اُم الخبائث: مغربی تحقیق، الہامی راہنمائی اور پاکستانی معاشرہ

اُم الخبائث: مغربی تحقیق، الہامی راہنمائی اور پاکستانی معاشرہ

دنیائے طب کے معروف تحقیقی جریدے لین سیٹ(Lancet) کی ایک حالیہ ہمہ جہت تحقیقی رپورٹ کے مطابق ’’ان تمام لوگوں کے لیے بُری خبرسامنے آئی ہے جو دن میں شراب کا ایک جام نوش کرنا صحت کے لیے فائدہ مند سمجھتے ہیں۔‘‘ یہ تحقیق یونیورسٹی آف واشنگٹن کے ڈاکٹر گرِسولڈ(Griswold) کی سرکردگی میں محققین کی ایک جماعت نے کی ہے۔ تحقیقی نتائج مغربی ملکوں کے ذرائع ابلاغ کی خاصی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ ادارے اور افراد ان تحقیقی نتائج کو اپنے اپنے نقطۂ نظر سے ممکنہ حد تک شائع کر رہے ہیں۔ ممکن ہے، ان کا کوئی حصہ پاکستانی ذرائع ابلاغ میں بھی آیا ہو لیکن جس وسیع پیمانے پر مغربی ذرائع ابلاغ اس تحقیقی رپورٹ کو عامۃ الناس تک بحسن و خوبی پہنچا رہے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ پاکستانی پریس میں اس کا کوئی معمولی سا حصہ بھی کسی کو پڑھنے کو ملا ہو۔اس رپورٹ کے اصل الفاظ کا کچھ حصہ ملاحظہ ہو:

The researchers admit moderate drinking protect against heart decease but found that the risk of cancer and other deceases overweighs these protection. ترجمہ:محققین قرار دیتے ہیں کہ متوازن شراب نوشی امراض قلب سے تو تحفظ دیتی ہے لیکن معلوم ہوا کہ سرطان اور دیگر امراض سے متعلقہ خطرات اس فائدے سے کہیں زیادہ ہیں۔

اب ذرا ہم چودہ سو سال قبل اداشدہ ان الفاظ پر نظر ڈالتے ہیں جو ایک اُمّی ؐ (مطلقاً ناخواندہ) کی زبان سے ادا ہوئے تھے اور جن کے بارے میں اس اُمّی ؐکا کہنا تھا کہ کائنات کی بے کراں و نامعلوم وسعتوں کے اس پار سے یہ الفاظ اس کائنات کے خالق کے ہیں۔ یہ الفاظ خالقِ کائنات کی طرف سے اس کا خاص فرستادہ جبرئیل ؑ لایا تھا اور الفاظ اپنی اصل شکل میں آج ہمارے ہر گھر میں مطبوعہ اور لاتعداد سینوں میں محفوظ ہیں۔ ملاحظہ ہو ’’یہ دونوں ]شراب ا ور جُوا[ بہت مُضر ہیں، اگرچہ یہ لوگوں کے لیے کچھ سودمند بھی ہیں مگر ان کا ضرر ان کے فائدے سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘ (قرآن 2:219)

لین سیٹ کی اس مطبوعہ رپورٹ میں تحقیق پر اٹھنے والے اخراجات کا تذکرہ مجھے کوشش کے باوجود نہیں ملا۔ لیکن مغربی طرزِ زندگی اور وہاں کی جامعات کے پروفیسروں کی تنخواہوں، تحقیق کے معروف لوازم اور ان جیسے دیگر عوامل کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا آسان ہے کہ اس سارے کام پر ملین کے حساب سے ڈالر خرچ ہوئے ہوں گے۔ پاکستانی جامعات کے محققین کے تحقیقی منصوبہ جات کی منظوری میرے پاس آیا کرتی ہے۔ اپنے ملک میں یہ منصوبہ لائق اعتنا ہوتا تو اس کام کے لیے ایک کروڑ روپوں سے کیا ہی کم مانگے جاتے۔ چلئے امریکہ میں ہم اسے ایک کروڑ ڈالر سمجھ لیتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ مذکورہ بالا 22 الفاظ کی تلاش میں سرگرداں مغربی محققین نے اندازاً ڈیڑھ ارب روپے پاکستانی خرچ کر دئیے۔ یہ ان لوگوں کی حالت ہے جو علم کو اس وقت تک علم نہیں قرار دیتے جب تک وہ کسی تجربے سے ثابت نہ ہو جائے۔ رہی الہامی راہنمائی تو اسے علم قرار دینا ان لوگوں کی لغت میں موجود ہی نہیں ہے۔ مذکورہ بالا تحقیقی رپورٹ کے مرتبین کا کہنا ہے کہ ’’یہ تحقیق سب سے زیادہ ہمہ جہت تحقیق ہے اس لیے کہ اس میں مختلف النوع عوامل کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔‘‘

اُمّی ؐکی زبان سے ادا شدہ الفاظ صرف گیارہ ہیں جو بغیر کسی تحقیق کے ادا ہوئے ان پر ایک پیسہ پائی خرچ نہیں ہوا۔ ادھر اربوں روپے خرچ کرنے کے بعد حاصل شدہ 22الفاظ کا مفہوم مفت میں حاصل 11 الفاظ سے سرِمو مختلف نہیں ہے بلکہ اجازت دیجئے کہ کہہ دوں کہ الہامی الفاظ مجرد بیان تھا جس کی تفسیر مغربی دنیا نے تحقیق کے ذریعے کر دی ہے۔ یہ نمونے کی ایک مثال ہے۔ ورنہ مغربی دنیا کی اصطلاح میں نشاۃ ثانیہ (اُن کی) کی گزشتہ چند صدیوں میں وہ لوگ الہامی کتب بالخصوص قرآن میں مبیّن باتوں کے ایک ایک حرف پر تحقیق کر چکے ہیں۔ اور نتائج ہیں کہ ہر دفعہ وہی نکلتے ہیں جو الہامی کتب میں درج ہوتے ہیں۔ ابھی چند عشرے قبل فرانسیسی طبیب اور محقق موریس بکائی اس سلسلے میں نہایت وقیع کام کرنے کے بعد اپنی تحقیق کو بحسن و خوبی کتابی شکل میں پیش کرنے میں بھی کامیاب ہوئے ،قرآن میں بیان حقائق کو جب انہوں نے تجربہ گاہ میں جانچا پرکھا تو الہامی علم کی سچائی ثابت ہو گئی۔ موریس بکائی مسلمان ہو گئے تھے۔

کوئی تیس پینتیس سال قبل ایک کینیڈین ڈاکٹر نے رحمِ مادر میں جنین کی ابتدائی شکل کا خوردبینی معائنہ کیا تو اس نے جنین کو دانتوں سے چبائے چیونگم جیسا پایا۔اس ڈاکٹر نے قرآن نہیں پڑھا ہوا تھا ،تاہم جب اس کی تحقیق سامنے آئی تو بحث مباحثے میں مسلمان محققین بھی آ گئے۔ تب مغربی جامعات کے محققین کو علم ہوا کہ اس ’’دانتوں سے چبائے چیونگم‘‘ ( اُس زمانے میں دانتوں سے چبائی بوٹی) کے لیے قرآن صرف ایک لفظ ادا کر کے فارغ ہو جاتا ہے: مُضغہ۔لیکن تمام بحث و تمحیص کے باوجود اس کینیڈین ڈاکٹر کے نصیب میں ایمان کا نور نہیں آیا۔ اب میں نہیں سمجھتا کہ صدیوں قبل اُمّی ؐکی زبان سے ادا شدہ لفظ مُضغہ کسی سائنسی تحقیق کے عمل سے گزر کر ان لوگوں کے سامنے آیا تھا۔ مسئلہ سائنسی تحقیق یا اس کے نتائج کا نہیں ، ایمانیات ہے۔ عقل عام انسان کو مسلسل یہ سکھاتی رہتی ہے کہ الہامی راہنمائی پر ایمان لے آؤ۔ اب اس پُکار پر کون لبیک کہتا ہے؟ اس پر کوئی تحقیق ابھی تک سامنے نہیں آ سکی۔ موریس بکائی اور کینیڈین پروفیسر ایک ہی تہذیبی پس منظر رکھتے تھے، دونوں سائینس د ان تھے، دونوں محقق تھے۔ اب معلوم نہیں اوّل الذکر کیوں نورِ ایمان سے بہرہ مندہو گیا اور دوسرا اپنی تحقیق لوگوں کے سامنے تو پیش کرتا رہا اور یہ کام اس نے پو ری دیانتداری سے کیا لیکن جب ایمان لانے کا موقع آیا تو اس نے بڑے تہتک سے کہہ دیا: ’’یہ سب کچھ سامنے آنے کے بعد بھی میں اعلان کرتا ہوں کہ میں مسیحی پیدا ہوا تھا اور مسیحی ہی مروں گا۔‘‘

عقل عام انسانی زندگی میں بشکل اجتماع انسان کی راہنمائی کرتی ہے ،باوجودیکہ اس کے پیچھے ٹھوس سائینسی حقائق نہیں ہوا کرتے۔ مغربی دنیا کے اصل راہنماملک امریکہ میں جمہور کے نمائندگان 1918ء میں اس نتیجے پر پہنچے کہ شراب مضر صحت ہے۔ چنانچہ بذریعہ کسی انتظامی حکم نہیں، ایک دستوری ترمیم کے بموجب ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں (50 ریاستیں) شراب پر پابندی عائد کر دی گئی۔ قارئین کو ان معلومات میں شریک کرنا ضروری ہے کہ امریکی دستور میں ترمیم کا طریقہ کوئی لچک دار یا سادہ سانہیں ہے۔ علمائے سیاسیات اسے سخت گیر(Rigid) طریقہ قرار دیتے ہیں۔امریکی دستور میں ترمیم کے لیے ضروری ہے کہ مجوزہ ترمیم اوّلاً پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے دو تہائی اکثریت سے منظور ہو۔ اس کے بعد یہ ترمیم اسی وقت مؤثر ہوتی ہے جب امریکی ریاستوں کی کل تعداد میں سے کم از کم تین چوتھائی ریاستوں کی پارلیمان اس کی توثیق کریں۔ اندازہ کیجئے ،اس جان توڑ مشق سے گزرنے کے بعد اس ’’اُم الخبائث‘‘ پر 1919ء میں امریکہ بھر میں پابندی لگا دی گئی۔ افسوس یہ بابرکت کام صرف 14 سال چل سکا۔

اب ہم سب پاکستان کی صورتِ حال پر نظر ڈالتے ہیں۔ یہ یاد رہے کہ لین سیٹ نے جس اُم الخبائث کو سامنے رکھ کر تحقیق کی ہے، وہ ان کی انتہائی نفیس، خالص، حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق تیار اور ہر اعتبار سے قابل استعمال شراب تھی۔ اس کے باوجود وہ لوگ بالآخر وہی نتیجہ سامنے لائے جو بغیر تحقیق کے صدیوں قبل ایک اُمّی ؐ نے بتا دیا تھا۔ پاکستان میں بننے اور بکنے والی شراب ایک سطح پر تو کسی قاعدے ضابطے سے گزر کر ہی بازار میں آتی ہے۔ لیکن یہ واضح ہے کہ صنعتی قوانین کے اندر کسی ہوئی یہ شراب بہرحال مغربی ممالک میں تیار شراب کا عشر عشیر بھی نہیں ہوتی۔ اس طرح کی شراب کا حصہ ملکی کھپت میں کچھ زیادہ نہیں ہے۔ دوسری طرف دیسی ٹھرے، کپّی اور اسپرٹ سے تیار شدہ سستی شراب کی گل کاریاں آئے دن ملکی ذرائع ابلاغ میں پڑھنے سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ اس طرح کی تیار شراب پر اگر مغربی ملک تحقیق کریں تو میرا خیال ہے ، وہ ویسے ہی بغیر کسی تحقیق کے الہامی کتب پر ایمان لے آئیں۔

مغربی درآمدی شراب، ملکی شراب، دیسی ٹھرے، کپّی، اسپرٹ ان پانچوں اقسام کی یہ شرابیں ضرر کے اعتبار سے بھی اسی طرح درجہ بدرجہ ہیں جس طرح بیان ہوئی ہیں۔ مغربی درآمدی شراب ظاہر ہے ، انتہائی کم ضرر رساں ہوتی ہے۔ اس کے باوجود وہاں کے محققین اسے اتنا ہی مضر گردانتے ہیں جتنا قرآن بیان کرتا ہے۔ اب ذرا باقی مذکورہ بالا شرابوں کا جائزہ لیں، انہوں نے لاکھوں گھروں میں ماتم بپا کر رکھی ہے۔ ان کی بدولت لاکھوں خواتین بیوہ اور بچے یتیم ہو چکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی کھپت کی مقدار بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ ان حالات میں اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ شراب کی بندش کے ملکی قانون کو مؤثر بنایا جائے۔ اس خواہش یا مطالبے کا تعلق مذہب سے تو ہے ہی لیکن جدید تحقیق بھی انہی الفاظ میں اس کا ضرر بیان کرتی ہے۔ چلئے یہ دونوں عوامل تھوڑی دیر کے لیے نظرانداز کر دئیے جائیں کہ مغربی دنیا میں کون سا کل ہی سے اس تحقیق پر مبنی شراب بندی کے قوانین بننا شروع ہو جائیں گے۔ اس کے باوجود یہ بات زور دے کر کہنا ضروری ہے کہ شراب کی بندش سے متعلق ڈھیلے ڈھالے قوانین اور افسردہ انتظامی مشینری کے باعث ایک اوسط گھرانے کی اقتصادیات کواس اُم الخبائث نے جس بُرے طریقے سے اتھل پتھل کر رکھا ہے، کوئی اور شے اس کے مماثل نہیں ہے۔ گھر کا سربراہ اس کا عادی ہو جائے تو بچوں کی تربیت، پڑھائی، غذا اور لباس ہر شے پر اثر پڑتا ہے۔ معمولی سرکاری ملازم اس کے عادی ہو جائیں تو بدعنوانی اور رشوت کی شکل میں برائیاں ریاستی ڈھانچے کو کھوکھلا کر کے رکھ دیتی ہیں۔ اور جب اس کے حصول میں مالی مشکلات آئیں تو دیکھا گیا ہے کہ اس کے ناقابل بیان مضر اثرات اور اخلاقی مفاسد گھریلو خواتین تک کو لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ریاست کا سربراہ اس کا عادی ہو جائے تو وہ جنرل یحییٰ خان کے روپ میں سامنے آتا ہے اس اُم الخبائث نے اس جرنیل کو کیا سے کیا بنا دیا اس کی تفصیلات بیان کرنے سے اس کالم کا دامن تنگ ہے۔

امید کی جاتی ہے کہ نئی حکومت ان معروضات کو سامنے رکھتے ہوئے اس اُم الخبائث کا داخلہ، تیاری اور کھپت مدینہ کی اس اسلامی ریاست اسلامی جمہوریہ پاکستان میں مطلقاً ممنوع قرار دے گی۔ اس سے میں نے تحریک انصاف کی حکومت کے اس داعیے کی تائید کرنے کی کوشش کی ہے جس کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان،مدینہ کی اسلامی ریاست کے مثل ہو گا۔ بس یہ بتانا ضروری ہے کہ جس دن حُرمتِ خمر کی آیت نازل ہوئی تھی، اس دن مدینے کی گلیوں میں شراب پانی کی طرح بہہ رہی تھی۔اکیسویں صدی کی اس اسلامی ریاست میں یہ تبدیلی کب آئے گی؟ آئینی اعتبار سے تحریک انصاف کی حکومت کے پاس کل پانچ سال ہیں۔ ورنہ عوام اسے نفاق، لفاظی، دو عملی اور ان جیسے دیگر الفاظ سے یاد کرنے اور کہنے میں مطلقاً آزاد ہوں گے۔ ہو سکتا ہے، اللہ آپ کو آزما رہا ہو اور پھر یہ مہلت نہ ملے۔

مزید : رائے /کالم


loading...