میاں بیوی یہ غلطی کربیٹھیں تو انہیں ازدواجی تعلق سے پہلے پھر نکاح کرنا چاہئے ،یہ نکاح کس طرح پڑھا جائے گا ؟ آپ بھی جانئے تاکہ گناہ گار ہونے سے بچ جائیں

میاں بیوی یہ غلطی کربیٹھیں تو انہیں ازدواجی تعلق سے پہلے پھر نکاح کرنا چاہئے ...
میاں بیوی یہ غلطی کربیٹھیں تو انہیں ازدواجی تعلق سے پہلے پھر نکاح کرنا چاہئے ،یہ نکاح کس طرح پڑھا جائے گا ؟ آپ بھی جانئے تاکہ گناہ گار ہونے سے بچ جائیں

  

لاہور(ایس چودھری )ازدواجی زندگی کے دوران بہت سے مسلمانوں سے ایسی خطائیں سرزد ہوجاتی ہیں کہ جس سے ان کے نکاح پر زد پڑتی ہے ۔اگرچہ میاں بیوی میں حتمی طلاق تین طلاقوں کے مروجہ فقہی اصولوں کے بعد موثر ہوپاتی ہے اور اگر وہ دوبارہ سے میاں بیوی بننے کی خواہش رکھیں گے تو اس کے لئے بیوی کو کسی اور مرد سے نکاح کے بعد طلاق لیکر ہی پہلے شوہر کی زوجیت اختیارکرتے ہوئے دوسری بار نکاح کرنا ہوتا ہے یا پھر دوسرے مرد سے شادی کے بعد وہ بیوہ ہوجاتی ہے توتب بھی وہ پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے ۔تاہم میاں بیوی کے درمیان ایسے معاملات بھی جنم لیتے ہیں کہ طلاق مغلظہ نہ ہونے کے باوجود طلاق بائن و طلاق رجعی میں انہیں دوبارہ نکاح کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔ اکثریت اس شرعی معاملہ سے لاعلم ہے کہ یہ کیونکر ممکن ہے کہ میاں بیوی طلاق کے بغیر ایک دوسرے سے پھر نکاح کرسکتے ہیں ۔اس کے لئے ایسا کیا معاملہ پیش آجاتا ہے کہ میاں بیوی کو مسلمان ہونے کے ناطے پھر سے نکاحکرکے اپنی زندگی کو گناہوں سے پاک کرنا ہوتاہے ۔فقہ کے مطابق اس نکاح کو ’’تجدیدنکاح ‘‘ کہتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ زوجین اپنے نکاح کی تجدید کریں ۔ہمارے سماج میں عام طور یہ باتیں سننا پڑتی ہیں کہ فلاں نے اپنی بیوی سے کہا ’’ جا اپنے گھر چلی جا، میرا تجھ سے کوئی واسطہ نہیں یا ’’ تو مجھ پر حرام ہے ‘‘۔تو اس معاملہ کو سنگین نہیں سمجھا جاتا ، اسکو رواج کا نام دیا جاتا ہے اور میاں بیوی کے تعلقات میں اسکو معمول کی باتیں سمجھا جاتا ہے ۔اگر کسی مرد کی نیت مکمل جدائی کی ہو اور وہ ایسے کنایہ الفاظ کہے تو پھر بھی طلاق بائن ہوجائے گی۔ اور اس صورت میں عدت کے اندر یا عدت کے باہر دوبارہ نکاح کرکے عورت دوبارہ آباد ہو سکتی ہے۔

تجدید نکاح خاص طور پر ایسے مسلمانوں کو کرنا ہوتا ہے جو آپس میں جھگڑتے ہوئے کبھی کبھار یا اکثر ایسے الفاظ بول جاتے ہیں جن کا نکاح پر اثر پڑتا ہے ۔کچھ علما کا کہنا ہے کہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ پہلی بار طلاق دینے اور رجوع کرنے کے بعد اوردوسری بار طلاق دیکر رجوع کرنے کے موقع پر بھی تجدید نکاح کرلینا چاہئے اور تجدید نکاح اچھا عمل ہے ۔فقہ کے مطابق طلاق بائن کے بعد رجوع اس صورت میں کیا جاسکتا ہے کہ پہلے دونوں میاں بیوی تجدید نکاح کریں ۔یاد رہے کہ علما کے مطابق اگر کوئی شوہر یہ بھی کہے کہ ’’تجھ کو سخت طلاق‘‘ یا ’’لمبی چوڑی طلاق‘‘۔ تو یہ بھی طلاق بائن ہے۔طلاقِ بائن کا حکم یہ ہے کہ بیوی فوراً نکاح سے نکل جاتی ہے اور شوہر کو رْجوع کا حق نہیں رہتا، البتہ عدّت کے اندر بھی اور عدّت ختم ہونے کے بعد بھی دوبارہ نکاح ہوسکتا ہے۔تجدید نکاح طلاق مغلظہ کے بعد نہیں ہوسکتا ۔

تجدید نکاح کرنے کا طریقہ کیا ہے اس بارے میں جامعہ بنوریہ کے مفتیان کے مطابق دین سے ناواقف لوگ اپنی گفتگومیں ایسے الفاظ استعمال کرجاتے ہیں جن کی وجہ سے ان کا ایمان اور نکاح خطرے میں پڑجاتاہے اور بعض اوقات ختم ہوجاتاہے، اس لیے ایسے لوگوں کو احتیاطاً وقتاً فوقتاً تجدیدنکاح کرتے رہناچاہیے۔تجدیدِ نکاح کاطریقہ یہ ہے کہ دوگواہوں کی موجودگی میں نکاح کا ایجاب وقبول کرلیا جائے۔ مثلاً بیوی کہے کہ’’ میں اپنے آپ کو آپ کے نکاح میں دیتی ہوں اورشوہر کہے کہ میں قبول کرتا ہوں‘‘

ادارہ منہاج القرآن کے مفتی علامہ شبیر احمد قادری کا تجدیدنکاح کے مسئلہ پر کہنا ہے کہ تجدید نکاح سے مراد ہے ’’نئے حق مہر کے ساتھ نیا نکاح‘‘۔نکاح ایک مرد و عورت کا دوگواہوں کی موجودگی میں، حق مہر کے عوض، رضامندی سے ایجاب و قبول کرنے کا نام ہے۔ خطبہ نکاح‘ نکاح کی شرط نہیں بلکہ مستحب ہے۔ تجدیدِ نکاح کے لیے مرد و عورت دو مسلمان مردوں یا ایک مسلمان مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں حق مہر کے بدلے ایجاب و قبول کریں گے۔ جس کے بعد تعوّذ و تسمیّہ پڑھ کر جتنا ہو سکے کلام اللہ کی تلاوت کر لیں، یا خطبہ نکاح یاد ہے تو پڑھ لیں‘ نکاح ہو جائے گا۔ بہرحال حقِ مہر، گواہ اور ایجاب و قبول نکاح کی شرائط ہیں، ان کے بغیر نکاح منعقد نہیں ہوگا۔

مزید :

روشن کرنیں -