ہے! باقی علاقے تو ہندو کا داخلی معاملہ ہے مگر کشمیر باقی ہندو علاقوں سے قطعی مختلف ہے!کشمیر کو تو ہندو خود متنازعہ بنا کر اقوام متحدہ میں لے گیا تھا اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے دونوں ملکوں کو پابند کیا ہوا ہے کہ وہ مظلوم و محروم کشمیریوں کو آزاد رائے شماری کا حق دیں گے۔

اس کے بعد جب نہرو نے دیکھا کہ مجاہدین کشمیر سری نگر سے دور ہوگئے ہیں اور راستہ خالی ہے توظالم نے فوجی چڑھائی کر کے غاصبانہ قبضہ کر لیا، سات آٹھ لاکھ ہندو فوج ستر سال سے ان کے خلاف سامراجی زندگی کا ارتکاب کر رہی ہے! اس کشمیر کو ہندو اپنا اٹوٹ انگ کیسے اور کیوں کہتاہے؟ یہ جھوٹ ہے! بھارتی قبضہ کو نہ کشمیری مانتے ہیں، نہ اقوام متحدہ تو ڈھیٹ اور مکار ہندو اسے اپنا اٹوٹ انگ کیوں کہے جا رہا ہے؟ہم اس جھوٹے کو دُنیا کے سامنے جھٹلاتے کیوں نہیں ہیں !یہ تو دنیا کو دھوکا دے رہا ہے اور ہم خاموش ہیں !حق بات کہنے سے ڈرتے ہیں، اپنا حق مانگنے سے بھی عاجز ہیں! یہ کہنے سے بھی شرماتے ہیں کہ کشمیر پر صرف کشمیریوں کا حق ہے اور ہم یہ حق انہیں دلا کر رہیں گے! ہمارے پاس کوئی محمد علی جناحؒ ہونا چاہئے جو ہندو کو منہ توڑ جواب دے! ہندو کی بے شرمی کی حد ہوگئی کہ وہ پاکستانی نمائندوں کو اپنے کشمیر ی بھائیوں سے ملنے اور بات بھی نہیں کر نے دیتا! ہم کوئی غلام ہیں ہندوکے! ہم ہندو کی بے شرمی سے دُنیا کو آگاہ کیوں نہیں کر تے! آخر ہم اقوام متحدہ میں ہندو کے اس جھوٹے دعوے کو بے نقاب کیوں نہیں کرتے! یا اس انتظار میں ہیں کہ مودی مہا سبھائی منصوبہ پر عمل کے بعد سیکیورٹی کو نسل کا رکن بن جائے!؟

مزید :

کالم -