’پیپلز پارٹی کے بندے نے مجھے بتایا کہ پختونخوا کے پٹواری سیاستدانوں کے پاس آکر کہتے تھے کہ ۔۔۔ ‘ کاشف عباسی نے ایسی بات بتادی کہ آپ بھی کہیں گے کہ یہی تو تبدیلی ہے

’پیپلز پارٹی کے بندے نے مجھے بتایا کہ پختونخوا کے پٹواری سیاستدانوں کے پاس ...
’پیپلز پارٹی کے بندے نے مجھے بتایا کہ پختونخوا کے پٹواری سیاستدانوں کے پاس آکر کہتے تھے کہ ۔۔۔ ‘ کاشف عباسی نے ایسی بات بتادی کہ آپ بھی کہیں گے کہ یہی تو تبدیلی ہے

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سینئر صحافی کاشف عباسی کا کہنا ہے کہ گزشتہ دور حکومت میں خیبر پختونخوا کے پٹواری پٹوار خانوں میں کام نہیں کرنا چاہتے تھے، 100 دن میں حکومت کو ایسے کام کرنے ہوں گے جس سے ان کی نیت کی شفافیت نظر آئے اور لوگ کہیں کہ یہ حکومت کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کاشف عباسی نے کہا خان کیا کرے گا یہ میں نہیں جانتا کیونکہ ابھی تک عمران خان کو کسی نے حکومت میں نہیں دیکھا، انہوں نے صرف خیبر پختونخوا میں حکومت کی اور وہاں اصلاحات کی خواہش نظر آئی لیکن پہلے دھرنا آگیا اور پھر پاناما جس کی وجہ سے عمران خان اس طرح سے اصلاحات نہیں کرسکے۔صاف نیت اس طرح نظر آتی ہے کہ آپ کوئی ایسا کام کر رہے ہوں جس سے لوگوں کو بھی لگے کہ یہ کچھ ٹھیک کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لوگوں کو محمود خان سے اس لیے پرابلم ہے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ خیبر پختونخوا میں عاطف خان کو ہونا چاہیے تھا۔ عثمان بزدار کمزور آدمی ہیں لیکن پہلے 100 دن میں آئی جی اور چیف سیکرٹری تبدیل کیے جاسکتے ہیں اورحکم دیا جاسکتا ہے کہ کسی پولیس تھانے میں غلط ایف آئی آر درج ہوئی تو بندہ خود اندر ہوگا۔

کاشف عباسی نے بتایا ’پچھلے دور حکومت میں پیپلز پارٹی کے بندے نے مجھے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں پٹواری سیاستدانوں کو کہتے تھے کہ ہمیں پٹوار خانے میں نہیں رہنا بلکہ کہیں اور تبادلہ کرادو، اگر کام ہوتا نظر آئے گا تو 100 دن کا منصوبہ کامیاب ہوجائے گا‘۔

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -