محکمہ اینٹی کرپشن میں تفتیشی افسران کی کمی ، ہزاروں اہم مقدمات لٹک گئے

محکمہ اینٹی کرپشن میں تفتیشی افسران کی کمی ، ہزاروں اہم مقدمات لٹک گئے

لاہور(عامر بٹ سے) پنجاب حکومت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کئے جانے کے باعث محکمہ انسداد رشوت ستانی پنجاب بھر کے دفاترمیں 70فیصد خالی آسامیاں آج بھی تفتیشی افسروں کی منتظر ہیں جبکہ تفتیشی افسران کی عدم دستیابی کے باعث جہاں اینٹی کرپشن پنجاب بھر کے دفاتروں میں آنیوالی درخواستیں ردی کے ڈھیر میں تبدیل ہونے لگی ہیں وہاں متعدد انکوائریاں کئی سالوں سے زیر التواء ہیں ۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ عرصہ دراز گزر جانے کے بعد بھی انویسٹی گیشن افسروں کی تعیناتی مکمل نہیں کی جا سکی جس کے باعث سینکڑوں اہم نوعیت کے کیسز کی صحیح معنوں میں تفتیش نہیں ہو سکی نہیں کی جا سکی جبکہ اپنی مرضی سے ڈیپوٹیشن پر افسروں کی تعیناتی کے بعد کیسز کو ڈراپ کروا کر مافیا نے اپنے خلاف دیئے جانے والے تمام ثبوتوں کو مٹانے کی بھی کوششیں جاری کر رکھی ہیں اس وقت بھی اینٹی کرپشن پنجاب کے دفاتروں میں ہزاروں کی تعداد میں درخواستیں، انکوائریاں، مقدمات التواء میں ڈالے جا چکے ہیں جبکہ اس ضمن میں ڈی جی اینٹی کرپشن کی جانب سے بھی متعدد تحریری لیٹر لکھے گئے جو کہ ردی کی ٹوکری کی نظر ہو چکے ہیں۔ شہریوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ انوسٹی گیشن افسروں کی تعیناتی یقینی ۔ اس حوالے سے محکمہ اینٹی کرپشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت پنجاب کو خالی آسامیوں کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کر دیا ہے چند دنوں میں پبلک سروس کمیشن کے ذریعے بھرتی کرتے ہوئے افسران کی تعیناتی کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1


loading...