اظہارِ رائے کی آزادی اور تہذیبوں کا تصادم

اظہارِ رائے کی آزادی اور تہذیبوں کا تصادم
اظہارِ رائے کی آزادی اور تہذیبوں کا تصادم

  

’’کوئی مسلمان اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک وہ تاجدارِ کائنات ﷺ کو اپنی جان۔ مال اور اولاد سے زیادہ محبوب نہ رکھے ۔‘‘یہی ہمارا ایمان ہے۔بیشک ہم مسلمانوں کی اکثریت کے عمل کمزور ہیں اور عبادات سے غافل ہیں مگر تاجدارِ کائنات ﷺ کی محبت کو کل ایمان سمجھتے ہیں۔

مغرب کا وطیرہ رہا ہے کہ مختلف اوقات میں انکی طرف سے فتنے لانچ کیئے جاتے رہے ھیں۔فتنہ قادیانیت ہو یا ماضی قریب میں ہونے والے واقعات، اصل میں عشق مصطفیٰﷺ مسلمانوں کے لیئے ایک بیرو میٹر کا کام کرتا ہے۔اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔

ڈ رتا نہیں جو فاقہ کش موت سے

بس روحِ محمد اسکے جسم سے نکال دے 

ہالینڈ کا بدبخت ممبر ہو یا ڈنمارک کا بد بخت پبلشر اس طرح کی گستاخانہ حرکتیں کر کے اظہارِ رائے آزادی کے علمبردار بنتے ہیں اور مسلمان کے جذبات مشتعل کرتے ہیں۔بدقسمتی یہ ہے کہ بجائے اسکے امت مسلمہ اجتماعی طور پر ریاستی طاقت کے ساتھ متعلقہ ممالک اور انکی حکومتوں کو پریشرائز کرے اور اس بات کی حقیقت سمجھائے کہ مٹھی بھر جاہل اور گستاخ لوگوں کی حرکات کی بہت بھاری قیمت عام لوگوں کو چکانی پڑتی ہے پھر بات یہیں تک نہیں رکتی اور ہر قسم کے جذباتی رد عمل کے لیئے تیار رہا جائے جسکا نتیجہ ایک بڑے تہذیبی تصادم کی صورت میں نکلے گا۔

فریڈم آف اسپیچ کا یہ عفریت کتنی تہذیبوں کو نگلے گا، اگر یہی حالات رہے تو انفرادی طور پر لوگوں کا رد عمل بد ترین سانحات کو جنم دے گا۔مگر سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ کسی ملک کی ایمبسی بند کر دینا۔ سفیر کو ملک بدر کر دینا انکی مصنوعات کا بائکاٹ کر دینا، کیا مستقل مسائل ختم کرنے کا حقیقی حل ہے۔یقیناً ایسا نہیں ہے۔ابھی تک تصدیق شدہ ایسی کوئی معلومات نہیں ہیں کہ ہالینڈ کی کتنی کمپنیاں پاکستان میں کام کر رہی ہیں اور کتنا منافع یہاں سے کما کر لے جارہی ہیں۔پاکستان میں جو کمپنیاں کام کر رہی ہیں ان میں کام کرنے والا عملہ اور انتظامیہ کی اکثریت پاکستانیوں پر مشتمل ہے ۔کمپنیاں بند ہونے کی صورت میں انکا متبادل روزگار کیا ہوگا۔

دنیا میں اگر کسی ملک کو اقتصادی طور پر کمزور کرنا ہوتا ہے تو اسکی امپورٹ ایکسپورٹ پر ٹیکسسز اور ڈیوٹی بڑھا دی جاتی ہے جیسے اس وقت امریکہ چین۔ترکی اور یورپی یونین کے ممالک کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے ۔پاکستان اربوں ڈالر کا مقروض ملک کسی بھی ملک کو اقتصادی دباؤ کا شکار کیسے کر سکتا ہے جبکہ وہ خود اقتصادی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ۔یہ کام کسی ایک ملک کے عوام کے احتجاج سے نہیں ہوگا بلکہ تمام اسلامی ممالک کو ایک پیج پر آنا پڑے گا اور متحد ہو کر مخالفین کو پیغام دینا ہوگا کہ ناموس رسالت پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے ۔بلاشبہ پاکستان کو انفرادی طور پر بھی اپنے موقف سے نہیں ہٹنا چاہئے لیکن پاکستان اگر تمام اسلامی ملکوں میں روح محمد ﷺبیدارکرلیتاہے تو پھر دنیا کوئی طاقتور گستاخ ملک بھی کسی کمزور مسلمان ملک پر دھاوا نہیں بول سکے گا نہ مذہبی جذبات مجروح کرے گا۔ عشقِ مصطفیٰ ﷺ امت مسلمہ کا ایمان ہے ۔دوسری طرف مغربی ممالک کی حکومتوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہییں کہ فریڈم آف اسپیچ کے نام پر جو آگ لگائی جارہی ہے اسکی زد میں وہ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ آئے دن اس حوالے سے نئے نئے فتنے سامنے آتے رہتے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو مکالمہ ختم ہو کر تہذیبوں کے درمیان جنگ کی صورت اختیار کر جائے گا جسے روکنا پھر کسی کے لیئے بھی ممکن نہیں رہے گا ۔جب تک مغربی دنیا مسلمانوں کی عقیدت اور محبت کو انکی نظر سے نہیں دیکھے گی نہیں سمجھے گی اس راز عشق کو کبھی سمجھ نہ پائے گی۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ