ہیں بہت تلخ

ہیں بہت تلخ
ہیں بہت تلخ

  

وہ پانچ بھائی بہن ہیں، دو بھائی اورتین بہنیں۔ وہ سب سے چھوٹا تھا۔ والدصاحب کی بیس ایکڑ زمین تھی۔ وہ میٹرک میں ضلع بھر میں اول آیا تو اسے شہر میں ایک بڑے کالج میں پڑھنے کے لئے بھیج دیا گیا۔ بھائی بڑاہے اور ایف اے کر نے کے بعد بی اے کا طالب علم تھا۔ چھوٹا سا گاؤں تھا اور اس گاؤں میں وہ معقول کھاتے پیتے گھرانوں میں شمار ہوتے تھے،مگر پچھلے دس سال میں عجیب تبدیلی آئی کہ ہر گھر کا کوئی نا کوئی فرد باہر کے کسی ملک میں جا مقیم ہوا۔دیار غیر سے اس کے پیسے بھیجنے سے گھر کی حالت بدلنے لگی۔ چند سال پہلے محلے کے سب گھر ایک منزلہ تھے اور ان کا گھر سب سے وسیع اور بڑا تھا، مگر اب ان کے ارد گرد تمام چھوٹے گھر چار چار منزلہ شاندار چمکتے دمکتے گھروں میں تبدیل ہو چکے تھے۔فقط ان کے گھر کی حالت نہیں بدلی تھی۔ ان دنوں بی اے کے طالب علم بڑے بھائی کو کسی نے باہر بھجونے کی پیشکش کی اور اس کا معاوضہ پانچ لاکھ مانگا۔ پانچ لاکھ مانگنے والے نے بہت سے سبز باغ بھی دکھائے۔ بڑا بھائی جب معاوضے کی خبر کے ساتھ بہت سے سبز باغ لے کر گھر آیا تو سارا گھر سپنوں میں کھو گیا۔سب اس وقت کا سوچنے لگے جب یہ محلے کا سب سے بڑا گھر بھی چار منزلہ اور چمک دمک کے ساتھ لوگوں کو نظر آئے گا تو کیا شان ہو گی۔ایسے بہت سے سپنوں نے انہیں مجبور کیا کہ فوری پانچ لاکھ کا بندوبست کر کے بڑے بھائی کو باہر بھیج دیا جائے۔

گھر میں موجود ساری پونجی اکٹھی کرکے بڑی مشکل سے 20ہزار روپے ہوئے۔پانچ لاکھ ایک بڑی رقم تھی۔ فیصلہ ہوا کہ زمین کسی کو لمبے عرصے کے لئے ٹھیکے پر دے کر یہ رقم حاصل کر لی جائے۔ والد نے کسی شخص سے بات کی اور اپنی دس ایکڑ زمین ایک شخص کو دس سال کے لئے ٹھیکے پر دے کر وہ رقم حاصل کر لی، اس امید کے ساتھ کہ بیٹے کے باہر جانے کے فوراً بعد گھر میں پیسے کی ریل پیل ہو جائے گی اور وقتی طور پر تنگدستی کے یہ دن کٹ ہی جائیں گے۔چند ہفتوں میں بڑا بھائی عزیزوں اور رشتہ داروں کی موجودگی میں ماں باپ اور بہنوں کی دُعائیں لیتے ہوئے عازم سفر ہوا۔کہاں جانا ہے اور کیسے جانا ہے یہ کسی کو معلوم نہیں تھا سوائے اس کے کہ اس کی منزل یورپ کا کوئی ملک ہے۔رابطہ کیسے کرنا ہے اس ہنگامے میں کسی نے سوچا ہی نہیں۔ قریبی قصبے میں بھیجنے والے ایجنٹ کا چھوٹا سا دفتر تھا مگر ایجنٹ بھی ان کے ساتھ انہیں چھوڑنے جا رہا تھا۔لاکھوں روپے سمیٹنے کے بعد ایجنٹ بڑی صفائی سے روپوش ہو رہا تھا،مگر کسی کو اس بات کا بالکل بھی اندازہ نہیں تھا۔

کئی ماہ تک بڑے بھائی کی کوئی خبر نہ آئی۔ جانے والوں میں ارد گرد کے مختلف گاؤں کے بہت سے نوجوان شامل تھے۔ سب کے وارث ایک دوسرے سے رابطہ کرکے اپنے اپنے بچے کی خیریت پوچھتے، مگر کسی کو کچھ خبر نہ تھی۔ ایجنٹ تو شروع ہی سے غائب تھا۔دو تین ماہ بعد ایک افسوسناک خبر آئی کہ بہت سے پاکستانی نوجوان کسی یورپی ملک میں کشتی کے ذریعے داخل ہوتے وقت سرحدی محافظوں کی گولیوں کا نشانہ بن گئے ہیں۔ ان میں چند ایک کے سوا سبھی مارے جا چکے ہیں۔ سب گھروں میں ،جن کے بچے روشن مستقبل کی امید میں گھر سے گئے تھے،صف ماتم بچھ گئی۔ کس کا بچہ گولیوں کا نشانہ بن گیا اور کس کا بچہ زخمی ہوا، کسی کو کچھ خبر نہ تھی، لیکن جب تک حتمی صورت حال پتہ نہ چلے، ہر گھر میں امید تو تھی۔اسلام آباد دفتر خارجہ سے رابطہ کیا گیا کہ اس ملک کی ایمبیسی کے ذریعے صحیح صورتِ حال کا اندازہ ہو۔پہلی دفعہ ایک چھوٹی سی لسٹ آئی ۔ یہ سبھی مارے جا چکے تھے، مگر بڑے بھائی کا نام اس میں شامل نہ تھا۔امید قائم رہی۔ دوسری اطلاع ملی تو پتہ چلا کہ بھائی زندہ تو ہے، مگر زخمی ہونے اور علاج کے بعدغیر قانونی داخلے کی بنیاد پر وہاں جیل میں ہے۔ دفتر خارجہ سے کوئی تعاون نہ ملنے کے سبب اس ملک میں رہنے والے کسی جاننے والے سے رابطہ کیا کہ مدد کرے۔

ایسے موقع پر ہر شخص فائدہ اٹھاتا ہے ۔ کسی کو مجبوروں پر رحم نہیں آتا۔ غیر ملک میں مقیم واقف کار نے وکیل اور دیگر اخراجات کے نام پر ایک بڑی رقم طلب کی۔ باپ نے بقیہ ساری زمین بیچ دی اور دیار غیر میں قید بیٹے کی رہائی کے لئے مطلوب رقم بھیج دی۔ دو تین ماہ بعد بیٹا پاکستان آ گیا۔ سارے گھر کے لوگ بڑے اہتمام سے اسے لینے ائیر پورٹ پہنچے،مگر اب اسے مقامی اداروں نے حراست میں لے لیا۔لمبے جوڑ توڑ اور معقول رقم کی ادائیگی کے بعد ان اداروں نے بڑے بھائی کو رہا کیا۔بڑا بھائی گھر آ تو گیا، مگر ذہنی طور پر کبھی گھر نہ آ سکا۔ وہ گم سم بیٹھا رہتا۔ ہلکی سی آہٹ پر چونک جاتا اور کانپنے لگتا۔ کبھی خود چیخنے لگتا، جو دس ایکڑ زمین بیچی تھی اس میں سے کچھ رقم باقی تھی۔ باپ نے سوچا کہ اس رقم سے ٹھیکے پر دی گئی زمین واپس لی جائے اور دوبارہ کاشتکاری سے گھر کا خرچ چلایا جائے۔ ٹھیکیدار سے رابطہ کیا تو پتہ چلا کہ وہ تو اس زمین کا مالک ہے۔ جعلی کاغذات بنا کر وہ زمین کا انتقال بھی اپنے نام کرا چکا تھا۔ اس کے ساتھ مقدمہ بازی شروع ہو گئی۔ اچھا وکیل اچھے پیسے مانگتا ہے ۔ جہاں گھر میں روٹی کا مسئلہ ہو وہاں وکیل بھی خانہ پری ہوتا ہے۔ بہرحال کیس چل رہا ہے۔

ماں اور باپ بوڑھے اور بد ترین حالات کے دھکے کھاتے کھاتے ناکارہ ہو چکے ۔ بڑا بھائی ذہنی اور نفسیاتی مریض بن چکا۔ بہنیں شادی کی عمر گزرنے کے بعد بوڑھی ہو تی جا رہی ہیں ۔گھر کا سارا بوجھ اب نوجوان چھوٹے بھائی پر ہے جو بہت ہونہار ہونے کے باوجود حالات سے مجبور ہو کر ملازمت کر رہا ہے۔ وہ چھوٹا بھائی آج کل میرے دفتر میں میرے ساتھ ہے۔مجھ سے پہلے اس نے دو افسروں کے ساتھ کام کیا تھا اور دونوں نے اسے پاگل قرار دے کر نکال دیا تھا۔میرے پاس جب وہ آیا تووہ بظاہر پچیس سال کے لگ بھگ نظر آتا تھا، مگر لگتا تھا کہ کسی بوڑھے کی روح اس میں سرایت کر گئی ہے۔ مَیں کوئی کام کہتا تو کبھی بڑی مستعدی سے کرتا اور کبھی اس قدر کھویا ہوتاکہ تھوڑی دیر بعد پریشان پریشان واپس آتا اور پوچھتا کہ مَیں نے اسے کیا کام کہا تھا۔کبھی بڑ ا ہی با ادب ہو کر میری باتیں سنتا اور کبھی میری اجازت اور مرضی کے خلاف میرے سامنے کرسی کھینچ کر بیٹھ جاتا اور مجھے سمجھانے لگتا کہ حالات بڑے عجیب ہیں ۔ آپ نے فلاں کام غلط کیا ہے تھوڑا احتیاط کیا کریں۔ فلاں آدمی ٹھیک نہیں اس سے پرہیز ضروری ہے اور بہت کچھ۔

مجھے یوں لگتا جیسے میرا کوئی بزرگ بڑے خلوص سے میری اصلاح کا طلب گار ہے، چونکہ اس کی باتوں میں خلوص کی جھلک تھی، اِس لئے میں برا نہ مناتا،حالانکہ میں اس دفتر کا انچارج تھا اور وہ درجہ چہارم کا ملازم۔اس سے پہلے اپنی ایسی ہی بہکی بہکی باتوں اور عجیب حرکتوں کی وجہ سے ہر دفتر سے نکالا گیا تھا، مگر میں اسے برداشت کرتا، کیونکہ مجھے اس کی ذہنی حالت پر ترس آتا تھا۔ میرا خیال تھا کہ کسی بڑے صدمے نے اس کے ذہن پر اثر کیا تھا۔ مَیں نے بارہا اس سے کریدنے کی کوشش کی، مگر وہ فقط ہنس دیتا۔

ایک دن نوجوان کو میں نے کسی کام سے بھیجا ۔ کام لمبا تھا اور دو گھنٹے سے پہلے اس کے آنے کی امید نہ تھی۔ اس وقت دو نوجوان میرے کمرے میں داخل ہوئے۔ نوجوان کا پوچھنے لگے کہ اس سے ملنا تھا۔ آپ نے کہیں بھیجا ہوا ہے کب تک آئے گا۔ دونوں شکل سے معقول نظر آرہے تھے۔ مَیں نے انہیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ بیٹھ گئے تو تعارف ہوا، ایک سول جج تھا اور دوسرا لیکچرار۔دونوں نوجوان کے ساتھ میٹرک تک پڑھے تھے ، ایک ہی گاؤں کے رہنے والے تھے اور آج تک تینوں کی آپس میں گہری دوستی تھی۔مَیں نے نوجوان کی ذہنی کیفیت کے حوالے سے بات کی تو یہ عجیب افسوس ناک اور لمبی کہانی پتہ چلی،لیکن یہ صرف اس اکیلے نوجوان کی کہانی ہی نہیں ایسی ملتی جلتی کہانیاں ہزاروں گھروں کی داستانیں ہیں۔جب تک انسانی سمگلروں پر مضبوط ہاتھ نہیں ڈالا جاتا ایسی داستانیں جنم لیتی رہیں گی۔ نہ جانے کتنے ماؤں کے لال غیر ممالک کی جیلوں میں سسک رہے ہیں اور ان کے خاندان کے لوگوں کو ان کی خبر ہی نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔امید ہے کہ نئی حکومت انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے ساتھ ساتھ غیر ممالک میں ہمارے سفارت خانوں کو بھی پوری طرح متحرک کرے گی۔ تاکہ انسانی سمگلنگ مافیا کے شکار لوگوں کو اس مصیبت سے نجات دلائی جائے۔

مزید : رائے /کالم