پاکستان عرب ممالک کیساتھ یکطرفہ محبت بند کر دے 

پاکستان عرب ممالک کیساتھ یکطرفہ محبت بند کر دے 

تجزیہ؛۔ ایثار رانا

بہت دکھی دل سے کہ رہاہوں ہم نے اسلام پرستی سے کہیں زیادہ عربوں سے دوستی کی قیمت چکائی ہے۔اسرائیل کے خلاف ببابگ دہل کھڑے تھے اور کھڑے ہیں لیکن آج عرب اسی اسرائیل کی بانہوں میں باہیں ڈالے رقص کرتے نظر آتے ہیں۔کسی حد اتنا بھی چل جاتا تھا کہ کچھ لوگوں کے  دل حسین کے ساتھ اور تلواریں یزید کے ساتھ تھیں۔افسوس  اس بات پر ہے  کہ اب تو دل اور تلواریں  بھی یکجا ہیں۔جب کشمیروں پر عرصی حیات تنگ کرادیا گیا ہے متحدہ عرب امارات کا مودی کو ایسے موقع پر ایوارڈ سے نوازنا قطر کا دوسو سالہ پرانا مندر کھولنا اپنی ٹائمنگ کے اعتبار سے خاصا اہم ہے۔یہ کہا جا رہا ہے کہ کہ تجارتی مقاصد بہت اہم ہوتے ہیں میرا سوال ہے کہ کیا مذہبی جذبات سے بھی زیادہ اہم ہیں پھر امت مسلمہ کا مطلب کیا؟پھر مسلمان بھائی بھائی کا کیا مطلب؟کیا عربوں سے ہماری محبت اور عقیدت یک طرفہ ہے؟وہ جو مفت یا ادھار کا تیل ہے وہ بھیک ہے یا ہماری کھلی اور خفیہ خدمات کا معاوضہ؟ کلیجہ منہ کو آگیاجب مسلم دنیا کے طاقتور ترین ایٹمی ملک کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم اگر تنہا بھی رہ گئے تب بھی ہم کشمیر کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ہم تو وہ  ہیں جو عربوں کی معمولی آواز پر لاؤ لشکر لے کے پہنچ جاتے ہیں۔عرب اسرائیل جنگ ہو۔ فلسطینیوں کی نسل کشی ہو خانہ کعبہ کی حفاظت ہو چونتیس ملکوں کی فوجی قیادت ہو کہاں کہاں ہم نے محبت  نچھاور نہیں کی۔ہم نے وہ قرض بھی ادا  کئے جو ہم پہ واجب بھی نہیں تھے۔  آج ہمیں اپنے دوستوں کے رویوں سے سبق سیکھنا ہوگا مجھے شاہ محمود قریشی کی اس بات سے شدید اختلاف ہے کہ ہم ان ممالک کو کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرینگے۔حیرت ہے اب بھی انہیں آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔جب پوری دنیا کشمیریوں کے لیے آواز اٹھارہی ہے ان عیاشیوں میں ڈوبے عربوں کو بتانے کی ضرورت ہے۔افسوس صد افسوس۔اب یہ یکطرفہ محبت بند ہوجانی چائییآخر کب تک ہم انہیں اپنے ملک میں پراکسی وار کرکے فرقوں میں تقسیم ہونے،پھر یہاں سے جہادی پیدا کرکے دنیا بھر پاکستان کو رسوا کرانے، ملک لوٹنے والوں کو انکے باحفاظت حوالے کرنے کی اجازت  دینگے۔میں تو کہوں گا جنرل(ر) راحیل شریف احتجاجا قیادت چھوڑ دیں بطور قوم ہمیں انہیں اپنی نا پسندیدگی کا پیغام دینا چاہئے۔آج ایک دنیا ہمارے  موقف کے ساتھ ہے،جو ساتھ نہیں انہیں یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ انہیں ہماری ضرورت پڑنی ہے۔

تجزیہ ایثار رانا

مزید : تجزیہ


loading...