وزیر اعظم عمران خان اقلیتوں کو بھول گئے

وزیر اعظم عمران خان اقلیتوں کو بھول گئے
وزیر اعظم عمران خان اقلیتوں کو بھول گئے

  


پاکستان کی 71سالہ تاریخ میں یہ پہلا الیکشن ہے جس میں دو جماعتی نظام کو مات ہوئی اور تیسری جماعت برسراقتدار آئی ۔اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی عوام میں سیاسی شعور بیدار ہو گیا ہے اور عوام اب سب سے بڑھ کر یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کی پسماندگی ختم ہواس لیے پاکستان کی عوام نے اس بار " پاکستان تحریک انصاف"کو مینڈیٹ دیاہے کہ وہ پاکستا ن کو ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل کرے ۔پاکستان تحریک انصاف کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے "دو نہیں ایک پاکستان، نیا پاکستان اور تبدیلی"کے نعرے کی صد ابلند کی اور اس نعرے کی ہر مذہب،ہر فرقے نے پاسداری کی کیونکہ دوران الیکشن پی ٹی آئی نے بارہا مرتبہ یہ کہا کہ ہم قائد اور اقبال کا پاکستان بنائیں گے جس میں تمام پاکستانیوں کو برابرکہ حقوق میسرآئیں گے اور بلا امتیاز سب کو ترقی ،خوشحالی اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم ہونگے اس لیے ہر مذہب اور فرقے نے بڑھ چڑھ کر پی ٹی آئی کی کامیابی کے لیے اپنا حصہ ڈالا۔

اب جب وفاق اور دو صوبوں میں مکمل طور پر اور بلوچستان میں کولیبریشن کے ساتھ پی ٹی آئی کی حکومت بن چکی ہے وزیراعظم عمران خان صاحب نے اقتدار میں آتے ہی حکومتی اخراجات کو کم کرنے اور تمام گورنر ہاؤسز اور سی ایم ہاؤسز اوراسی طرح پرائم منسٹر ہاؤس اور پریزیڈنٹ ہا ؤس کو عام عوام کی فلاح کے لیے استعمال میں لانے کا جو اعلان کیا ہے وہ واقعی قابل ستائش ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس اعلان پر کب تک عمل درآمد ہو گا مگر میں یہاں پر اس بات کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے بیان کرنا چاہوں گا کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے جو بات کی تھی کہ " قائد کا پاکستان بنائیں گے،دو نہیں ایک پاکستان "اس کی نفی اپنی پہلی چال پے ہی کر دی ۔جیسا کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اپنی کابینہ میں کسی ایک بھی اقلیتی ممبر کو شامل نہیں کیا اور یہ بات پاکستان کی اقلیتوں کے لیے تشویشناک ہے جبکہ پی ٹی آئی کو تقریباََ 10 سیٹیں اقلیتی ممبرز کی قومی اسمبلی میں ملی ہیں۔اگر ماضی میں نظر دوڑائیں تو جب قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی کابینہ تشکیل دی تو اس میں اقلیتی ممبرکو اہم وزارت دی ، میری ذاتی رائے ہے کہ وزیر اعظم عمران خان صاحب نے اپنے نعرے کی پاسداری نہیں کی اور خود ہی سب سے پہلے دو نہیں ایک پاکستان والے نعرے کی مخالفت کردی ہے حالانکہ وزیر اعظم عمران خان صاحب کو اس منصب تک پہچانے میں اقلیتوں نے بھرپور کردار ادا کیا ہے مگر افسوس کی با ت یہ کہ انہوں نے نئے پاکستان میں اقلیتوں کو فراموش کر کے ایک بار پھر پاکستان میں بسنے والی اقلیتوں کے جذبات مجرو ح کر دیے ہیں کیونکہ محمدعلی جناح کے بعد اقلیتوں نے خان صاحب سے قوی امید وابستہ کی تھی کہ وہ ان کی محرومیوں کو ختم کریں گے م۔

عمران خان سے پہلے جتنی بھی حکومتیں آئیں ان تمام نے اپنی کابینہ میں اقلیتوں کو شامل کیا ۔ اقلیتں کیسے یقین کریں کہ ان کو برابر کے حقوق میسر آگئے ہیں اور کیسے مان لیں کہ ہر میدان میں ان کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔ میں اپنے قارئین کے گوش گزار کرتا جاؤں کہ پاکستان کے لیے تما م اقلیتوں نے ہر طرح کی قربانی دی ہے اور یہ ملک بھی ایک اقلیتی ووٹ کی صورت میں معرض وجود میں آیا۔ اس کا ثبوت پاکستان کے پرچم میں سفید رنگ ہے اور اس ملک کے دفاع،سلامتی ،ترقی اور خوشحالی میں تمام اقلیتوں نے ماضی سے لیکر آج تک دل وجان سے اپنا کردار ادا کیا اور با فضل خدا رہتی دنیا تک پاکستان کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتی رہیں گی۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ


loading...