اصلاحات پر مبنی نیا نظام اور جنرل مشرف کا سات نکاتی ایجنڈا

اصلاحات پر مبنی نیا نظام اور جنرل مشرف کا سات نکاتی ایجنڈا

  

بزنس ایڈیشن

حامد ولید

وزیر اعظم عمران خان کا

پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان نے 19اگست کو ملک میں نئی اصلاحات کا اعلان کیا جس میں پاکستان کو مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست بنانے کے ایک منصوبہ عمل پیش کیا گیا ، ملک کی لوٹی دولت واپس لانے اور محکمہ جاتی سطح پر کفائت شعاری اپنانے کے لئے ٹاسک فورس بنانے، بلدیاتی نظام میں اصلاحات، پنجاب پولیس میں بہتری ، صاف پانی اور درخت لگانے کا اعلان کیا ۔

انہوں نے ایف بی آر کو ٹھیک کرنے کا اعلان کیا اور عوام کو اعتماد دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوا م کے ٹیکس کی حفاظت کریں گے۔ ملکی ایکسپورٹ بڑھانے کے حوالے سے وزیر اعظم نے وہ ایک بزنس ایڈوائزری بورڈبنائیں گے جو ایکسپورٹ بڑھانے اور ملک میں سرمایہ کاری کرنے کے حوالے سے حکومت کو تجاویز دے گی۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بیرونی ممالک سے لیا گیاقرضہ ہے جو اس وقت 95ارب ڈالر ہو چکا ہے اور جسے اتارنے کے لئے پاکستان کو قرضے لینا پڑتے ہیں۔ انہوں نے بھاشا ڈیم بنانے کے عزم کا اظہار کیا اور پانچ سال میں پچاس لاکھ نئے اور سستے گھر بنانے کا اعلان کیا جس سے ان کا ماننا تھا کہ پچاس صنعتیں چل پڑیں گی۔ انہوں نے سول سروس میں سزا اور جزا کا نظام لانے کی بات کی ۔ انہوں نے بیرون ملک پاکستانیوں سے کہا کہ وہ اپنا پیسہ پاکستانی بینکوں میں رکھوائیں کیونکہ پاکستان کو اس وقت ڈالروں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے بیرون ملک سے پیسہ بھجوانے میں آسانیاں پیدا کرنے کا بھی اعلان کیا۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نے کرپٹ لوگوں پر ہاتھ ڈالنے کا اعلان بھی کیا اور عوام سے کہا کہ اس کے باوجود کہ ان کے اس اقدام پر انہیں بے پناہ دباؤ میں لایا جائے گا لیکن عوام کو ان کے ساتھ کھڑے رہنا چاہئے ۔

اگر وزیر اعظم کے اعلانات کا خلاصہ نکالا جائے تو انہوں نے سرکاری اخراجات میں کمی کا اعلان کیا ہے، قرضوں کی بجائے ٹیکس اصلاحات سے ریونیو میں اضافہ کرکے ملکی معاملات چلانے کا عزم کیا ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پیغام دیا ہے، کرپشن کے خاتمے کا اعلان کیا ہے، عدالتی نظام کی از سر نو بحالی کا اعلان کیا ہے، خیبر پختونخوا کی طرز پر پنجاب میں پولیس اصلاحات لانے کا اعلان کیا ہے، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات، ڈیم کی تعمیر ، پانی کے بحران کا خاتمہ ، سول سروس اصلاحات، اختیارات کی بلدیاتی سطح پر منتقلی، نوجوانوں کے لئے نوکریاں پیدا کرنے کے لئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے پراجیکٹ کا اعلان، آسان قرضوں کی فراہمی کا اعلان اور کرکٹ کے گراؤنڈوں کی بحالی کا اعلان کیا ہے، ماحولیاتی آلودگی سے نپٹنے، ناداروں کی اعانت کے لئے مدینہ کی ریاست کا ماڈل کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے عوام سے کہا کہ ملکی تعمیر نو کی اونر شپ لیں اور اپنی مدد کے لئے ان کے ہاتھ مضبوط کریں۔

اب ذرا جنرل پرویز مشرف کے سات نکاتی ایجنڈے کو یاد کیجئے جس میں پہلا نقطہ تھا کہ وہ قوم کے اعتماد اور مورال کی تعمیر نوکریں گے، دوسرا

نقطہ تھا کہ وفاق کو مضبوط کریں گے ، بین الصوبائی عدم یگانگت کا خاتمہ کریں گے اور قومی وحدت کو بحال کریں گے، تیسرا یہ کہ لاء اینڈ آرڈر اور فوری انصاف یقینی بنائیں گے ، چوتھا یہ کہ معیشت اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کریں گے ،پانچواں یہ کہ ریاستی اداروں کو غیر سیاسی کریں گے، چھٹا یہ کہ اختیارات کو بلدیاتی سطح پر لے کر جائیں گے اور ساتواں یہ کہ تیز ترین اور ملکی سطح پر احتساب یقینی بنائیں گے۔

دونوں کا موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کا نیا اصلاحاتی نظام دراصل جنرل مشرف کے سات نکاتی ایجنڈے کا چربہ ہے ۔ تب بھی عوام کو ایسے ہی سبز باغ دکھائے گئے تھے کہ کرپٹ لوگوں کا احتساب ہوگا لیکن پھر چشم فلک نے دیکھا کہ نیب کی جانب سے کرپٹ لوگوں کے خلاف بلاامتیاز احتساب کا کلہاڑا چلنے کی بجائے مختلف سیاسی جماعتوں میں نیب زادوں کی تخلیق کا کام زیادہ تیزی سے ہوتا دکھائی دیا۔ عین ممکن تھا کہ عوام کو اس دور میں کوئی خاص معاشی فائدہ نہ ہوتا اگر جنرل مشرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو فرنٹ لائن سٹیٹ کا نعرہ لگا کر دھکا نہ دیتے جس کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر سے پاکستان پر ڈالروں کی عنایات دیکھی گئیں اور ملک میں ایزی منی کی اصطلاح عام ہو گئی ۔ یہی نہیں بلکہ اس وقت کی حکومت نے ملک بھر سے مذہبی اذہان کے حامل اور طالبان کے حامی حلقوں کے اکابرین کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا اور اس کے عوض ڈالر کمائے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس بار بھی ایسا ہی کچھ دوبارہ سے نہیں ہونے والا ،کیا امریکہ خطے میں طالبان کے خلاف کوئی نیا گیم تو نہیں شروع کرنے جا رہا جس کے آغاز پر وزیر اعظم عمران خان سے ویسے ہی معاشی ایجنڈے کا اعلان کروایا گیا ہے جیسا جنرل مشرف سے کروایا گیا تھا۔ تب بھی عوام کی مقبول قیادت کو اقتدار سے باہر کردیا گیا تھا اور ملک بدر کردیا گیا تھا ، اس بار بھی وہی مقبول قیادت پابند سلاسل ہے اور ان کی ملک بدری کی باتیں عام ہیں۔

شومئی قسمت دیکھئے کہ وزیر اعظم عمران خان کی 21رکنی کابینہ میں 12وزراء جنرل مشرف کی کابینہ کے ہیں ۔ دوسرے معنوں میں یہ وہی نابغہ روزگار شخصیات ہیں جن کی صلاحیتوں کو عوام پہلے بھی آزما چکے ہیں ، تبدیلی کے نام پر پرانی تیلی ہی گیلی ماچس پر رگڑنے کا کام شروع ہوگیا ہے جس سے تب تک کچھ حاصل نہیں ہوگا جب تک کہ امریکہ بہادر مہربانی پر آمادہ نہ ہو جائے۔

وزیر اعظم کے اعلان کے مطابق سرکاری اخراجات میں کمی کا اعلان کیا گیا ہے جس کے لئے ڈاکٹر عشرت حسین کو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے مشیر کے طور پر لیا ہے۔ ہماری سول بیوروکریسی کے دو بڑے مسائل ہیں ، ایک تو یہ کہ یہ چھوٹی سطح کی بیوروکریسی کسی کے کہنے میں نہیں آتی اور دوسرا یہ کہ بڑی سطح کی بیوروکریسی نظائر کو فالو کرتی ہے ، یعنی جب ان کے سامنے کوئی فائیل رکھی جاتی ہے تو وہ پوچھتے ہیں کہ ان سے پہلے افسر نے اس فائل پر کیا کاروائی کی تھی ۔ جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ ان سے پہلے افسر نے کچھ نہیں کیا تھا تو وہ یہ کہہ کر فائل ایک طرف کردیتے ہیں کہ اگر اس نے کچھ نہیں کیا تھا تو میں کیوں کروں اور کل کو انکوائریاں بھگتتا پھروں۔ اب بھی وزیر اعظم عمران خان نے اپنی ابتدائی تقریر میں ہی عندیہ دیا ہے کہ کرپٹ لوگوں کے خلاف حکومت شکنجہ کسے گی جس پر بہت شوروغل ہوگا۔ اس کا سیدھ سیدھا مطلب ہے کہ موجودہ حکومت پہلے چھے ماہ تو احتساب احتسات کھیلے گی جس کے سبب ہمارے سرکاری اداروں میں جمود طاری رہنے کا احتمال رہے گا اور ملکی معیشت میں وہ بڑی تبدیلی نہیں آئے گی جس سے کاروبار زندگی روانی پر مائل ہو۔

قرضوں کی بجائے ٹیکس اصلاحات سے ریونیو میں اضافہ کرکے ملکی معاملات چلانے کا عزم اچھی بات ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ عوام کی اکثریت کی مالی حالت اس قدر پتلی ہے کہ اسے نچوڑ بھی لیا جائے تو ڈھنگ کا پسینہ بھی نہیں نکلے گا۔ پہلے ہی ودہولڈنگ ٹیکس اورجنرل سیلز ٹیکس کے نام پر عوام سے ان ڈائریکٹ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لے کر موبائل کمپنیوں کو منع کرنا پڑا ہے کہ وہ 100روپے کے بیلنس پر ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کی روش ترک کرے۔ چنانچہ ٹیکس نظام میں بہتری لانے سے پہلے ضروری ہوگا کہ حکومت سرمایہ کاری کو فروغ دے جس کے لئے نہ صرف حکومتی پالیسیوں میں تسلسل ضروری ہے بلکہ وہ مراعات بھی دینا پڑتی ہیں جس سے ملک میں افراط زر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے اور بالآخر عوام کو ایک بڑی مہنگائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جنرل مشرف کی طرح عمران خان نے بھی بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ملک میں سرمایہ کاری کی طرف راغ کیا ہے لیکن تب ایسا ہوا تھا کہ بیرون ملک پاکستانیوں نے صنعتیں لگانے کی بجائے اپنے سرمائے کو سٹاک ایکسچینج اور رئیل اسٹیٹ میں لگانے کو ترجیح دی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ ملک میں زمینوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی تھیں اور عام پاکستانی کے لئے گھر بنانے کا تصور محال ہو گیا تھا ۔ اس صورت حال پر اب تک قابو نہیں پایا جا سکا ہے اور رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں قابو میں نہیں آسکی ہیں تاکہ عام آدمی اپنی چھت ڈال کر عزت کی زندگی گزار سکے۔

جس طرح کی بزنس ایڈوائزری کونسل کی بات کی گئی ہے ویسی ہی ایک کونسل جنرل مشرف کی بھی تھی اور بالکل اسی طرح فیلڈ مارشل ایوب خان نے بھی 22خاندانوں کو پالا تھا اور خیال کیا گیا تھا کہ بڑے لوگ کمائیں گے تو نئی صنعتیں لگائیں گے جس سے نوکریاں پیدا ہوں گی۔ اس ضمن میں کاروباری حضرات کوریا اور جاپان کی مثالیں دیتے ہیں کہ وہاں بھی اسی طرح سے ترقی ہوئی کہ حکومت نے بڑے کاروباری گروپوں کو سرمایہ دیا جنھوں نے نئی صنعتیں لگائیں اور نہ صرف ملک میں نوکریاں پیدا ہوئیں بلکہ ملکی آمدن میں بھی اضافہ ہوا۔ تاہم یہ حلقے اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہاں کے سرمایہ کار صرف ایسی صنعتوں سے جڑے ہوئے ہیں جن کا تعلق زراعت ہے جیسے کہ ٹیکسٹائل اور فوڈ کی صنعتیں جن میں زیادہ تر کم پڑھے لکھے یا بالکل ہی ان پڑھ نوجوانوں کی کھپت ہوتی ہے جبکہ کوریا اور جاپان میں کاروباری افراد نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صنعت کو اپنایا اور ملک کے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے اعلیٰ معیار کی نوکریوں کا اہتما م کیا۔ چنانچہ جس بزنس ایڈوائزری کونسل کی بات عمران خان نے کی ہے اس سے چند بڑے کاروباری گھرانوں کا فائدہ تو ہوسکتا ہے لیکن پڑھی لکھی نوجوان نسل کو ملک سے باہر ہی قسمت آزمائی کرنا پڑے گی تاکہ انہیں ان کی تعلیم کے مطابق نوکری مل سکے۔

جہاں تک نوجوانوں کے لئے نوکریاں پیدا کرنے کے لئے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے پراجیکٹ کا اعلان ہے تو دراصل یہ نئی بوتل میں پرانا شربت بیچنے کے مترادف ہے ۔ نواز شریف حکومت کے ترقیاتی کام بڑی نوعیت کے تھے ، موجودہ حکومت گھروں کی تعمیر کا پراجیکٹ شروع کرکے کنسٹرکشن انڈسٹری سے جڑی پچاس صنعتوں کی بحالی اور نوجوانوں کے لئے نوکریاں پیدا کرنے کا اہتمام کرنے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ یہ نعرہ سننے میں تو اچھا لگتا ہے لیکن اس سے بھی نوجوانوں کی زندگیوں میں وہ تبدیلیاں نہیں آتی ہیں جس کے طفیل وہ ازخود ایک انٹررپرونیور میں تبدیل ہو جائیں ۔

ہاں البتہ جہاں تک عدالتی نظام کی از سر نو بحالی ،خیبر پختونخوا کی طرز پر پنجاب میں پولیس اصلاحات ،تعلیم اور صحت کے شعبوں میں اصلاحات، ڈیم کی تعمیر ، پانی کے بحران کا خاتمہ ، سول سروس اصلاحات، اختیارات کی بلدیاتی سطح پر منتقلی، آسان قرضوں کی فراہمی کا اعلان اور کرکٹ کے گراؤنڈوں کی بحالی کا اعلان ،ماحولیاتی آلودگی سے نپٹنے اورور ناداروں کی اعانت کے لئے مدینہ کی ریاست کا ماڈل کا اعلان کیا ہے تو بلاشبہ اصلاحات سے ان محاذوں پر تو کچھ پیش رفت ہوسکتی ہے لیکن جہاں تک معیشت کا تعلق ہے اس میں تب تک اضافہ نہیں ہوگا جب تک سرمایہ کار کو یقین نہیں ہوگا کہ ملک میں ایک مضبوط اور مستحکم حکومت قائم ہے جو اگلے پانچ برس کے لئے ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے ایسے فیصلے لے سکتی ہے جن کا تسلسل یقینی ہوگا۔ لیکن اگر وزیر اعظم عمران خان کی حکومت ایم کیوایم کے سات ووٹوں پر قائم ہے تو کیسے ٹھوس اقدامات اور کہاں کا تسلسل ؟ .....اس لئے امکان اس بات کا ہے کہ وزیر اعظم کے اصلاحاتی پیکج سے ان کے ووٹرو ں سپورٹروں کو بغلیں بجانے کا موقع تو مل جائے گا لیکن ملکی معیشت میں بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔

سرخیاں

اصلاحاتی پیکج سے سپورٹروں کو بغلیں بجانے کا موقع تو ملے گا لیکن ملکی معیشت میں بڑی تبدیلی نہیں آئے گی

بزنس ایڈوائزری کونسل سے چند بڑے کاروباری گھرانوں کو فائدہ ہوگا

رئیل اسٹیٹ کی قیمتیں قابو کریں تاکہ عام آدمی اپنی چھت ڈال کر عزت کی زندگی گزار سکے

تصاویر

عمران خان

جنرل پرویز مشرف

ڈاکٹر عشرت حسین

فیلڈ مارشل ایوب خان

مزید :

ایڈیشن 2 -