عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر55

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر55
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر55

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قاسم دربارِ شاہی سے اس سفاک قاتل کو اپنے ہمراہ خفیہ محکمے کے تہہ خانے میں لے آیا۔یہاں آکر قاسم نے باقی تمام سپاہیوں کو چلتا کیا ۔ اور جب تہہ خانہ خالی ہوگیا ۔ تو سپہ سالار سے کہا:۔

’’سپہ سالار ! دیکھو تم نے بادشاہ کے بھائی کو قتل کیا ہے۔ اور اپنے ہاتھ سے قتل کیا ہے۔ تم جانتے ہو کہ تم موت سے بچ نہیں سکتے۔ لیکن تمہارے بچنے کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ میں تمہیں یہاں سے فرار کروادوں۔ میں تمہارے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اگر تم مجھے صرف ایک بات بتادو۔‘‘

’’قاسم بن ہشام ! میں جانتا ہوں تم مجھ سے کیا پوچھو گے۔ تم مجھ سے یہ اگلوانا چاہتے ہو کہ میں عیسائیوں کا جاسوس ہوں۔ لیکن یہ تمہاری غلط فہمی ہے۔ میں اب بھی اسی بات پر قائم ہوں کہ میں نے سلطان کے بھائی کو سلطنت کی بھلائی میں قتل کیا ہے۔‘‘

سپہ سالار قاسم کی توقع سے زیادہ تیز نکلا۔ لیکن قاسم نے ہمت نہ ہاری اور پھر کہا:۔

’’مجھے تم سے کچھ اگلوانے کی ضرورت نہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تم کس کے لیے کام کرتے ہو۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ تمہاری اصلیت کیا ہے۔ اور تم ینی چری میں کس طرح شامل ہوئے۔ تمہیں شاید معلوم نہیں کہ جس شخص نے پہلی مرتبہ ابوجعفر اور سلیم پاشا کی قلعی کھولی تھی وہ میں ہی ہوں۔ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ سلطان کے بڑے بھائی شہزادہ علاؤالدین بیماری سے فوت نہیں ہوئے بلکہ انہیں قتل کیا گیا ہے۔ تم کسی خوش فہمی میں مت رہنا ۔ میں تو تمہارے ساتھ ایک سودا کر رہا تھا ۔ مجھے اپنے ایک ذاتی دشمن کا پتہ درکار ہے۔اس کے کے بدلے میں ، میں تمہیں ’’ادرنہ ‘‘ سے فرار ہونے کا موقع د ے سکتا ہوں۔‘‘

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر54پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

اب قاسم کی بات سن کر سپہ سالار کا دل دھک سے رہ گیا ۔ اسے قاسم کی بات میں سچائی محسوس ہونے لگی ۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ قاسم کا دشمن کون ہے۔ وہ ابوجعفر کو کیسے بھول سکتا تھا ۔ جسے چھڑوانے کے لیے ا سے کئی سال پہلے ایک تاریک رات میں اس نے ادرنہ کے شمالی قلعے پر حملہ کیا تھا ۔ ہاں!........یہ سپہ سالارو ہی شخص تھا ۔جس کا نقاب پوش دستہ رات کی تاریکی میں ابوجعفر کو قاسم کی قید سے چھڑوا کر لے گیا تھا ۔ سپہ سالار کی کہانی مختصر سی تھی۔ اس نے ’’قسطنطنیہ ‘‘ میں آنکھ کھولی تھی۔ وہیں تربیت اور پرورش پائی۔ اس کا خاندان ’’قیصر کا قرابت دار تھا ۔ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا ۔ کیونکہ ایسا کرنا کچھ مشکل نہ تھا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطان کی ینی چری فوج دراصل تھی ہی ان عیسائی نوجوانوں کا مجموعہ جو جنگوں میں گرفتار ہو کر آتے اور بعد میں انہیں تربیت دے کر اور مسلمان کر کے ینی چری میں شامل کر لیا جاتا ۔ سپہ سالار نے جب قاسم کے منہ سے یہ سنا کہ قاسم اس کے بارے میں سب کچھ جانتا ہے ۔ تو اس کی روح کانپ گئی۔ اور اسے یوں لگا جیسے سلطانی تلوار اس کے سر پر آپڑی ہو۔ اس نے فی الفورفیصلہ کیا کہ وہ قاسم کے ساتھ تعاون کرے گا۔ اور ’’ادرنہ ‘‘ سے فرار ہونے کی کوشش کرے گا۔ یہ سوچ کر اس نے کہا:۔

’’اس بات کا کیا ثبوت ہے کہ تم اپنے دشمن کا پتہ معلوم کرکے مجھے زندہ چھوڑ دو گے؟‘‘

قاسم کا تیر ٹھیک نشانے پر بیٹھاتھا ۔ گویا سپہ سالار نے اعتراف کر لیا تھا کہ وہ قیصر کا جاسوس ہے۔ اس کے سوال پر قاسم نے کہا:۔

’’میرے سودے پر یقین کرنا تمہاری مجبوری ہے۔ اگر تم یقین نہیں کرتے تو نہ کرو۔ میں اپنے دشمن کا پتہ تمہیں اذیت میں مبتلا کرکے بھی معلوم کرسکتا ہوں۔ اب جیسے تمہاری مرضی۔‘‘

قاسم کی بات میں وزن تھا ۔ جسے سپہ سالار نے پوری طرح محسوس کیا ۔ اور بے بسی سے قاسم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا:۔

’’تم ٹھیک کہتے ہو۔ تم پر اعتماد کرنا میری مجبوری ہے۔ تم میرے ہاتھ پاؤں کی زنجیریں کھول دو۔ میں تمہارے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں۔‘‘

قاسم نے اس کی تمام زنجیریں کھول دیں۔ صرف ہاتھوں میں ہتھکڑی لگی رہنے دی تاکہ وہ حملہ نہ کر سکے۔ اور اس کے قریب فرش پر بیٹھ گیا ۔ سپہ سالار نے کہا:۔

’’ابوجعفر کو جمعہ کی شب میں نے ہی تمہاری قید سے رہا کروایا تھا ۔ میں اور میرے ساتھیوں نے آدھی رات کے بعد شمالی قلعے پر حملہ کرکے وہاں موجود محافظوں کو قتل کردیا ۔ اور قلعے کے تہہ خانے سے ابوجعفر کو نکال کر ہم لوگ فصیل کی جانب سے ہی شہر سے باہر اتر گئے تھے۔شہر سے باہر البانوی کنیز کی بیٹی’’مارسی‘‘ کی سواری محافظوں کے ایک دستے سمیت ہماری منتظر تھی.......‘‘

سپہ سالار نے ابھی اتنا بتایا تھا کہ قاسم کا دماغ سنسنانے لگا ۔ توکیا ابوجعفر مارسی کو اپنے ساتھ لے گیا تھا ؟ کیا اس وقت تک مارسی زندہ تھی؟..........یہ سوال قاسم کے رگ وپے میں برقی لہر کی طرح اتر گئے۔ اس نے بے صبری سے دریافت کیا:۔

’’یہ کیا .........یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ ۔ کیا البانوی کنیز کی بیٹی مارسی اس وقت تک زندہ تھی؟‘‘

’’ہاں وہ زخمی تھی۔ لیکن پوری طرح صحت یاب تھی۔ اسے ہم لوگ ایک رتھ میں لٹا کر ’’البانیہ ‘‘ کی جانب روانہ ہوئے تھے۔ ہم نے براہِ راست ’’البانیہ ‘‘ کا راستہ اختیار نہ کیا تھا ۔ بلکہ پہلے ہم نے ایشیائے کوچک کی جانب پانچ سو کوس کا فاصلہ طے کیا ۔ اور پھر ہم نے ایک لمبا موڑ کاٹ کر ’’کوہِ بلقان‘‘ کا رخ کیا تھا ۔ کوہِ بلقان کے نزدیک پہنچ کر میں نے ابوجعفر کو الوداع کہا۔ اور واپس ’’ادرنہ ‘‘ لوٹ آیا۔ اس وقت تک میں سپہ سالار نہیں تھا۔ بلکہ ینی چیری کا سپہ سالار ’’خواجہ خیری‘‘ تھا ۔ اس لیے میری گم شدگی پر کسی کی نظر نہ گئی۔‘‘

قاسم پر حیرتوں کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے۔ اس کا مطلب تو یہ تھا کہ مارسی ابھی تک زندہ ہے۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی۔ اور وہ اپنی جگہ پر بیٹھا بیٹھا مضطرب ہوگیا ۔ مارسی اس کی پہلی محبت ۔اس کی زندگی ابھی تک زندہ تھی۔جسے وہ چھ سال پہلے مردہ تصور کرچکاتھا ۔ اور پھر جب اس کے خاص آدمی نے اسے آکریہ بتایا کہ سکندر بیگ نے سلطان مراد خان کے ایلچیوں کو قتل کردیا ہے۔ اور مارسی البانوی محل میں موجود نہیں۔ تو اسے یقین ہوگیا تھا کہ مارسی مرچکی ہے۔ لیکن آج سپہ سالار کی بات سن کر اس کے اوسان ٹھکانے نہ رہے تھے۔ کیونکہ اب چھ سات سال بعد اسے اچانک مارسی کے زندہ ہونے کی خبر ملی تھی۔ وہ بری طرح بے چین ہوگیا تھا ۔ اور چاہتاتھا کہ کسی طرح اسے پر لگ جائیں۔ اور وہ اڑ کر اپنی مارسی تک جاپہنچے۔ لیکن اسے یہ معلوم نہ تھا کہ مارسی کہاں ہے؟ اس نے جذبات سے لبریز لہجے میں پوچھا:۔

’’کیا تمہیں اس البانوی کنیز کی بیٹی کے بارے میں کچھ خبر ہے کہ ابوجعفر اسے کہا ں لے کر جارہا تھا ؟‘‘

’’ہاں ! .......مجھے معلوم ہے۔ ابوجعفر اسے ’’سکندر بیگ ‘‘ کے لیے ’’البانیہ ‘‘ لے کر جارہا تھا ۔‘‘

لیکن وہ تو ’’البانیہ ‘‘ میں نہیں ہے۔ میں نے خود معلوم کیا ہے‘‘

قاسم نے بے چینی سے کہا۔ اب قاسم کی حالت پر سپہ سالار غور کرنے لگا۔ وہ دیکھ رہا تھا کہ قاسم مارسی کے ذکر پر جذباتی ہوا جارہا تھا۔ لیکن وہ مارسی کے بارے میں اس سے زیادہ کچھ نہ جانتا تھا کہ اسے آخری بار ابوجعفر ’’البانیہ‘‘ کی جانب لے جارہا تھا ۔ اس نے کسی قدر مایوسی سے کہا:۔

’’مجھے مارسی کے بارے میں تو کچھ معلوم نہیں۔ البتہ ! میں ابوجعفر کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ اس وقت کہاں ہے۔‘‘

یہ خبر بھی قاسم کے لیے کم چونکانے والی نہ تھی۔ اس کے بدن کے رونگٹے کھڑے ہونے لگے۔ اور وہ پوری طرح ہمہ تن گوش ہوگیا ۔ سپہ سالار بتارہا تھا :۔

’’ابوجعفر اس وقت ’’قسطنطنیہ ‘‘ کے سب سے بڑے کلیسا ’’آیا صوفیاء‘‘ میں ہے۔ اس کا اصل نام ’’ڈیمونان‘‘ ہے ۔ اور وہ ’’آیا صوفیاء ‘‘ میں ایک معزز ’’بطریق ‘‘ہے۔’’ڈیمونان‘ اپنے سابقہ کارناموں کی بدولت بطریقِ اعظم اور شہنشاہ کا منظورِ نظر ہے۔ اوراب بھی وہ جاسوسی کے نظام کے ساتھ منسلک ہے۔‘‘

قاسم کے لیے یہ معلومات بے حد حیران کن تھیں۔ ابو جعفر کی اصلیت جان کر اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ اسے یوں محسوس ہوا جیسے اگر وہ ابوجعفر تک پہنچ گیا ۔ تو اپنی مارسی تک بھی پہنچ جائے گا۔ قاسم کو اس سے زیادہ سپہ سالار سے کچھ پوچھنا بھی نہیں تھا ۔ لیکن پھر بھی وہ دیر تک سپہ سالار کے ساتھ بہت سی باتیں کرتا رہا۔ اس نے سپہ سالار سے یہ بھی معلوم کرلیا کہ ’’ادرنہ ‘‘ میں قیصر کے اور کتنے جاسوس سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ سپہ سالار سے تمام راز اگلوانے کے بعد قاسم وہاں سے اٹھا اور جانے لگا تو سپہ سالار بھی عجلت میں اٹھ کھڑا ہوا۔ اور بولا:۔

’’یہ کیا ؟.........تم تو جارہے ہو.......اور وہ تمہارا سودا؟........میر ا کیا ہوا؟‘‘

’’تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ میں رات کو کسی وقت تمہیں یہاں سے نکال دوں گا۔‘‘

لیکن وہ رات کبھی نہ آئی۔ کیونکہ قاسم وہاں سے سیدھا ’’سلطان محمد خان‘‘ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور اسے تمام تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ جس کے نتیجے میں اگلے روز شہر کے سب سے بڑے چوک میں سفاک قاتل سپہ سالار کی لاش لٹک رہی تھی۔ سلطان نے شہر میں منادی کرواکر لوگوں کو بتایا تھا کہ ینی چری کے سپہ سالار کو ننھے شہزادے کے قتل کے قصاص میں سزائے موت دی گئی ہے۔ جبکہ ان معلومات کی بناء پر جو قاسم نے سپہ سالار سے حاصل کی تھیں۔ ینی چری میں موجود کئی سالاروں اور بہت سے سپاہیوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے بغاوت کا خطرہ بھی ٹل گیا تھا ۔

سلطان نے ینی چری کے سپہ سالار کو سزائے موت دینے کے بعد ینی چری کے لیے نیا سپہ سالار مقرر کیا ۔ جو قاسم بن ہشام کا دوست’’آغاحسن ‘‘ تھا ۔ آغاحسن کو سپہ سالاری ملی تو پوری فوج کے طورو اطوار ہی بدل گئے۔ کیونکہ ’’آغاحسن ‘‘ ایک مخلص، سچا اور کھرا مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہادر اور جنگجو مجاہد بھی تھا۔ پوری فوج آغاحسن کی تعیناتی پر بہت خوش تھی ۔قاسم بھی آغاحسن کی تعیناتی پر بہت خوش تھا۔ لیکن اس کے ذہن میں ہر گھڑی ’’قسطنطنیہ ‘‘ جانے کا خیال سمایا ہوا تھا ۔ وہ ابوجعفر تک پہنچنا چاہتا تھا ۔ تاکہ اپنی مارسی کو ڈھونڈ سکے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کے دل نے گزشتہ چھ سات سالوں میں کبھی بھی یہ تسلیم نہ کیا تھا کہ مارسی مرچکی ہے۔ اس کے ذہن میں مارسی ہر وقت موجود تھی۔ لیکن جب سے اسے مارسی کے زندہ ہونے کی خبر ملی تھی ۔ اس کی نیندیں اڑ چکی تھیں۔ وہ ہر لمحہ ’’قسطنطنیہ ‘‘ جانے کے بارے میں سوچتا رہتا ۔ گھر میں حمیرا نے اسے پریشان دیکھا تو ایک دن پوچھ لیا :۔

’’آج کل آپ دل گرفتہ دکھائی دیتے ہیں۔ لگتا ہے کسی بچھڑے ہوئے کی یاد ستا رہی ہے؟‘‘

قاسم نے حمیرا کو مارسی کے بارے میں سب کچھ بتارکھا تھا ۔ چنانچہ اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:۔

’’ہاں !...........دراصل مجھے ایک عجیب اطلاع ملی ہے۔ سوچتا ہوں تمہیں بتاؤ ں یا نہ بتاؤں؟‘‘

’’ایسی بھی کیا اطلاع ہے جو آ پ مجھے بتاتے ہوئے بھی گھبراتے ہیں.......آپ بے فکر ہوکر بتائیے! آپ نے مارسی سے محبت کی ہے۔ لیکن میں نے آپ سے محبت کی ہے۔ مجھے کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ چاہے آپ اس گھر میں مارسی کو زندہ کرکے ہی کیوں نہ لے آئیں۔‘‘

قاسم حمیرا کی بات سے ششدر رہ گیا ۔ اور اسے اپنی بیوی پر بے طرح پیار آنے لگا۔ اس نے حمیرا کو اپنی بانہوں میں بھر لیا۔ اور اپنے ساتھ بھینچتے ہوئے اس کے سر پر اپنی ٹھوڑی ٹکادی۔

’’حمیرا ! تم میری زندگی ہو۔ میری بچی کی ماں ہو۔ اور سچ تو یہ ہے کہ میری محبت ہو......حمیرا ! میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا۔ مجھے اطلاع ملی ہے کہ مارسی شہید نہیں ہوئی۔ بلکہ ابھی تک زندہ ہے۔ لیکن یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ وہ کہاں ہے۔ اس کی ماں کا قاتل اور اس کو یہاں سے اغواء کر کے لے جانے والا شخص ’’قسطنطنیہ ‘‘ میں ہے۔ اور اس کا پتہ چل گیا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ کسی طرح سلطان سے اجازت لے کر ’’قسطنطنیہ ‘‘ چلا جاؤں۔ اور مارسی کا پتہ لگانے کی کوشش کروں۔‘‘

قاسم نے محسوس کیا کہ مارسی کے زندہ ہونے کی خبر سن کر حمیرا کا دل دھک سے رہ گیا تھا ۔ اور اس کے چہرے پر کسی قدر یاس انگیز حیرت تھی۔ اس نے سر اوپر اٹھایا اور اپنی آنسو بھری پلکیں پٹپٹا تے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا:۔

’’ارے واہ !! یہ تو بہت بڑی خوشخبری ہے۔ اگر مارسی زندہ ہے۔ تو میں اسے خود اپنے ہاتھوں سے دلہن بناکر یہاں لے آؤں گی۔ وہ آپ کی محبت ہی نہیں میری بہن بھی ہے۔ اور بہت عظیم بھی۔ میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ۔ جبکہ اس نے اپنا سب کچھ ایمان اور اسلام کے لیے داؤ پر لگادیا ہے۔ ایسی لڑکی تو زیارت کے قابل ہے۔‘‘

حمیرا کے دل میں ایک طرف مارسی سے عقیدت کے جذبات امڈ رہے تھے اور دوسری جانب اپنی محبت کے تقسیم ہوجانے کا اندیشہ سر اٹھا رہا تھا ۔ لیکن اس نے اپنے انداز سے کوئی اندیشہ ظاہر نہ ہونے دیا ۔ وہ قاسم کی بانہوں میں اور بھی سمٹ گئی۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح