مقدمات جلد نمٹانے کیلئے قانونی ترامیم ضروری ججز کی تعداد بڑھائی جائے، وکلا

مقدمات جلد نمٹانے کیلئے قانونی ترامیم ضروری ججز کی تعداد بڑھائی جائے، وکلا

  

ملتان (خبر نگار خصوصی) و کلاء نے کہا ہے کہ جلد انصاف کی فراہمی کے نعرہ پر پورا اترنے کے لیے حکو مت کو قانونی اقدامات کرنے ہوں گے۔ انصاف کے حصول میں بہتری لانے کیلئے ججز کی تعداد بڑھانا اور ججز کے فیصلوں اور ان کی عدالتی کارروائیوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ضروری ہے ۔(بقیہ نمبر13صفحہ12پر )

وکلاء کو اپنے مہذب پیشے کی طرح خود بھی مہذب طریقہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہونگی۔ جوڈیشل سسٹم بنایا گیا لیکن اس میں ترامیم اور قانون میں مزید بہتری کرنا ہوگی جوڈیشل سسٹم1898ء کا انگریزوں کا دیا ہوا ہے اور ویسا ہی آج تک چل رہا ہے۔ مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے قانونی ترامیم ہونی ضروی ہے جس میں مقدمات کے فیصلے کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملتان بنچ میں صرف10جسٹس لگانا ناانصافی ہے یہاں کی آبادی کے مطابق ججز تعینات کرنا ہونگے ۔ فوجداری مقدمات 1 سال کی بجائے 6 ماہ میں بھی حل کیے جاسکتے ہیں انصاف کی فراہمی میں تعطل نہیں ہونا چاہیے ۔ ’’روز نا مہ پا کستان‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر قانون دان اور سابق جسٹس لاہور ہائیکورٹ حبیب اللہ شاکر نے کہا ہے کہ اگر انصاف کو آسان کرنا ہے تو سماجی معاشرتی اور جوڈیشری سمیت تمام اہم اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔یہ ڈھانچہ جو ہمارے ملک میں موجود ہے وہ ایلیٹ کلاس نے ایلیٹ کلاس کیلئے بنایا تھا اور آج بھی ایلیٹ کلاس ہی مستفید ہوسکی ہے۔، گواہوں کو تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ عدالتی اہلکاروں کی تربیت اور سب سے اہم پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے تمام اہم اداروں کو بلاخوف و خطر ایک بہتر اور بااثر انفراسٹرکچر تشکیل دینا ہوگا جوکہ کسی بھی سیاسی و سماجی شخصیت کے دباؤ میں نہ آئے۔ انصاف کی فراہمی میں تعطل نہیں ہونا چاہیے ، وزیر اعظم پاکستان آئینی طور پر چیف جسٹس سے ملاقات کریں چونکہ عدلیہ غیر جانبدار اور خود مختار ادارہ ہے مقدمات کی سماعت جلد ہوگی تو انصاف کی فراہمی میں تعطل کم ہوجائے گا اور اس بارے عوام کو بھی آگاہی دی جائے۔ سینئر قانون دان مرزا عزیز اکبر بیگ نے کہا ہے کہ انصاف کی جلد فراہمی اور مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے قانونی ترامیم ہونی ضروی ہے جس میں مقدمات کے فیصلے کے طریقہ کار کو بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔سینئر قانون دان ا یڈوو کیٹ شیخ محمد فہیم کا کہنا تھا کہ حصول انصاف نظام کی تبدیلی اور مستند قانون سازی کے ذریعے آسان ہوسکتا ہے۔اگر ملک میں بااختیار لوگ اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنا چھوڑ دیں تو انصاف سب کیلئے ایک جیسا ہوجائے گا۔اس کے علاوہ پولیس اور ججز کو آبادی کے تناسب سے تعینات کرتے ہوئے ان پر عملدرآمد کمیٹیاں بناتے ہوئے منتھلی رپورٹس بھی ڈیپارٹمنٹل سطح پر جمع کروانا ہونگیاگر انصاف کو آسان کرنا ہے تو سماجی معاشرتی اور جوڈیشری سمیت تمام اہم اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ملک جاوید اقبال اوجلہ نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کا نکتہ نظر ایک ہی ہے اور جمہوری نظام کے تحت منتخب ہوکر آنے والے نمائندوں کو عوام کی فلاح کے لیے کام کرنا چاہیے اور دہلیز پر انصاف کی فراہمی کے نعرہ پر پورا اترنے کے لیے چند قانونی اقدام کرنے ہوں گے۔سنئیرقانون دان مہر اقبال سر گا نہ نے کہا کہ انصاف کے حصول میں بہتری لانے کیلئے ججز کی تعداد بڑھانا اور ججز کے فیصلوں اور ان کی عدالتی کارروائیوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا ضروری ہے ۔وکلاء کو اپنے مہذب پیشے کی طرح خود بھی مہذب طریقہ سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہونگی۔ ا یڈوو کیٹ مسعود خان نے کہا کہ ججوں کی تعداد متاثر نہیں کرتی بلکہ ان کی صلاحیتیں دیکھ کر انہیں کیسز دئیے جانے کا بہت مثبت اثر پڑسکتا ہے۔اس نظام کو متعارف کروانے سے ججوں کے فیصلوں پر بھی انتہائی اچھا تاثر پڑے گا۔فیصلوں کیخلاف اپر کورٹس میں اپیل بنیادی طور پر مجرم یا ملزم کا حق ہے جس کی وجہ سے خامیوں کا ازالہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات گواہوں کی کمی اور فیصلے کے بعد کوئی اور گواہ ملنے پر بھی اپیل کی جاتی ہے جس سے فیصلہ تبدیل ہوجاتا ہے۔ سنئیرقانون دان چوہدری فیصل مشتاق نے کہا ہے انصاف کی جلد فراہمی میں متعلقہ اداروں پولیس عدلیہ اور وکلاء کو مکمل طور پر ایک دوسرے کی معاونت کرنی چاہیے جس سے فوجداری مقدمات 1 سال کی بجائے 6 ماہ میں بھی حل کیے جاسکتے ہیں۔سا بق صدر بار ا یڈوو کیٹ ممتا ز نور ٹانگرہ نے کہا کہ آزادانہ فیصلے اور حکومتی اداروں کا اثر انداز نہ ہونا حصول انصاف میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔8ویں پاس کانسٹیبل کی بنائی گئی ایف آئی آر سپریم کورٹ تک چلتی ہے اور ایف آئی آر کے نظام میں ترمیم نہ کرنا عام عوام کے ساتھ بہت بڑا دھوکہ ہے۔ایف آئی آر میں کیا دفعات لگیں گی اس کی مکمل تربیت ہونی چاہیے اور ایف آئی آر لکھنے کی ذمہ داری ایماندار ترین اہلکار کی لگائی جائے تاکہ انصاف فراہمی کے پہلے قدم کو بااثر اور بہتر ثابت کیا جاسکتے۔ ا یڈوو کیٹ نشید عا رف گو ندل کا کہنا تھا کہ وکلاء کو ہر چھوٹے چھوٹے معاملہ پر ہڑتال نہیں کرنی چاہیے۔ذاتی انا اور برادری پر حملے ان الفاظ سے وکلاء کو دور ہونا چاہیے۔وکلاء کو اپنے مہذب پیشے کی طرح خود بھی مہذب طریقہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہونگی۔جوڈیشل پالیسی میں بڑے پیمانے پر ترامیم کرتے ہوئے سائیلین اور وکلاء کو برابری کی سطح پر سماعت کرتے ہوئے فیصلہ کرنا ہوگا۔کسی بھی جج کے غلط فیصلے پر اسے برطرف کرتے ہوئے اہل قانون دان کو موقع دینا چاہیے۔ملتان بنچ میں صرف10جسٹس لگانا ناانصافی ہے۔یہاں کی آبادی کے مطابق ججز تعینات کرنا ہونگے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -