A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

”کسی نے رضوان گوندل سے یہ نہیں کہا کہ۔۔۔“ ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے اور انکوائری کے حکم کے بعد معروف صحافی نے ایسا انکشاف کر دیا کہ ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

”کسی نے رضوان گوندل سے یہ نہیں کہا کہ۔۔۔“ ڈی پی او پاکپتن کے تبادلے اور انکوائری کے حکم کے بعد معروف صحافی نے ایسا انکشاف کر دیا کہ ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں

Aug 27, 2018 | 21:17:PM

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی جی پنجاب پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام نے ڈی پی او پاکپتن رضوان عمر گوندل کا کسی دباﺅ پر نہیں بلکہ واقعہ سے متعلق غلط بیانی پر تبادلہ کیا جبکہ سوشل میڈیا پر اس سارے معاملے کو غلط رنگ دینے پر رضوان عمر گوندل کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دیدیا گیا ہے۔

اس سارے معاملے کے بعد معروف صحافی انور لودھی نے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ ہر کسی کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ انور لودھی نے ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں لکھا ”یاد رکھیں پنجاب پولیس شریفوں کی بھرتی کی ہوئی ہے۔ ڈی پی او رضوان گوندل اور پولیس ڈرامہ کر رہی ہے۔ میرے ذرائع کے مطابق کسی نے اس کو ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے کا نہیں کہا۔ ابھی جب ناصر درانی پولیس میں اصلاحات کرے گا، ان کی رشوت خوری بند کروائے گا تو ایسی مزید چیخیں سنائی دیں گی۔“

واضح رہے کہ اس سے قبل یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ 23 اگست کو خاور مانیکا کی گاڑی کو روکا گیا لیکن وہ نہ رکے، جب زبردستی خاور مانیکا کی کار کو روکا گیا تو انہوں نے غلیظ زبان استعمال کی جس کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب نے آر پی او اور ڈی پی او کو جمعہ کو طلب کیا تھا اور معاملہ رفع دفع کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن ڈی پی او نے ڈیرے پر جا کر معافی مانگنے سے انکار کردیا اور موقف اپنایا کہ پولیس کا کوئی قصور نہیں، معافی نہیں مانگ سکتا اور اپنے موقف سے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھی آگاہ کردیا جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا کر اوایس ڈی بنا دیا گیا۔

الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر اس خبر نے بھونچال برپا کر دیا جس کے بعد آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام کا بیان بھی سامنے آ گیا کہ رضوان گوندل کو کسی دباو¿ پر نہیں بلکہ واقعہ کے متعلق غلط بیانی پر ڈی پی او پاکپتن کا تبادلہ کیا۔شہری سے پولیس اہلکاروں کی بد تمیزی کے واقعہ پر ڈی پی او رضوان عمر گوندل نے بار بار غلط بیانی سے کام لیا۔

آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام نے بطور پولیس افسر غیر ذمہ دارانہ رویہ اور غلط بیانی پر رضوان عمر گوندل کو تبدیل کیا جبکہ غلط بیانی کرنے، ٹرانسفرآرڈر کو غلط رنگ دینے اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنے پر رضوان عمر گوندل کے خلاف انکوائری کا حکم بھی دے دیا ہے آئی جی پنجاب ڈاکٹر سید کلیم امام کا کہنا ہے کہ مِس کنڈکٹ اور سینئر ز کو مِس گائیڈ کرنے والے افسران و اہلکار کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔

مزیدخبریں