پاک بھارت مذاکرات، چین کی مخلصانہ مساعی

پاک بھارت مذاکرات، چین کی مخلصانہ مساعی

  

چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے کہا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بہتری میں کردار ادا کر سکتی ہے،تنظیم کے فریم ورک میں پاک بھارت تعلقات میں بڑی بہتری کی توقع ہے، چین دونوں ممالک کے درمیان تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کرانے میں مثبت کردار ادا کرنے کا خواہش مند ہے، شنگھائی تعاون تنظیم کے ذریعے خطے میں دہشت گردی کا مقابلہ بھی کیا جا سکتا ہے۔پہلی بار پاکستان اور بھارت کے فوجی دستوں نے روس میں اس تنظیم کے تحت دہشت گردی کے خلاف بڑی مشقوں میں حصہ لیا، ان مشترکہ مشقوں کا مقصد اپنے اپنے علاقوں میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہے،یہ مشقیں دفاع اور سلامتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی،چینی وزیر خارجہ نے جو اگلے ماہ پاکستان کے دورے پر بھی آ رہے ہیں اِن خیالات کا اظہار ایک انٹرویو میں کیا۔

چینی حکام کی تو بڑے عرصے سے یہ کوشش رہی ہے کہ بھارت کسی نہ کسی طرح علاقائی مسائل پاکستان کے ساتھ بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہو جائے،اِس مقصد کے لئے چین نے بار بار اپنی مصالحانہ خدمات بھی پیش کی ہیں اور دونوں ممالک میں مذاکرات کے سہولت کار کا کردارا دا کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی ہے،لیکن بھارت اس طرف نہیں آتا۔پاکستان اور بھارت کئی سال سے شنگھائی تعاون تنظیم کے رُکن بھی بن گئے ہیں اور اس پلیٹ فارم کو دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری کے لئے استعمال کرنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔چین اور روس اِس امر کے لئے کوشاں ہیں،لیکن تاحال اُنہیں اِس میں کامیابی نہیں ہوئی۔البتہ پہلی مرتبہ پاکستان اور بھارت کے فوجی دستوں نے مشقوں میں حصہ لیا ہے تو یہ امید ضرور بندھی ہے کہ تعلقات کی بہتری کی جانب مزید قدم بھی بڑھیں گے،لیکن اس سلسلے میں سارک کا تجربہ زیادہ حوصلہ افزا نہیں رہا،علاقائی تعاون کی اِس تنظیم کا سب سے بڑا رکن ملک بھارت ہے اِس لحاظ سے اس پر زیادہ ذمے داریاں بھی عائد ہوتی ہیں،لیکن یہ تنظیم اپنے قیام سے لے کر آج تک اگر کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکی اور اس کے اندر ہونے والے فیصلوں پر بھی پوری طرح عمل نہیں ہو پاتا، حتیٰ کہ سارک کے رُکن ممالک کے باشندے آسانی سے ایک دوسرے مُلک میں آ جا تک نہیں سکتے تو پھر ایسی تنظیم سے کیا توقعات وابستہ رکھی جائیں؟

اسلام آباد میں جو سارک سربراہ اجلاس ہونے والا تھا اور جس کے لئے ہر قسم کی تیاریاں مکمل تھیں، آج تک نہیں ہو سکا۔ سارک کے تجربے کو اگر سامنے رکھا جائے تو شنگھائی تعاون تنظیم(ایس سی او) میں پاکستان اور بھارت کی موجودگی کے باوجود کوئی زیادہ توقعات وابستہ نہیں کی جا سکتیں، البتہ امید کی ایک کرن یہ ضرور ہے کہ اس تنظیم میں چین اور روس بھی موجود ہیں اور وہ اِس مقصد کے لئے کوششیں کرتے رہیں گے۔بھارت، پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کے لئے تیار نہیں اور اس ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہا ہے کہ مذاکرات اگر ہوں گے تو صرف دہشت گردی پر ہوں گے، حالانکہ پاکستان خود دُنیا بھر میں سب سے زیادہ دہشت گردی کا شکار ہوا ہے اور روس نے عالمی فورموں پر کئی بار اعتراف کیا ہے کہ پاکستان نے جرأت کے ساتھ اس چیلنج کا مقابلہ کیا ہے اور دہشت گردی پر بڑی حد تک قابو بھی پا لیا ہے۔روسی نمائندے نے بھارت کے اندر ایک عالمی کانفرنس میں کھل کر کہا تھا کہ جو مُلک خود دہشت گردی کا شکارہے وہ کسی دوسرے مُلک میں اس کا مرتکب کیسے ہو سکتا ہے،جس پر نریندر مودی ناراض بھی ہوئے تھے،لیکن امر واقعہ یہی ہے کہ پاکستان نے خطے میں امن کے لئے اپنی کوششیں کبھی ترک نہیں کیں۔یہ بھارت ہی ہے جو پورے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والے اقدامات کرتا رہتا ہے،افغانستان کے راستے ایسے لوگ پاکستان میں داخل ہوتے ہیں جنہیں بھارتی آشیر باد حاصل ہوتی ہے اور وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرتے ہیں۔ بھارتی انٹیلی جنس افسر کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اس کا ثبوت ہے جس نے اپنے تمام تر جرائم کا اعتراف بھی کر لیا ہے اور انہی اعترافات کی بنیاد پر پاکستان کی عدالت اُسے موت کی سزا کا حکم سُنا چکی ہے۔

بھارت کی اِن ریشہ دوانیوں اور سازشوں کے باوجود پاکستان کا موقف ہمیشہ یہی رہا ہے کہ باہمی تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کئے جائیں،لیکن اس وقت عملاً صورتِ حال یہ ہے کہ مذاکرات کا انعقاد تو بڑی بات، اِن کے آغاز کی بات بھی نئے مناقشات کو جنم دے دیتی ہے،ابھی چند روز پہلے بھارتی وزیراعظم مودی کی جانب سے جو خط وزیراعظم عمران خان کو لکھا گیا اُس میں مذاکرات کا مجرد ذکر ہی متنازعہ بن کر رہ گیا ہے ایسے میں بالفعل اِن کا آغاز کتنا مشکل کام ہے اس کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ بھارتی پنجاب کے ایک وزیر اور سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو وزیراعظم کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لئے آئے ہوئے تھے۔ یہاں انہوں نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ معانقہ کیا کر لیا بھارتی انتہا پسندوں نے مشتعل ہو کر اُن کے سر کی قیمت مقرر کر دی،حالانکہ یہ معانقہ ایک متوقع خوشخبری پر مسرت کے اظہار کا ایک بے ساختہ مظاہرہ تھا، جس میں سدھو کو بتایا گیا تھا کہ بابا گورو نانک کی550 ویں سالگرہ کے موقع پر ڈیرہ بابا نانک سے پاکستان کے ضلع نارروال میں واقع کرتار پور صاحب تک سکھ یاتریوں کو آنے کے لئے ’’کوریڈور‘‘ مہیا کیا جائے گا۔اب اِس اظہارِ مسرت پر بھی اگر سدھو کے ہم وطن اُس کے سر کی قیمت مقرر کر دیتے ہیں تو تصور کیا جا سکتا ہے کہ کسی قسم کے مذاکرات کا شروع ہو کر نتیجہ خیز ہو جانا کس قدر مشکل کام ہے۔

چین کے صدر شی چن پنگ نے جب سے’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کے منصوبے کے تحت خطے کے ممالک کو باہم مربوط کرنے کا پروگرام شروع کیا ہے اُن کی پوری کوشش رہی ہے کہ بھارت بھی اِس میں شرکت کرے،لیکن نریندر مودی سی پیک کی وجہ سے اتنے جلے بُھنے بیٹھے ہیں کہ عقل و دانش کی بات بھی سننے کے لئے تیار نہیں اور عالمی ترقی کے ایک شاہکار منصوبے کو ہدفِ تنقید بنانے کے ساتھ ساتھ سی پیک کے بارے میں بھی متنازعہ بیانات دیتے رہتے ہیں،یہاں تک کہ انہوں نے امریکی رہنماؤں کے کان میں پھونک دیا کہ اگر سی پیک مکمل ہو گیا تو پاکستان میں چینی اثرو رسوخ بہت بڑھ جائے گا اِسی وجہ سے امریکی حکام نے پہلے سی پیک کے خلاف بیان داغا اور پھر آئی ایم ایف کو خبردار کیا کہ وہ پاکستان کو قرضے دیتے وقت یہ خیال رکھے کہ ان قرضوں کو چینی قرضوں کی ادائیگی کے لئے استعمال نہ کیا جائے،حالانکہ اگر بھارت خود ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ منصوبے کا حصہ بنتا تو اِس کے لئے بہتر ہوتا،بھارتی منفی رویئے کے باوجود چین یہ کوششیں کرتا رہتا ہے کہ بھارتی رہنما خوشحالی کے راستے پر گامزن ہوں اور جنگ و جدل کا پرانا رویہ ترک کر کے مستقبل کو تابناک بنانے کے لئے کام کریں،جب چینی وزیر خارجہ یہ کہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات طے کرنے چاہئیں تو اس میں بھی ان کی یہ خواہش جھلکتی ہے کہ خطے کے اربوں عوام امن و سکون کے ساتھ ترقی کے سفر پر آگے بڑھیں، اِس لئے اب اگر چین مصالحت کے لئے اپنا کردار پیش کر رہا ہے تو بھارت کو اس کا مثبت جواب دینا چاہئے۔چینی قیادت نے ہمیشہ خطے میں مدبرانہ پالیسیاں اپنائی ہیں اور جن ممالک سے اُس کے تنازعات ہیں اُن کے ساتھ بھی الجھنے کی بجائے مذاکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا ہے اور اپنے وسائل عوام کی بہبود کے لئے وقف کئے ہیں،بھارت بھی اگر ایسا کرے تو خطہ امن کا گہوارہ بن سکتا ہے۔

مزید :

رائے -اداریہ -