ڈبل سواری

ڈبل سواری
ڈبل سواری

  

ستّر کی دہائی اور ہمارے لڑکپن کے دن۔۔۔ان دنوں عنایت حسین بھٹی فیملی کا پنجابی سکرین پر راج تھا۔ان کے بھائی اداکار کیفی، بھابی اداکارہ غزالہ اور بعد ازاں انکی اگلی نسل نے شو بز میں بڑا نام کمایا۔مجھے ابھی تک یاد ہے ایک دفعہ پی ٹی وی پر اداکارکیفی کا انٹرویوچل رہا تھا ۔ان سے پوچھا گیا ’’آپ کو اداکار کونسا پسند ہے ‘‘انہوں نے جواب دیا ’’بھائی جان عنایت حسین بھٹی‘‘’’اور گلوکار ؟‘‘ میزبان نے پوچھا۔ جواب ملا ’’بھٹی بھائی جان‘‘ان دنوں عنایت حسین بھٹی کا گائیکی میں بھی طوطی بولتا تھا۔میزبان نے ایک اور سوال کیفی سے کیا’’آپکی نظر میں اس وقت بہترین اداکارہ کون ہیں؟ ‘‘تو جواب ملا ’’ غزالہ بیگم‘‘مجھے یہ سب کچھ ان دنوں مسلم لیگ (ن) کی سیا ست کو دیکھ کر یاد آیا ہے۔جہاں ہر بہتر عہدہ شریف فیملی سے شروع ہو کر انہی پر بہترین ہو جاتا ہے۔شائد اسی

موروثی سیاست کی وجہ سے مسلم لیگ (ن) اپنے منطقی انجام کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے؟’’اور کچھ دم میں ہیں یہ اوراق بکھرنے والے‘‘ یہ سوال آجکل زبان زد عام ہے۔ نواز شریف نے وزات اعلٰی سے جمپ لگا کر جب وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالا تو پنجاب کی وزارت اعلٰی کا قرعہ غلام حیدر وائیں مرحوم کے نام نکلا مگر سب جانتے ہیں کہ تب بھی اصل اختیار اور اقتدار شہباز شریف کے پاس تھا،یہ نہیں معلوم کہ نواز شریف نے چھوٹے بھائی کو براہ راست یہ ذمہ داری کیوں نہ دی؟وجہ بے اعتمادی تھی یا دیرینہ کارکنوں کو خوش کرنے کی کوشش،اگر بے اعتمادی ہو تی تو کار مختار غلام حیدر وائیں ہوتے مگر معاملہ الٹ تھا اور اختیارات کا سر چشمہ شہباز شریف رہے ،شریف خاندان کی سرشت اور فطرت میں یہ بات نہیں کہ وہ اپنے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کو اقتدار میں دیکھ سکیں۔

ماضی قریب میں بھی سب نے دیکھا کہ بڑا بھائی وزیر اعظم ہے تو چھوٹا بھائی پنجاب کا وزیر اعلٰی ، اس وقت ڈبل سواری کی باتیں ہوتی رہیں جو اب پھر شروع ہیں ،تب بھی ان کو کوئی پارٹی رہنماء اس قابل نہ ملا جسے ملک کے سب سے بڑے صوبے کی ذمہ داری سونپی جا سکے،وجہ اس خاندان کو اپنی ناک کے آگے کچھ دکھائی نہیں دیتا،شہباز شریف کو کوئی حکومتی عہدہ دینے میں کوئی قباحت یا قانونی اڑچن نہیں،اگر وہ با صلاحیت ہیں اور کسی دوسرے سے زیادہ منصب کے حقدار ہیں تو کوئی مضائقہ نہیں،لیکن پارٹی تو سینئر سیاستدانوں سے اٹی پڑی تھی اور ان سے زیادہ تجربہ کار،اہل، باصلاحیت رہنماء موجود تھے،اقتدار کے لالچ میں انہوں نے چودھری برادران، سید ظفر علی شاہ، سردار ذوالفقار کھوسہ، غوث علی شاہ جیسے جانے کتنے ہیرے کھو دیے مگر اقتدار میں کسی کو شریک نہ کیا۔

نواز شریف نے وزیر اعظم کی حیثیت سے جو گل مرکز میں کھلائے شہباز شریف نے پنجاب میں کسر پوری کی،مگر دونوں بھائیوں نے جو کچھ کیا اپنی اولاد اور دامادوں کا دامن بھرا،کسی دوسرے کو اس میں شریک نہ کیا، البتہ قریبی ساتھیوں کو موقع ضرور دیا کہ وہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیں۔اب جب وزیراعظم اور وزیر اعلٰی پنجاب کیلئے نامزدگی کا وقت آیا تو شہباز شریف وزیر اعظم اور حمزہ شریف کو وزیراعلٰی کیلئے نامزد کیا گیا،حالانکہ شکست یقینی تھی مگر ایک موہوم امید کہ اگر جیت گئے تو اقتدار اور اختیار کسی دوسرے کے قبضے میں چلے جائیں گے اور ایسا یہ خاندان سوچ بھی نہیں سکتا۔

وہ مرحلہ تو قیاس و گمان کے مطابق پایہء تکمیل کو پہنچا،حالانکہ پنجاب میں ن لیگ اور تحریک انصاف میں مقابلہ سخت تھا،حمزہ کی جگہ کوئی اور وزارت اعلٰی کا امیدوار ہوتا تو پانسہ پلٹ سکتا تھا،آزاد امیدواروں کو شریف خاندان پر قطعی اعتماد نہ تھا تاہم کوئی دوسرا ان کو مسائل کے حل اور حکومت سازی میں شرکت کی یقین دہانی کراتا تو ان کو منانا مشکل نہ تھا،سبق حاصل نہ کیا گیا اور اپوزیشن لیڈر کے انتخاب میں بھی امیدوار دونوں باپ بیٹا ہی تھے،جبکہ قائد حزب اختلاف کی ذمہ داری سوا ہے،ہر اجلاس میں اپوزیشن لیڈر کی شرکت ضروری ہے،حکومت کو قانون سازی،ملک چلانے کیلئے اہم فیصلوں میں رکاوٹ ڈالنا اپوزیشن لیڈر کا بنیادی کام ہوتا ہے جو حمزہ شہباز کے بس کی بات نہیں،وہ تو شائد آئین و قانون کی الف بے سے بھی واقف نہیں،اس عہدے کیلئے بہترین انتخاب خواجہ سعد رفیق ہو سکتے تھے۔جو آئین،قانون اور قواعد و ضوابط سے آگاہ اور تجربہ کار پارلیمنٹیرین ہیں،شریف خاندان کی معاہدہ کے تحت جلا وطنی کے دنوں میں انہوں نے آمر کی حکومت کے باوجود اپوزیشن کر کے دکھائی۔

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کیلئے نواز شریف نے خواجہ آصف کا نام دیا،مگر شہباز شریف وہاں بھی نہ مانے،شائد اس لئے کہ دونوں نواز شریف کے قریبی ساتھی ہیں،یا شائد اپوزیشن لیڈر کو وزیر کے برابرجو مراعات ملتی ہیں ان سے لطف اندوز ہونے یا اپنے خلاف دائر ریفرنسز پر اثر انداز ہو نے کیلئے انہوں نے بڑے بھائی کی بات کو نظر انداز کر دیا،اور باپ بیٹا میدان میں اتر آئے۔

مسلسل 33سال حکمرانی کرنے کے باوجود شریف خاندان کو حالات کی نبض پر انگلی رکھنا نہیں آیا،ناراض ساتھیوں کو منانا توہین گردانتے ہیں ، اختلاف کرنیوالا ان کے نزدیک قابل گردن زدنی ہے،ان کی ہر بات پر واہ واہ کی رٹ لگانے والا ان کو پسند ہے مگر یہ سب چونچلے صرف اقتدار میں چلتے ہیں،اپوزیشن میں نہیں، مگر یہ بات ان کی سمجھ میں آئی نہ آئے گی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -