نازک حالات کا تقاضا۔۔۔۔۔۔

نازک حالات کا تقاضا۔۔۔۔۔۔
 نازک حالات کا تقاضا۔۔۔۔۔۔

  

احتساب وقت کی اہم ضرورت ہے، لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ احتساب سب کا کیا جائے، اس میں چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں ہونی چاہئے۔ ملک کا وزیر اعظم احتساب کی زد میں آ سکتا ہے تو پٹواری کیوں نہیں؟ اب تو تھانے دار پر بھی احتساب کی تلوار چلنی چاہئے۔ محض اقامہ کی بنیاد پر وزیر اعظم کو نااہل کیا جا سکتا ہے تو ہزاروں سے کروڑوں کی کرپشن کرنے والے سرکاری افسران پر نگاہ کیوں نہیں پڑتی؟ کروڑوں عوام کے ووٹ سے منتخب میاں محمد نوازشریف کو بیٹے کی کمپنی سے تنخواہ نہ لینے کی سزا دے دی گئی، لیکن عوام کی جیبیں خالی کرنے والوں پر کسی کی ’’نظر التفات‘‘ کیوں نہیں پڑرہی؟ اقامہ کے قانونی یا غیر قانونی ہونے کی بحث تو کی جاتی ہے، لیکن ہر روز کی جانے والی لاقانونیت اور انصاف کش کارروائیاں، جوابی کارروائی کی زد میں کیوں نہیں آتیں؟ یہ کہہ کر جان چھڑوا لینا کہ کاموں میں نیت بھی دیکھی جاتی ہے، لیکن اقامے کے معاملے میں نیت کیوں نظر انداز کی گئی، اس سے در گزر بھی کیا جا سکتا تھا۔ بقول سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی یہ کچھ اور ہی تھا جس کی سزا دی گئی، یہ تو انہوں نے 2014ء میں ہی کہہ دیا تھا۔

بہر حال جو کچھ بھی ہو گیا، اب یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے اور تصادم یا مخالفت برائے مخالفت کی کارروائیاں بند کر کے ملک اور قوم کی بہتری کے لئے مشترکہ جدوجہد کی جانی چاہئے۔ قومی سیاسی جماعتوں کے قائدین پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ فروعی اختلافات ختم کر کے قومی سوچ کو جنم دیں اور ڈائیلاگ کی جو صورت پیدا ہو رہی ہے، اسے کامیاب بنا کر ہم آہنگی کی فضا پیدا کی جائے۔ ذاتی مفادات یا اختلافات کی بجائے ملک کی فکر کرنی چاہئے؟ اپنی ضد پر اڑے رہنا یا اپنی خو نہ چھوڑنا ہمیشہ نقصان دہ ہوتا ہے۔ ایک اور اہم بات جسے تنقید نہ سمجھا جائے، وہ ریاست کے چوتھے ستون میڈیا کے بارے میں ہے ۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ دور میڈیا کا ہی ہے، اس کی افادیت اور اہمیت سے کسی طور انکار بھی ممکن نہیں، اسی کی بدولت آج دنیا ایک گاؤں میں تبدیل ہو چکی ہے اور گلوبل ویلج کے تصور نے پنجے گاڑ لئے ہیں۔ اس وقت بعض چینلز پر چلائے جانے والے ٹاک شوز کسی طور بھی قومی خدمت کا باعث نہیں بن رہے، بلکہ ان سے بگاڑ کی صورت پیدا ہو رہی ہے۔

بعض اینکرز اور ٹاک شو کے شرکاء جس طرح کی زبان استعمال کرتے ہیں، وہ معاشرے میں مایوسی ، اضطراب اور ہیجان کو جنم دینے کا باعث بن رہے ہیں۔

ایک دوسرے کو گالیاں دینے کا سلسلہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے ، مخالف کو زیر کرنے کے لئے جھوٹ سچ کے قلابے ملائے جاتے ہیں اور اپنی تعریف میں جھوٹ کو اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ سچ معلوم ہو۔ میاں محمد نواز شریف کی نااہلی کے حوالے سے پانامہ کیس ، جے آئی ٹی یا اب نیب کے معاملات کو ہی لے لیجئے، بیشتر ٹاک شوز اس حوالے سے جو کچھ پیش کر رہے ہیں، وہ کون سی قومی خدمت ہے؟اب تو گڑے مردے اکھاڑے جا رہے ہیں اور خارجہ امور کا بھی کچھ خیال نہیں رکھا جا رہا ۔ دوست ممالک کو دشمن ظاہر کرنے کا بھی کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا جاتا اور دشمن ملک کو دوست بنا کر پیش کرنا بھی وطیرہ بنتا جا رہا ہے۔ خدا ان اینکرز کا بھلا کرے اور انہیں ہدایت دے جو سوچے سمجھے بغیر جو منہ میں آئے کہہ دیتے ہیں ، چھوٹے بڑے کی تمیز ہے اور نہ اخلاقیات کا کوئی پاس۔

ایسے چینلز کی انتظامیہ نے شاید کوئی ضابطہ اخلاق متعین ہی نہیں کیا اور اپنے سٹاف ممبرز کو مادر پدر آزادی دے رکھی ہے، اسی وجہ سے وہ پروگرام کے آغاز سے اختتام تک اپنی گفتگو کا مرکز و محور لعن طعن ہی رکھتے ہیں ۔ میری ایسے اینکرز ، شرکائے پروگرام اور چینل انتظامیہ سے دست بستہ عرض ہے کہ وہ حدود و قیود کا خیال رکھیں اور قومی سوچ کو جنم دینے والے موضوعات اور الفاظ کا انتخاب کیا کریں۔ ہم آج جس صورت حال سے گزر رہے ہیں، وہ نہایت احتیاط اور برد باری کی متقاضی ہے، ایسا نہ ہو کہ ہم فروعی اختلافات کو خد ا نخواستہ قومی نقصان میں تبدیل کر لیں۔ ایک تجویز یہ بھی ہے کہ سینئر صحافی خواتین و حضرات اس غیر ذمہ دارانہ رویے کی طرف توجہ دیں اور مالکان یا کارکنان صحافیوں کی تنظیموں کو ایک پلیٹ فارم پر بٹھا کر اور متعلقہ اداروں سے مل کر کوئی تحریری ضابطہ اخلاق یا طریقہ کار وضع کر لیں جس کی پابندی ہر ایک پر لازم ہو۔

مزید : کالم