معاشی استحکام نو منتخب حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے

معاشی استحکام نو منتخب حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہیے

  

اسد اقبال

تعارف

عرفان اقبال شیخ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں جو کاروباری برادری کی آن ،پہچان اور شان ہیں۔جن کوتاجر برادری میں وہ عزت اور مقام حاصل ہے جس کی خواہش تاجر سیاست میں قدم رکھنے والا ہر شخص کر تا ہے عرفان اقبال شیخ نوجوان محنتی ،جفا کش،نڈر اور تاجربرادری کی خدمت میں ہمیشہ ہمہ تن گوش رہے ہیں ۔عرفان اقبال شیخ کاروباری و سماجی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے والد محتر م اقبال علی شیخ (مرحوم)نے 1941 میں الفتح سٹور کی بنیاد رکھی اور خوب محنت اور لگن سے اپنے کاروبای سر گر میوں کو پروان چڑھایا ۔عرفان اقبال شیخ کے والد محترم اقبال علی شیخ قیام پاکستان کی تحریک کے بڑے سرگرم رکن تھے اور انہیں قائد اعظم محمد علی جناح کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز حاصل ہے جو کاروباری حلقوں میں ہر دلعزیز شخصیت کے مالک ہیں عرفان اقبال شیخ نے اپنی تعلیم مکمل کر نے کے بعد 1977میں باقاعدہ کاروبای دنیا میں قدم رکھا اور الفتح ڈیپارٹمینٹل سٹور کو اس ترقی کی منزل پر گامزن کیا کہ آج الفتح سٹور لاہور کے ہر پوش علاقے میں موجو د ہے بلکہ فیصل آباد اور کراچی میں بھی ان کی چین مقبول اور اپنی ساکھ کے حوالے سے معروف ہے اور احسن طریقہ سے الفتح ڈیپارٹمینٹل سٹور کے چیئر مین ہیں۔عرفان اقبال شیخ تاجر تنظیموں میں اہمیت کے حامل ہیں جو مختلف عہدوں پر فائز رہ کر تاجروں کے مسائل حل کروانے میں کردار ادا کر تے رہے ہیں۔وہ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر بھی رہ چکے ہیں جبکہ آ ج کل وہ صنعتکاروں اور تاجروں کو سب سے بڑے اور اہم گروپ پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشنز فرنٹ (پیاف) کے چیئر مین ہیں ۔پاکستان میں صنعتکاروں اور تاجروں کو پیاف کی چھتری تلے متحد کیے پھولوں کے گلدستے کی مانند ایک جان کیا ہوا ہے اور آج لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر طاہر جاوید ملک ہیں جن کا تعلق بھی پیاف گروپ سے ہے۔

روزنامہ پاکستان کی جانب سے پیاف کے چیئر مین عرفان اقبال شیخ کے ساتھ خصوصی نشست کا اہتمام کیاجس میں انہوں نے اقتدار میں آنے والی نو منتخب حکومت اور تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کو وزیر اعظم پاکستان بننے پر مبارکباد پیش کی اور کہا ہے کہ نئی حکومت کو معاشی لحاظ سے بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ دو جماعتی سیاسی جمود ٹوٹنے اور نئی سیاسی جماعت کا اقتدار میں آنا ایک انقلاب ہے جس سے کاروباری طبقہ کو امید کی کرن نظر آئی ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات اور کاروباری سر گر میاں پروان چڑھیں گی جبکہ عمران خان کو اقتدار سے قبل کیے گئے عوامی وعدوں کی پاسداری کر نا اپنی اولین تر جیحات میں شامل کر نا ہو نگی تاکہ ملک میں حقیقی تبدیلی آ سکے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی پارٹی کو اپنے منشور پر کام کر نے کے لیے پورا موقع ملنا چائیے اور اپنے دور اقتدار میں ایسی اصلاحات لانی چائیے جس سے سسٹم کی تبدیلی ممکن ہو سکے ۔نو منتخب حکومت ملکی معیشت میں استحکام لائے جبکہ انڈسٹری کو ریلیف دیا جائے گا جس کے لیے ٹیکسز کی شرح میں کمی اور نئے ٹیکس پیئر تلاش کر نے کے لیے حکمت عملی بنائی جائے انہوں نے کہا کہ کاروباری طبقہ کو نو منتخب حکومت سے خیر کی تو قع ہے اور امید ہے کہ عمران خان اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ملک کو تر قی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کر ے گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں کسی بھی حکومت کو نظام ریاست چلانے کیلئے ریونیو کی ضرورت ہوتی ہے جسے وہ اپنے ملک کے عوام پر مختلف اقسام کے ٹیکسز لگا کر وصول کرتی ہے ،کوئی بھی حکومت جہاں عوام سے مختلف ٹیکسز وصول کرتی ہے وہیں پر عوام کو کئی طرح کی سہولیات بھی فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے تاہم بد قسمتی سے پاکستان میں صنعتکار و تاجر طبقہ حکومتی عدم توجہی کے باعث کئی ایک سائل سے دوچار ہے ۔جس سے ملکی معیشت ہچکولے کھارہی ہے کارخانوں اور فیکٹریوں میں پیداواری صلاحیت بجلی و گیس کی قیمتوں میں ہوشر با اضافہ اور ان پٹ کی قیمتیں بڑھنے سے کم ہوگئی ہے جس سے بے روزگاری کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے اور کاروباری سر گر میاں بھی مفلو ج الحال کا شکار ہیں ۔انہوں نے کہا جب تک تاجروں کو ریلیف اور ان کی اہمیت کو نہیں سمجھا جاتا تب تک ملکی معیشت تر قی کی پٹری پر رواں نہیں ہو سکتی ۔عرفان اقبال شیخ نے کاروباری برادری کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اہلکاروں کے صوابدیدی اختیارات کا غلط استعمال، دکانوں، گوداموں اور مارکیٹوں میں بے جا چھاپے، سمگلنگ روکنے کے نام پر مارکیٹوں کے باہر ناکے لگاکر تاجروں کو ہراساں کرنا، ایف بی آر کی بینک اکاؤنٹس تک رسائی، بینکوں سے لین دین پر ودہولڈنگ ٹیکس، مختلف مصنوعات کی ایویلیوایشن میں بھاری اضافہ اور ٹیکسوں کا پیچیدہ نظام سرفہرست ہیں۔نو منتخب حکومت کو ان معاملات کی طرف فوری توجہ دینی اور یہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے چاہئیں۔انہوں نے بتایا کہ ملک میں صرف 10لاکھ افراد ٹیکس نیٹ میں ہیں جبکہ ہمارے ملک کی آبادی تقریباً 22 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ،جبکہ ٹیکس دینے والے افراد آٹے میں نمک کے برابر ہیں ،کیونکہ ان 10 لاکھ افراد میں بھی ٹیکس ادا کرنے والے بہت کم ہیں ،اس کی کیا وجہ ہے ؟؟؟ وجہ یہ ہے کہ ہمارا ٹیکس کا نظام انتہائی فرسودہ ہے ،ٹیکس نظام میں بہت سی اصلاحات کی ضرورت ہے ،اس کے ساتھ ساتھ حکومت کیجانب سے ایسے کئی ٹیکس بلا جواز لگا دےئے گئے ہیں جن کی کسی صورت نہ تو کوئی آئینی حیثیت ہے اور نہ ہی قانونی ۔اس کے باوجود زبردستی عوام سے ٹیکس وصول کئے جا رہے ہیں ۔نو منتخب حکومت اگر حقیقی معنوں میں اپنے ریونیو کو بڑھانا چاہتی ہے تو اسے سب سے پہلے FBR کو درست کرنا ہوگا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے خوف کے سائے کاروباری افراد کے سروں سے ہٹانے ہونگے ۔اس کے ساتھ ہی تمام ان ڈائریکٹ ٹیکسوں کو اس بجٹ میں ختم کرنے کا اعلان کرنا ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ سیلز ٹیکس کے ریٹ کو سنگل ڈیجٹ پر لائے ،ایف بی آر کو کاروباری افراد کے بینک اکاؤنٹس تک حاصل رسائی کو فوری طور پر ختم کرے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کو امسال بینکوں کا شرح سود کو نمایاں طور پر کم کرنا چاہیے ،پوری دنیا میں کسی سے بھی ود ہولڈنگ ٹیکس نہیں لیا جات لہذا پاکستان میں بھی ود ہولڈنگ ٹیکس مکمل طورپرختم کیا جائے ۔نئی حکومت اپنے ریونیو کو بڑھانے کیلئے نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس نیٹ میں لائے اس کیلئے حکومت کو پہلے سے ٹیکس دہندگان کیلئے مراعات کا اعلان کرنا ہوگا ،سرکاری و نیم سرکاری اداروں میں ٹیکس دہندگان کیلئے ون ونڈو کا اہتمام کرنا ہوگا۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو چاہیے کہ ملک بھر کی تمام چھوٹی بڑے مارکیٹوں میں بننے والے ہزاروں کمرشل پلازوں کا سروے کرے اور نئی دکانوں اور دکانداروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے اقدامات کرے ۔

عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ سابق حکو مت کی جانب سے بنکو ں سے رقو م کے لین دین پر اعشاریہ تین فیصد ٹرانزیکشن ٹیکس کی بھر پور مذمت کر تے ہیں کیو نکہ ایسا کسی ملک میں نہیں ہوتا کہ بنکوں میں جمع کروائی جانے والی رقو م سے کٹوتی کی جائے ۔ انھوں نے کہا کہ حکو مت نے اگر ٹیکس لگانا ہے تو اس آپشن کی بجائے معاشی ماہرین سے مشاورت کر کے دوسرا ٹیکس لگائے جس پر صنعتکاروں اور تاجروں کے ساتھ مذاکرات ضروری ہیں۔ انھوں نے کہاکہ پیاف آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے معاشی انقلابی پروگرام لے کر آرہی ہے جس میں معاشی ترقی کے حوالے سے کئی ایک پروگرامز سمیت انو یسٹمنٹ پالیسیاں بھی سفارشات کے لیے پیش کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ ملکی معاشی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ صنعت و تجارت سے وابستہ مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں تبھی انڈسٹری ترقی کرے گی اور حکومتی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھیں گے ۔صنعتوں کی ترقی کیلئے پیداواری لاگت میں کمی کیلئے اقدامات کیے جائیں جن میں بجلی اور سوئی گیس کی قیمتوں میں کمی ازحد ضروری ہے۔ صنعتوں کی بلند پیداواری لاگت سے اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ سے ملکی برآمدات کمی کا شکار ہیں پاکستان کے ہمسائیہ ممالک میں صنعتی شعبہ کیلئے بجلی و گیس کے نرخ کم ہیں جن سے ان ممالک کی برآمدات بڑھ رہی ہیں جبکہ پاکستان میں پیداواری لاگت بڑھنے سے اشیاء مہنگی اور برآمدات کمی کا شکار ہیں جس سے تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے جسے دور کرنے کیلئے مثبت اقدامات کی ضرورت ہے صنعتوں کیلئے بجلی کی بلاتعطل فراہمی اور بجلی و گیس کی قیمتوں میں کمی لاکر ریلیف دیا جائے تاکہ صنعتی شعبہ ترقی کرسکے ۔ کہا کہ پیداواری لاگت بڑھنے سے صنعتوں کی شرح نمو کم ہو کر رہ گئی ہے جس سے صنعتکاروتاجر برادری پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ بڑھتے ہوئے بے جا ٹیکس اور گیس و بجلی کی قیمتوں میں خطے کے دیگر ممالک کی نسبت اضافہ سے اشیاء کی پیداواری لاگت دن بدن بڑھ رہی ہیں جس سے بالواسطہ طور پر عوام متاثر ہورہی ہے اس لیے حکومت کو اس ضمن میں موثراور فوری اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ تجارتی خسارہ میں کمی ہوسکے۔

تر قی یافتہ ممالک ہمیشہ اپنے صنعتکاروں اور تاجروں کو ریلیف دینے کے لیے معاشی پالیسیوں میں تبد یلی جبکہ ماہرین معاشیات سمیت تاجر نمائندوں کی مشاورت یقینی ہوتی ہے ۔کسی بھی ملک میں ٹیکس نیٹ کا بو جھ ٹیکس دہندگان پر ڈالنے کی بجائے ایسے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں جس سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ ممکن ہو جبکہ نئے ٹیکسز لگانے کے لیے صنعتکاروں اور تاجروں کی رائے کا احترام کر تے ہوئے فیصلے کیے جاتے ہیں تاہم بد قسمتی سے پاکستان میں ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کا بو جھ اس قدر بڑھا دیا گیا ہے کہ اندرونی اور بیرونی سر مایہ کاری سے سر مایہ کار اجتناب کررہے ہیں جبکہ فیڈرل بورڈ آف ریو نیو نے وزارت خزانہ کی سازش رچاتے ہوئے صنعتکاروں ، تاجروں سمیت ہر طبقہ کے فرد پر ب0.6فیصذ بنکنگ ٹرانزیکشن ٹیکس عائد کر دیا ہے جس کی تاجربرادری بھر پور مذمت کر تی ہے ۔جب تک اپنے قدرتی وسائل کو بروئے کار نہیں لایا جاتا تب تک معیشت کر تر قی کی پٹری پر رواں کر نا مشکل ہے ۔ ملکی انڈسٹری کو جہاں توانائی بحران کا سامنا ہے وہیں ہو شر با ٹیکسو ں کے باعث ایکسپورٹ کی شر ح میں بھی نمایاں کمی ہو گئی ہیانہوں نے کہا کہ پیاف کا ایک ہی مقصد ہے کہ تاجروں کے اجتماعی مفادات کا تحفظ کیا جائے جواپنے مشور پر کاربند رہے گی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ نو منتخب حکو مت معاشی پالیسیوں میں اصلاحات لاتے ہوئے ایسا میکنزم تر تیب دے جس سے ملکی معیشت کا گراف بلند اور انڈسٹری کو ریلیف میسر آ سکے ۔ عرفان اقبال شیخ کا کہنا تھا کہ ملکی صنعتکار اور تاجر محب وطن پاکستانی ہو نے کا ثبو ت دیتے ہوئے ٹیکسوں کی ادائیگی بڑھ چڑھ کر کر یں کیو نکہ ٹیکسوں کے نظام کی بدولت معیشت کا پہیہ پٹری پر رواں رہتا ہے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -