پنجاب کابینہ کے تجربہ کار کھلاڑی 

پنجاب کابینہ کے تجربہ کار کھلاڑی 
پنجاب کابینہ کے تجربہ کار کھلاڑی 

  

پنجاب کی نئی کابینہ میں جہاں ایک طرف پرانے اور نئے لوگوں کا ایک اچھا امتزاج ہے وہاں اس کابینہ کے اکثر وزراء اپنے وزیراعلیٰ عثمان بْزدار سے زیادہ تجربہ کار، اہل اور بااثر ہیں۔ مگر دلہن وہی جو پیا من بھائے کے مصداق چونکہ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو وزیراعظم عمران خان کا مکمل اعتماد اور آشیر باد حاصل ہے اس لئے فوری طور پر تحریک انصاف اوراتحادی جماعتوں کی طرف سے انہیں کوئی خطرہ نہیں ہے مگر انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ان کی کابینہ میں بڑے تجربہ کار اور اہل لوگ بٹھا دیئے گئے ہیں جو یقینی طور پر ان پر ایک ’’چیک ‘‘سے کم نہیں ہیں۔ 

وزیراعلیٰ عثمان بزدار جو ایک منکسرالمزاج اور نرم خو وزیراعلیٰ معلوم ہوتے ہیں ان پر پہلے ہی چودھری سرور اور چودھری پرویز الٰہی جیسے مہا تجربہ کار اور دور اندیش گورنر اور سپیکر کے طور پر ایک چھتری کے طور پر بھی موجود ہیں مگر یہ ان کے کڑے احتساب کے لئے ان کے کاموں پر نظر رکھنے کے لئے موجود ہیں۔ پنجاب جیسے صوبے میں جہاں دس سالوں کے بعد حکومت میں تبدیلی آئی ہے۔ یہاں کے لوگ اور بیورو کریسی دوسرے صوبوں کی نسبت مسلم لیگ (ن) کے لئے زیادہ نرم گوشہ اور ہمدردی رکھتے ہیں۔ اس لئے وزیر اعلیٰ اور پنجاب کابینہ کا یہ بڑا امتحان ہو گا کہ وہ پنجاب کے انتظامی اور سیاسی معاملات کیسے چلاتی ہے۔ موجودہ کابینہ پر نظر دوڑائی جائے تو یہاں پر سینئر وزیر کے طور پر عبدالعلیم خان موجود ہیں جو پاکستان تحریک انصاف اور وزیراعظم عمران خان پر اپنا ایک خاص اثر رکھتے ہیں ان کے تعلقات کا دائرہ کار بھی وسیع ہے اور وہ ماضی میں بھی وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی کی کابینہ میں وزیر رہے ہیں۔ ویسے تو انہیں سینئر وزیر بنایا گیا ہے مگر رولز آف بزنس سینئر وزیر کو اپنے محکمے کے علاوہ کوئی خاص اختیار نہیں دیتے اور پنجاب جیسے صوبے میں رولز آف بزنس میں لکھا ہوا ہے کہ ہر محکمے کا سیکرٹری ہی حکومت ہے نہ کہ اس محکمے کا وزیر ہے۔

راجہ بشارت ایک تجربہ کار سلجھے ہوئے اور نفیس وزیر ہیں وہ پہلے بھی وزیر قانون رہ چکے ہیں انہیں ایوان کے اندر حکومت کا د فاع کرنے کا ملکہ آتا ہے۔ پی ٹی آئی کو پنجاب اسمبلی کے اندر حالات بہت اچھے ملیں گے کیونکہ ایوان کو چلانے کے لئے جن دو عہد وں کا بنیادی اور کلیدی کردار ہوتا ہے وہ سپیکر اور وزیر قانون ہوتے ہیں دونوں نہ صرف تجربہ کار اور محنتی ہیں بلکہ ایک دوسرے کو بھی سمجھتے ہیں ، راجہ بشارت ایک طویل عرصے تک چودھری پرویز الٰہی کے ساتھ بطور وزیر کام کرنے کے علاوہ (ق) لیگ کا حصہ رہے ہیں۔ لاہور سے ڈاکٹر یاسمین راشد کو صحت کا محکمہ دیا گیا ہے ان سے لوگوں اور پی ٹی آئی کو بہت امیدیں ہیں ۔وہ ایک محنتی خاتون ہیں ،ڈاکٹروں کی لیڈر رہی ہیں اس لئے کہا جا رہا ہے کہ وہ محکمہ صحت میں انقلابی تبدیلیاں لائیں گی۔

میاں اسلم اقبال کا تعلق لاہور سے ہے، وہ بھی پہلے وزیر رہ چکے ہیں۔ محنتی اور ملنسار ہیں۔ وزارت اعلیٰ کے ایک اچھے امیدوار تھے۔ اس طرح چودھری ظہیرالدین بھی وزیر رہے ہیں ،بردبار اور تحمل سے بات اور کام کرنے کا ملکہ انہیں بھی حاصل ہے۔ ملک انور، حسنین دریشک، محمد سبطین بھی پہلے وزیر رہ چکے ہیں۔ ملک نعمان لنگڑیال اس سے قبل مرکز میں وزیر مملکت رہ چکے ہیں، ان کے والد بارہا پنجاب کے وزیر رہے۔ سمیع اللہ چودھری کا تعلق بہاولپور سے ہے۔ وہ میاں شہباز شریف کے دور میں سستی روٹی پراجیکٹ پر کام کر چکے ہیں،شائد اسی لئے انہیں وزیر خوراک بنایا گیا ہے۔ مگر سستی روٹی ایک ایک فیل پراجیکٹ تھا جس پر قوم کے اربوں روپے کا نقصان ہوا تھا۔

قصور سے سردار آصف نکئی بھی بڑے تجربہ کار سیاستدان ہیں ۔ان کی فیملی کئی دہائیوں سے سیاست میں ہے۔ ان کے والد محترم سردار عارف نکئی پنجاب کے وزیراعلیٰ رہے ہیں۔ قصور سے ہی دوسرے وزیر سردار ہاشم ڈوگر پہلی دفعہ ہی ایم پی اے بنے اور خوش نصیب ہیں کہ وزیر بن گئے وہ سابق فوجی افسر ہیں ۔انہیں اس حوالے سے بڑا انتظامی تجربہ حاصل ہے۔

میاں محمود الرشید اپوزیشن لیڈر رہے ہیں۔کابینہ میں مختلف ڈویژنز اور اضلاع کو نمائندگی دیتے وقت 23 اضلاع کو بالکل نظر انداز کر دیا گیا ہے جبکہ لاہور سے 8 لوگوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ پنڈی ڈویژن سے چھ لوگ وزیر بنے ہیں جبکہ فیصل آباد ڈویژ ن سے تین وزیر شامل کئے گئے ہیں۔ نئے وزیراطلاعات فیض الحسن چوہان کا تعلق صحافیوں اور صحافت سے بہت اچھا ہے ۔اْمید ہے کہ وہ اس محاذ پر سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ اسی طرح نوجوان وزراء کی ایک بڑی تعداد بھی کابینہ کا حصہ ہے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -