A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

ماسکو میں افغانستان کانفرنس (1)

ماسکو میں افغانستان کانفرنس (1)

Aug 27, 2018

لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان

4ستمبر کو ماسکو میں ایک اجلاس ہو رہا ہے جس میں مسئلہ افغانستان پر بحث و مباحثہ ہو گا۔ اس کی میزبانی روس کر رہا ہے۔افغان طالبان نے اس اجلاس میں شرکت کی دعوت قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس میں شرکت تو کریں گے لیکن افغان حکومتی وفد کے اراکین سے ملاقات نہیں کریں گے۔۔۔ مسئلہ افغانستان کا ہو اور اس میں کابل سے آئے وفد سے طالبان کسی قسم کے انٹرایکشن سے انکار کر دیں تو اس اجلاس کے نتیجے کے بارے میں کوئی پیشگوئی کرنا مشکل نہیں رہے گا!

اس اجلاس میں پاکستان، انڈیا، چین اور وسط ایشیائی ممالک کے مندوب بھی شریک ہوں گے۔ روسی صدر پوٹن نے مسئلہ افغانستان پر بات چیت کرنے کے لئے اپنے ایک خصوصی نمائندے (ضمیر کابلوف) کو مقرر کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اجلاس میں امریکہ کو بھی دعوت دی گئی ہے مگر اس کی طرف سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ امریکی نمائندے شریک ہوں گے بھی یا نہیں۔ ماضی میں اس طرح کے اجلاسوں میں جن میں روس اور چین شامل ہوتے تھے، امریکہ بالعموم شرکت نہیں کیا کرتا تھا۔۔۔۔ جغرافیائی لحاظ سے دیکھا جائے تو روس، افغانستان سے امریکہ کی نسبت زیادہ قریب ہے لیکن سیاسی تناظر میں جغرافیائی قربت یا دوری کوئی معنی نہیں رکھتی۔۔۔۔

گزشتہ دو تین ہفتوں سے افغانستان کی صورتِ حال مزید بگڑتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر طالبان نے غزنی اور کابل پر جو حملے کئے ہیں وہ زیادہ قابل تشویش کہے جارہے ہیں۔ غزنی میں تو افغان فوج کی دو مکمل یونٹوں کا صفایا کر دیا گیا ہے۔ اور سینکڑوں شہری ہلاک اور زخمی بھی ہو چکے ہیں۔ حتیٰ کہ غزنی کے ہسپتالوں کے مردہ خانوں میں مزید لاشیں رکھنے کی گنجائش بھی باقی نہیں رہی۔ طالبان نے اس تاریخی شہر کی ’’واقعی‘‘ اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھ دی ہے۔۔۔ اور کابل پر حملے کی اہمیت یہ ہے کہ عین عیدالاضحی کے روز (21اگست)جب افغان صدر اشرف غنی عوام سے خطاب کررہے تھے تو ان پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا۔ وہ خود تو بچ گئے لیکن کئی لوگ مارے گئے اور کئی زخمی بھی ہوئے۔ اس حملے کی توقع اس لئے نہیں کی جا رہی تھی کہ دو ماہ پہلے عیدالفطر کے موقع پر حکومت اور طالبان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا۔ اُن ایامِ جنگ بندی میں طالبان، کابل اور اس کے گردونواح کی آبادیوں میں آکر گھل مل گئے تھے اور جنگ بندی کی پوری طرح پابندی کی تھی۔ اس بقر عید پربھی حکومت کی طرف سے جنگ بندی کی آفر کی گئی تھی اور خیال تھا کہ کم از کم عید کے تین دنوں میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوگی۔ لیکن طالبان کے اس راکٹ حملے نے حکومت کو پریشان کر دیا ہے اور تاریخی شہر غزنی کی تو بڑے پیمانے بربادی اور وہاں طالبان کے مکمل کنٹرول نے اشرف غنی کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

برسبیل تذکرہ، میں نے افغانستان پر جب بھی کوئی کالم لکھنے کا ارادہ کیا ہے، کئی بنیادی سوالوں نے میرا دامن پکڑ لیا ہے۔۔۔۔ کئی پہلو ذہن میں رینگنے لگتے ہیں۔مثلاً یہ کہ گزشتہ 17،18برسوں میں افغانستان میں جو کچھ ہوا ہے اور اس کے نتیجے میں پاکستان پر جو بیتی ہے اس کی تفصیلات سے پاکستان کا سوادِ اعظم زیادہ باخبر نہیں رہا ہے۔ پتہ نہیں اس کی وجوہات کیا ہیں۔ امریکی اور دوسرے مغربی ممالک نے اس جنگ پر درجنوں کتابیں تحریر کر ڈالی ہیں لیکن اردو زبان میں اس مواد کی شدید قلت ہے۔ کئی بار سوچتا ہوں کہ فاٹا اور کے پی میں کئی سینئر ریٹائرڈ فوجی آفیسرز موجود ہیں، بہت سے صحافیوں کو ہم روزانہ اپنے کئی ٹی وی چینلوں پر جلوہ فرما دیکھتے ہیں(رحیم اللہ یوسف زئی صاحب کا نام سامنے آ رہا ہے) کئی معروف سفارتکاروں کو بھی کئی میڈیا چینل، افغان مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر بات کرنے کی دعوت دیتے رہتے ہیں اور ہم ان کو سنتے رہتے ہیں۔ بالخصوص جناب رستم شاہ مہمند کا نام ان میں پیش پیش ہے۔ وہ فاٹا کے کئی علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ (ڈپٹی کمشنر) رہے، کے پی کے چیف سیکرٹری کے طور پر کام کیا، سیکرٹری داخلہ بھی رہے اور کابل میں پاکستانی سفیر بھی رہے۔

ان کے تبصرے اور تجزیے بڑے معلوماتی اور فکر انگیز ہوتے ہیں اور ان کی پشت پر ان کے سفارتی علم و دانش کی برسوں پر پھیلی جھلکیاں صاف سننے کو ملتی ہیں۔اگر کوئی ریٹائرڈ فوجی آفیسر یارحیم اللہ یوسف زئی صاحب کی طرح کا کوئی صحافی یا جناب رستم شاہ مہمند صاحب جیسا کوئی سفارتکار، مسئلہ افغانستان پر پاکستانی پبلک کو آگاہی دینے کے لئے (اردو میں) کوئی تصنیف رقم کر دیتے تو بہتوں کا بھلا ہو جاتا۔افغانستان اگرچہ ہمارا ہمسایہ ملک ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان کی بیشتر آبادی موجودہ افغان تنازعے سے صرف جزوی طور پر ہی آگاہ ہے جبکہ پبلک کو تفصیلی اور گہری آگہی اور سٹرٹیجک سکیل کی معلومات کی ضرورت ہے۔

میں اگلے روز کسی محفل میں بیٹھا تھا۔ افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے جب میں نے یہ کہا کہ پاکستان، افغانستان سے رقبے میں بڑا ہے تو اکثر حاضرین نے تعجب کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم تو سمجھتے ہیں افغانستان کا رقبہ پاکستان سے زیادہ ہے۔ ان دوستوں میں کئی حضرات کو تاریخ و جغرافیہ کے مضامین سے آگہی کا دعویٰ بھی تھا۔ لیکن میں نے جب تک ان کو یہ نہ بتایا کہ افغانستان کا رقبہ تقریباً اڑھائی لاکھ مربع میل (2,52,000) اور پاکستانٰ کا تقریبا ساڑھے تین لاکھ مربع میل (3,40,000) ہے اور پاکستان کی آبادی 22کروڑ جبکہ افغانستان کی محض ساڑھے 3کروڑ ہے، ان کو یقین نہ آیا کہ پاکستان اور افغانستان میں رقبے اور آبادی کے تناسب میں اتنا بڑا فرق ہے۔ پھر ہمیں یہ بھی نہیں معلوم کہ افغانستان کے 34 صوبوں(اور400 چھوٹے بڑے شہروں) میں سے کون کون سے صوبے اور شہر ہماری مغربی اور جنوب مغربی سرحدوں سے متصل ہیں۔

مقامِ افسوس ہے کہ لکھے پڑھے پاکستانیوں میں ویسے بھی تحریر و تصنیف کا شوق کم ہے اور یہی سبب ہے کہ ہمارے ہاں قارئین اور ناشرین کی تعداد بھی کم ہے۔ لکھنے لکھانے والوں کے لئے موضوعات کا بس ایک محدود سا دائرہ ہے جس کی مانگ ہے۔ اس کی مثال 1950ء سے لے کر 1970ء تک کے تین عشروں میں بننے والی انڈین اور پاکستانی فلموں کی مقبولیت اور بعد میں بننے والی فلموں کی عدم مقبولیت سے دی جاسکتی ہے۔ چند روز پہلے میں نے گاڑی میں جاتے ہوئے ارتجالاً ڈرائیور سے سوال کیا:’’ کیا کبھی کوئی فلم بھی دیکھی ہے آپ نے؟‘‘ ایک ٹھنڈی آہ کھینچ کر کہنے لگا:’’ سرجی! جب سے سلطان راہی اللہ کو پیارا ہوا ہے، میں نے فلم دیکھنی ہی چھوڑ دی ہے۔۔۔۔ مجھے اس کے قتل کی خبر سن کر سخت صدمہ ہوا تھا کیونکہ وہ نماز روزے کا پابند بھی تھا اور اس کا اخلاق بھی اعلیٰ درجے کا تھا۔‘‘ میں نے پوچھا سچ سچ بتاؤ، سلطان راہی کی فلموں میں کیا چیز ایسی تھی جس نے تمہیں بعد میں پاکستانی سینما ہی سے بیزار کردیا؟ اس کا جواب تھا:’’ سر! سلطان راہی کی بڑھکیں، اس کا گنڈاسا اور ٹکوا، اس کے اردگرد تھرکتی ہوئی انجمن اور پھر مصطفی قریشی کا ولن کا روپ۔۔۔ اب مولا جٹ اور بالا گجر قسم کی فلمیں کہاں بنتیں ہیں۔۔۔ وہ دور ہی اب لَد گیا، سر!‘‘۔۔۔

یہ مثال میں نے اس لئے دی ہے کہ اگرہمارے فلمساز ’مولاجٹ‘ ٹائپ کی فلمیں بناتے رہیں گے تو ملک کا لکھا پڑھا طبقہ (جس میں آدھی خواتین بھی شامل ہیں) سینما گھروں کا رخ کیسے کرے گا؟۔۔۔ بہرکیف میں نے یہ کہہ کر اس کا غم ہلکا کیا کہ :’’وی سی آر اور ٹی وی کی آمد نے بھی رہی سہی کسر پوری کردی تھی‘‘۔

تقریباً یہی حال کتابوں کا بھی ہے۔ اول تو انٹرنیٹ، لیپ ٹاپ، سوشل میڈیا اور سمارٹ موبائلوں نے ویسے بھی نئی نسل سے ذوقِ مطالعہ چھین لیا ہے۔ لیکن اس سے پہلے بھی ہم صرف سیاسیات،مذہب اور شاعری کے علاوہ کوئی چوتھا موضوع شاذ شاذ ہی زیرِ مطالعہ رکھا کرتے تھے۔

ایک اور وجہ جس نے پاکستان کے لکھے پڑھے طبقات میں بھی کتب بین کا ذوق کم کردیا ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے ترقی یافتہ ملکوں کی طرح کے پبلشنگ ہاؤس پاکستان میں بہت ہی کم ہیں اور اگر ہیں بھی تو ان کی ترجیحات میں کمرشلزم پیش پیش ہے۔ لندن، برلن، پیرس اور نیویارک وغیرہ میں ایسے ناشرین بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں جو خود مصنفین و مولفین کے ہاں ’’حاضر‘‘ ہوکر ان سے درخواست کرتے ہیں کہ فلاں موضوع اور فلاں مواد پر مشتمل کتاب لکھیں۔ یہ درست ہے کہ انگریزی زبان کی اشاعت کا دائرہ بہت وسیع ہے لیکن برسوں کی محنتِ شاقہ اور ریاضت کے بعد وہاں کے ناشرانِ کتب نے کئی ایسے موضوعات کو بھی عوام میں مقبول بنا دیا ہے جو اول اول مقبول نہیں تھے۔ مثلاً دفاع، اقتصادیات، تاریخ، معاشرت، سائنس، ٹیکنالوجی اور اس قبیل کے دوسرے کئی زندگی آموز موضوعات پر ان ناشرین نے لکھنے والوں کے پاس جاجاکر ان سے ایسی تصنیفات لکھوائیں جو بعد میں امر ہوگئیں۔ ان ناشرین میں ایک کثیر تعداد یہودیوں کی ہے جنہوں نے معلوماتِ عامہ کو مال و زر پر ترجیح دی۔ میری آرزو ہے کہ کاش ہمارا بھی کوئی ’’مسلمان‘‘ ناشر جناب رستم شاہ مہمند جیسے اکابرین کے ہاں جائے اور ان سے بالاصرار افغانستان پر کتابیں لکھوائے۔ وہ چونکہ اس علاقے سے ہیں اور پشتو، فارسی، انگریزی اور اردو پر یکساں قدرت رکھتے ہیں، اس لئے وہ ’’اردو‘‘ پر یہ احسان کرسکتے ہیں کہ اپنے قیامِ کابل کی وہ یاد داشتیں ہی قلمبند کردیں جن کا تعلق سیاست، سماج، زبان، روایات، سفارت کاری اور مذہبی اقدار سے ہے۔

یہی درخواست میں رحیم اللہ یوسف زئی صاحب جیسے حضرات سے بھی کروں گا کہ وہ نقشوں اور خاکوں کی مدد سے افغانستان کے چیدہ چیدہ جغرافیائی حالات کو آسان اردو میں لکھ کر ایک ایسا کتا بچہ شائع کریں جو عام پاکستانی کی معلومات کا ابتدائیہ بن سکے۔ایک عام پاکستانی کو تو یہ بھی معلوم نہیں کہ افغانستان کا جو تصوراتی نقشہ ان کے دماغ میں کہیں موجود ہے اس میں جلال آباد، غزنی،کابل، قندھار اور ہرات وغیرہ کی لوکیشن کیا اور کہاں ہے؟۔۔۔

میں آپ کو افغانستان پر اس کانفرنس سے آگاہ کررہا تھا جو 4ستمبر2018ء کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں منعقد ہونے جارہی ہے۔۔۔۔آیئے اسی کی طرف لوٹتے ہیں۔(جاری ہے)

مزیدخبریں