وہ کام جو عید الاضحی پر پاکستان میں ہر شہری کرتا ہے، برطانیہ میں مقیم پاکستانی خاندان نے کیا تو کھلبلی مچ گئی، پولیس حرکت میں آگئی کیونکہ۔۔۔

وہ کام جو عید الاضحی پر پاکستان میں ہر شہری کرتا ہے، برطانیہ میں مقیم ...
وہ کام جو عید الاضحی پر پاکستان میں ہر شہری کرتا ہے، برطانیہ میں مقیم پاکستانی خاندان نے کیا تو کھلبلی مچ گئی، پولیس حرکت میں آگئی کیونکہ۔۔۔

  

لندن(نیوز ڈیسک) عید الاضحٰی کے موقع پر ہمارے ہاں گھر گھر قربانی ہوتی ہے لیکن اس بار عید کے موقع پر جب برطانوی دارلحکومت میں ایک مسلمان خاندان نے اپنے گھر کے اندر یہ مذہبی فریضہ ادا کیا تو ایسا ہنگامہ برپا کیا گیا کہ بیچاروں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔

میل آن لائن کے مطابق اس مسلمان خاندان نے اپنے گھر کے پچھلے صحن میں قربانی کا اہتمام کیا تھا۔ مشرقی لندن کے علاقے ڈاگن ہام میں واقع کثیر المنزلہ فلیٹوں کے عقبی حصے میں ہونے والی اس قربانی کے منظر کی ہمسایوں نے ویڈیو بنا لی اور پھر محکمہ ماحولیات کو یہ کہہ کر شکایت کر دی کہ یہ لوگ ماحولیاتی آلودگی پھیلا کر اہل علاقہ کی صحت کے لئے خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ مذکورہ محکمہ بھی شاید یہ شکایت وصول کرنے کے لئے تیار ہی بیٹھا تھا اور فوری طور پر مسلمان خاندان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کاروائی شروع کر دی ہے۔

قربانی کرنے والے خاندان کے ہمسایوں اور سرکاری محکمے کے افسوسناک طرز عمل کے بارے میں بات کرتے ہوئے مقامی فلاحی تنظیم رمضان فاﺅنڈیشن کے چیف ایگزیکٹو محمد شفیق کا کہنا تھا کہ اس خاندان نے کچھ غلط نہیں کیا وہ محض اپنا مذہبی فریضہ ادا کررہے تھے۔

دوسری جانب شکایت لگانے والے ہمسایوں کا کہنا ہے کہ برطانوی قانون کے مطابق جانوروں کو صرف حکومت کے قائم کردہ مذبح خانوں میں ہی ذبح کیا جاسکتا ہے اور خصوصاً کھلے مقامات پر جانور کو ذبح کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ قریبی فلیٹ میں مقیم 62 سالہ خاتون جولیا میکلانن کا کہنا تھا کہ ”یہ منظر دیکھنے میں کچھ اچھا نہیں تھا کیونکہ وہ ایسی جگہ پر گوشت بنارہے تھے جو گوشت بنانے کے لئے مطلوبہ صفائی کی حامل نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے اوزاروں کو بھی پرانے کپڑوں میں لپیٹ رکھا تھا اور گوشت بنانے والے افراد نے بھی حفظان صحت اور صفائی کے اصولوں کے مطابق کوئی اقدامات نہیں کئے ہوئے تھے۔“

مذکورہ خاندان کے خلاف شکایت درج کرنے کے بعد بارکنگ اینڈ ڈاگن ہام کاﺅنسل کا کہنا تھا کہ ان کے خلاف تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے اور الزامات ثابت ہونے پر انہیں قانون کے مطابق سزا کا سامنا کرنا ہو گا۔

مزید :

برطانیہ -