کوہالہ ہائیڈرو منصوبے کیلئے اراضی کا حصول دستمبر تک مکمل ہوجائیگا

کوہالہ ہائیڈرو منصوبے کیلئے اراضی کا حصول دستمبر تک مکمل ہوجائیگا

لاہور( این این آئی)وزارت توانائی کے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ 1 ہزار 124 میگا واٹ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے اراضی کا حصول رواں برس دسمبر میں مکمل ہوجائیگا کیونکہ اس ضمن میں 70 فیصد کام تکمیل پاچکا ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ ملک کے شمالی مشرق میں واقع ہے جو دریا جہلم پر قائم کیا گیا ہے ،پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تناظر میں مذکورہ منصوبہ سب سے بڑا ہے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ ہمیں پورا یقین ہے کہ دسمبر تک میگامنصوبے کے لیے اراضی کا حصول مکمل ہو جائے گا اور اگلے سال مارچ تک منصوبے پر باقاعدہ کام شروع ہو جائیگا۔چائنا تھری گوریز (سی ٹی جی) کی ذیلی کمپنی کوہالہ ہائیڈروپاور کمپنی کے مطابق منصوبے سے سالانہ 5.079 بلین کلو واٹ سے 122 میگا واٹ توانائی پیدا کی جا سکے گی اور اس میں کیپیسٹی انسٹالیشن 4 ہزار 617 گھنٹوں پر مشتمل ہے۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ سی ٹی جی کے تحت مذکورہ منصوبہ 7 برس میں مکمل ہو گا اور قواعد و ضوابط کے مطابق کمپنی ہی اگلے 30 برس تک پراجیکٹ کے تمام امور سرانجام دیگی جس کے بعد کمپنی پاکستانی انتظامیہ کو منصوبے کا کنٹرول تفویض کرسکے گی۔علاوہ ازیں انہوں نے بتایا کہ کوہالہ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پرساری لاگت سی پیک منصوبوں کے تحت چین بردارشت کررہا ہے جبکہ منصوبے پر 15 فیصد یعنی 2 ارب 30 کروڑ ڈالر کی عالمی اداروں سے وصول کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ منصوبے کے لیے 15 فیصد عالمی فنڈز چین کے لیے بڑا مسئلہ نہیں ہے ٗ اگر امداد فراہم کی گئی تو فائدہ اٹھایا جائیگا۔حکام نے بتایا کہ سی پیک منصوبوں کے تحت 870 میگاواٹ کا سکی کناری ہائیڈرو پاور پراجیکٹ اور 720 میگا واٹ کا کروٹ ہائیڈرو پاور پراجیکٹ پر انتظامی نوعیت کا کام شروع ہو چکا ہے ٗکروٹ منصوبے پر تعمیرات اور سول ورک پر مشتمل 35 فیصد اور سکی منصوبے پر 10 فیصد کام ہوچکا ہے۔

کوہالہ ہائیڈرمنصوبہ

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...