احسان مانی عمران خان کی امیدوں پر پورا اترسکیں گے

احسان مانی عمران خان کی امیدوں پر پورا اترسکیں گے
احسان مانی عمران خان کی امیدوں پر پورا اترسکیں گے

  

پاکستان کرکٹ بورڈ کے طاقتور سمجھے جانے والے نجم سیٹھی نئی حکومت کے 48 گھنٹے بعد ہی اپنے عہدہ سے مستعفی ہوگئے پانچ سال تک پی سی بی میں خدمات سر انجام دینے والے نجم سیٹھی کے مستعفی ہونے سے عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات پیدا ہورہے ہیں کہ اتنی آسانی سے انہوں نے کیوں استعفی دیدیا جب کہ نجم سیٹھی کے بقول انہوں نے اپنے دور میں کرکٹ کی دنیا میں بے پناہ خدمات سر انجام دیں تو ان کو چاہئیے تھا کہ وہ مستعفی ہونے کے بجائے اپنے آپ کو نئی حکومت کے سامنے احتساب کے لئے پیش کرتے اس طرح ان کے عمل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا ہے جس وجہ سے انہوں نے عمران خان کی پہلی تقریرسنتے ہی مستعفی ہونا بہتر سمجھا ۔ نجم سیٹھی ایک تجربہ کار سیاسی تجزیہ کار بھی ہیں ان کو اس طرح سے عہدہ چھوڑنا زیب نہیں دیتا اگر انہوں نے اچھے کام کئے تو پھر ان کو چاہئیے تھا کہ وہ عمران خان سے ملتے اور ان کو پہلے کاموں سے آگاہ کرتے پھر چاہتے عمران خان ان کو اس عہدہ پر رکھتے یا نہ رکھتے مگر ان کا جو فرض بنتا تھا وہ پورا ہوجاتا ملک میں پی ایس ایل انہوں نے شروع کی اور ہمیشہ اس کا کریڈٹ انہوں نے لیا اس موقع پر ان کی خاموشی معنی خیز ہے اب آنے والا وقت ثابت کرے گا جب نئی حکومت ان کے کئے کاموں کا آڈٹ کرے گی کہ انہوں نے اس عہدہ پر پانچ سال تک حکمرانی کرکے کیا گل کھلائے تب ہی حقیقی معنوں میں یہ معلوم ہوگا کہ انہوں نے کیا اچھا کام کیا ۔

اب پاکستان کرکٹ بورڈ کی چیئرمین شپ کے امیدوار احسان مانی اور اسد علی خان کو بورڈ کی گورننگ باڈی میں نامزد کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔اس طرح احسان مانی کا پی سی بی چیئر مین بننا اب محض رسمی کارروائی ہے۔ نوٹی فکیشن کے مطابق احسان مانی اور اسد خان گورننگ بورڈ میں 3 سال کے لیے نامزد ہوئے ہیں۔ احسان مانی بین الاقوامی کرکٹ کی جانی پہچانی شخصیت ہیں۔وہ ایک چارٹرڈ اکاونٹنٹ ہیں جنہوں نے کافی عرصے تک انٹرنیشنل کرکٹ کونسل میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ وہ 1996میں آئی سی سی کی فنانس اور مارکیٹنگ کمیٹی کے چیرمین بنے۔ 2002 ء میں وہ آئی سی سی کے ایگزیکٹیو بورڈ کے نائب صدر بنے۔وہ جون 2003 میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے صدر بنے اور تین سال تک یہ ذمہ داری نبھائی۔احسان مانی نے چار سال پہلے آئی سی سی میں بننے والے بگ تھری کی سخت مخالفت کی تھی اور اسے تین ملکوں کے کرکٹ بورڈ کی اجارہ داری سے تعبیر کیا تھا۔احسان مانی اور عمران خان کی دوستی بڑی پرانی ہے۔

احسان مانی شوکت خانم کینسر اسپتال کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی شامل ہیں۔ وہ ان دنوں خیبر پختونخوا میں گلیات ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سربراہ کی حیثیت سے گلیات میں شجرکاری اور سیاحت کے منصوبوں پر کام کررہے ہیں۔جبکہ احسان مانی نے دوہری شہریت کے حوالے سے خبروں کو مسترد کردیاہے۔احسان مانی کا کہنا تھا کہ انہیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے، انہیں زندگی میں کئی موقع ملے لیکن نہ شہریت بدلی اور نہ ہی بدلنے کا کوئی ارادہ ہے جبکہاسد علی خان بھی احسان مانی کی طرح چارٹرڈ اکاونٹینٹ ہیں اور وہ حکومت پنجاب کے ساتھ کئی اہم منصوبوں پر کام کر چکے ہیں۔جبکہ عمران خان نے ان کو جو ٹاسک دیا اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ بورڈ میں تبدیلی لانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں بورڈ ایک منافع بخش ادارہ ہے جسے گزشتہ ادوار میں تباہ کر کے رکھ دیا گیا نئے چیئرمین کے لئے سب سے بڑا چیلنج بورڈ اخراجات کو کم کرنا اور قومی کرکٹ ٹیم کومیرٹ پر اوپر لیکر آنا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -