امریکی وبھارتی بیانات پاکستانی عوام کیلئے ناقابل قبول ،رضا ربانی

امریکی وبھارتی بیانات پاکستانی عوام کیلئے ناقابل قبول ،رضا ربانی

  

کراچی(آن لائن)سینیٹ کے سابق چیئرمین رضا ربانی نے بھارت اور امریکہ سے متعلق بیانات پر دفتر خارجہ کی ’’غلط تشریح‘‘پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔اپنے بیان میں رضا ربانی(بقیہ نمبر19صفحہ12پر )

کا کہنا تھا کہ یہ تشویش کا مقام ہے کہ نئی حکومت کے اقتدار سنبھالتے ہی ایک ہفتے کے دوران غلط تشریح کے باعث 2 انتہائی سنجیدہ سوالات نے جنم لیا، جن میں سے ایک بھارتی وزیراعظم کے خط اور دوسرا امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی بد قسمتی ہے کہ پاکستان سے مذاکرات کے حوالے سے دفتر خارجہ کے بیان پر بھارتی حکومت کو وضاحتی بیان جاری کرنا پڑا،نئی حکومت کی بھارت سے مذاکرات کے نئے دور کی خواہش پاکستان کی موجودہ پوزیشن کے حوالے سے ممکن نظر نہیں آتی کیونکہ پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل پر مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن اس حوالے سے ایجنڈے کو صرف دہشت گردی تک محدود نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہا کہ امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ کیساتھ ہونیوالی بات چیت کے حوالے سے پیدا ہونے والا تنازع بھی غیر واضح ہے۔رضا ربانی نے کہا کہ گزشتہ روز قومی اخبارات میں رپورٹ ہونے والا دفتر خارجہ کا بیان بھی تشویش کا باعث ہے، جس میں مبینہ طور پر ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ان کی توقعات کو سمجھنا ہوگا اور انہیں ہماری ضروریات کی جانب بھی دیکھنا ہوگا، یہ یک طرفہ تعلق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ’’توقعات‘‘ اور’’ہماری ضروریات‘‘ کے الفاظ یا تو مالک اور نوکر یا امریکہ کیساتھ ریاستی گاہک کے تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی عوام کیلئے ناقابل قبول ہے، پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو سینیٹ کے آئندہ کے اجلاس میں اٹھایا جانا چاہیے۔

رضا ربانی

مزید :

ملتان صفحہ آخر -