جامشوروپلانٹ بند، ایل پی جی بحران میں اضافہ سلنڈر مہنگا ‘شہریوں کے دکاندار وں سے جھگڑے

جامشوروپلانٹ بند، ایل پی جی بحران میں اضافہ سلنڈر مہنگا ‘شہریوں کے دکاندار ...

میلسی (نما ئندہ پاکستان )میلسی شہراورگرد ونواح میں 13اگست تک گھریلو (بقیہ نمبر16صفحہ12پر )

سلنڈر کی قیمت صرف 1450روپے تھی جو کہ مارکیٹ سے 200روپے زائد تھی عید کے موقع پر گھریلو گیس سلنڈر وزن 11کلو 1950 روپے سے 2100روپے تک فروخت ہو تا رہا دکانداروں نے اپنی مرضی کے ریٹ مقرر کر کے شہریوں کو لوٹا ریٹ لسٹ مانگنے پر شہریوں سے بد تمیزی کی گئی انتظامیہ شکایات کے باوجود غائب رہی جس کا فائدہ اٹھاتے ہو ئے گیس ڈیلر عوام کو لوٹنے میں مسلسل مصروف ہیں عوامی سماجی حلقوں نے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔

ملتان (سٹاف رپورٹر)‘بلیک مارکیٹنگ کے ذریعے ایل پی جی کی قیمت 200روپے فی کلو تک پہنچا دی گئی ۔ ایل پی جی پر ٹیکسوں و ڈیوٹیز کی بھرمار ‘ درآمدمد نہ ہونے کے برابر ہے ‘مقامی (بقیہ نمبر14صفحہ12پر )

یونٹ کی بندش کے باعث ‘ڈیلرز کی لوٹ مار سے مہنگائی کا طوفان آگیا۔ ‘ ایل پی جی استعمال کرنے والے دکانداروں کے کاروبار بند ہو نے کے قریب آگئے۔بتایا گیا ہے کہ ساز ش کے تحت یکدم مہنگائی کا طوفان برپا کردیا گیا ہے ۔ الیکشن 2018سے قبل 100روپے فی کلو فروخت ہونے والی ایل پی جی کی قیمت نے ’’سپیڈ ‘‘ پکڑ لی اور اس وقت قیمت 200روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے ۔ مخصوص ’’ہاتھ ‘‘ سرگرم ہیں ۔معلوم ہوا ہے کہ ایل پی جی کی ملک میں کھپت ماہانہ 60ہزار ٹن تک ہے ۔30سے40ہزار ٹن ایل پی جی دیگر ممالک سے درآمد کی جاتی تھی جس کی درآمد اب محض 3سے 4ہزار ٹن رہ گئی ہے ۔اس وقت ملتان سمیت ملک کے کئی علاقوں میں سوئی گیس کی سہولت نہیں ہے اور لوگ مجبوراً ایل پی جی سلنڈر استعمال کرنے پر مجبور ہیں ۔ اس کے علاوہ حلوائیوں سمیت کھانے ‘پینے کی اشیا تیار کرنے والے دکاندار اور رکشہ ڈرائیورز بھی ایل پی جی استعمال کررہے ہیں ۔ ایل پی جی کی قیمت اوسطاً 60سے 70روپے فی کلو ہونی چاہئیے مگر باقاعدہ منصوبہ بندی سے اس کی قیمت 200روپے فی کلو یعنی دگنا سے بھی زائد بڑھا دی گئی ہے جس سے خصوصاً سفید پوش اور غریب عوام شدید متاثر ہوئے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو ایل پی جی کی قیمت موسم سرما میں 400روپے فی کلو تک پہنچ سکتی ہے ۔ اس صورتحال میں تحریک انصاف کی حکومت ابھی تک خامو ش ہے اور اس سازش سے نمٹنے کے لئے اقدامات نظر نہیں آرہے ہیں ۔ جبکہ ایل پی جی کی قیمت مزید بڑھنے کاامکان ہے۔دریں اثناء ایل پی جی کی درآمد پر 50فیصد تک ٹیکسز ‘ ڈیوٹیز و لوڈنگ کے اخراجات بھی ایل پی جی مہنگی ہونے کی وجوہات ہیں ‘ بتایاگیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سابق حکومت نے ایل پی جی پر ٹیکسز وڈیوٹیز میں اضافہ کر دیاتھا جس کے باعث ایل پی جی کی درآمد بہت مہنگی ہو گئی اور 50فیصد تک ٹیکسز ‘ ڈیوٹیز و لوڈنگ وغیر ہ کے اخراجات آتے ہیں جس کے باعث ایل پی جی کی قیمت گزشتہ دور حکومت میں 70روپے فی کلو سے بڑھ کر 120روپے تک جا پہنچی ۔ نگران دور میں ایل پی جی کی قیمت 100روپے فی کلو تک آگئی مگر تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوتے ہی قیمت کو جیسے ’’پر ‘‘ لگ گئے اور 200روپے فی کلو کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔علاوہ ازیں جامشوروایل پی جی پلانٹ بند ہونے سے ایل پی جی کی قیمت کو شدید جھٹکا لگاہے۔بتایا گیاہے کہ جامشورو ایل پی جی پلانٹ( جے جے وی ایل)مقامی سطح پر ماہانہ 15ہزار ٹن ایل پی جی کی پیداوار دے رہا تھا جسے بند کر دیا گیا جس سے ایل پی جی کے بحران میں اضافہ ہواہے اگر اس پلانٹ کو چالو کردیاجائے تو ایل پی جی کی قیمت فوری طور پر 40روپے فی کلو تک کم ہو سکتی ہے ۔اس کے علاوہامن پنجاب رکشہ یونین کے مرکزی چیئرمین محمد ادریس بٹ نے ایل پی جی کی قیمت 200روپے فی کلو کی سطح پر پہنچنے پر شدید ردعمل ظاہرکرتے ہوئے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمتیں آسمان پر پہنچنے پر غریب رکشہ ڈرائیور مجبورً ایل پی جی استعمال کر رہے تھے مگر ایل پی جی کی قیمت مافیا نے 200روپے فی کلو تک پہنچا دی ہے جس سے غریب رکشہ ڈرائیورز بے روز گار ہو کر رہ گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ سوئی گیس کی سہولت نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں صارفین مجبور ہو کر ایل پی جی بطور ایندھن استعمال کر رہے ہیں ۔غریب اور سفید پوش صارفین کے چولہے اب ٹھنڈے ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایل پی جی کی قیمت آسمان پر پہنچانے میں ملوث مافیا کے خلاف سخت ترین ایکشن لے اور ایل پی جی کی قیمتیں اعتدال پر لائے بصورت دیگر احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ۔

ایل پی جی

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...