پاکستان کا وہ علاقہ جہاں عید الاضحی پر ایک بھی گائے قربان نہیں کی گئی، لیکن وجہ ایسی کہ جان کر آپ یہاں کے رہنے والوں کو داد دیں گے

پاکستان کا وہ علاقہ جہاں عید الاضحی پر ایک بھی گائے قربان نہیں کی گئی، لیکن ...
پاکستان کا وہ علاقہ جہاں عید الاضحی پر ایک بھی گائے قربان نہیں کی گئی، لیکن وجہ ایسی کہ جان کر آپ یہاں کے رہنے والوں کو داد دیں گے

  


مٹھی(مانیٹرنگ ڈیسک) سرحد کے اُس پار بھارت میں گائے کے نام پر آئے روز مسلمانوں کو قتل کیا جا رہا ہے لیکن سرحد کی اس جانب ایک عجب منظر ہے۔ عید الاضحٰی کا موقع ہے، سارے ملک میں دیگر جانوروں کے ساتھ گائے کی قربانی بھی ہو رہی ہے، مگرایک ضلع ایسا ہے جہاں کوئی بھی گائے کی قربانی نہیں کر رہا۔ یہ سندھ کا سرحدی ضلع تھرپارکر ہے جہاں ہر جانور کی قربانی کی جاتی ہے مگر گائے کی نہیں، کیونکہ یہاں بڑی تعداد میں ہندو کمیونٹی آباد ہے۔

ویب سائٹ ”عرب نیوز“ سے بات کرتے ہوئے تھرپارکر کے علاقے اسلام کوٹ سے تعلق رکھنے والے شہری تھاروخان نے بتایا کہ انہوں نے 18000 میں قربانی کا بکرا خریدا حالانکہ وہ 6000 روپے میں گائے میں بھی حصہ ڈال سکتے تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ”ہمارے علاقے میں 90 فیصد آبادی کا تعلق ہندو مذہب سے ہے۔ میں نے اپنا مذہبی فریضہ بھی ادا کردیا اور گائے کی بجائے بکرے کا انتخاب کرکے اپنا سماجی فریضہ بھی ادا کردیا۔ میں نے اپنے ہندو دوستوں کے جذبات کا بھی خیال رکھا لہٰذا میں نے گائے کی قربانی میں حصہ ڈالنے کی بجائے بکرے کا انتخاب کیا۔“

تھارو خان کی طرح تھرپارکر میں بے شمار دیگر ایسے مسلمان ہیں جو ہندو کمیونٹی کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے گائے کی بجائے کسی دیگر جانور کی قربانی کرتے ہیں۔ تھرپارکر کی آبادی 16 لاکھ ہے جس میں سے تقریباً 40 فیصد کا تعلق ہندو مذہب سے ہے۔ اسلام کوٹ میں 90 فیصد آبادی کا تعلق ہند ومذہب سے ہے۔ بھارتی سرحد کے ساتھ واقعہ یہ ضلع سندھ کا پسماندہ ترین علاقہ ضرور ہے مگر محبت اور انسان دوستی میں یہ سب سے آگے ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...