عنایت اللہ خان المشرقی تاریخ ساز شخصیت جنہیں یاد کرنا بہت ضروری! 

عنایت اللہ خان المشرقی تاریخ ساز شخصیت جنہیں یاد کرنا بہت ضروری! 

  

آج جس تاریخ ساز شخصیت کے بارے میں لکھ رہا ہوں اُن سے میرا روحانی رشتہ اور عقیدت کا رشتہ تو ہے ہی اور ان کے علم عالمگیر شخصیت کا تو میں لاکھوں کروڑوں لوگوں کی طرح معترف ہوں ہی مگر اللہ کے کرم سے مجھے ان کی نسل سے بھی ہونے فخر اور شرف حاصل ہے۔ میری آج کی شخصیت ہیں میرے دادا اور میرے آئیڈیل    (رسول اللہ ؐ اور قرون اولیٰ میں شخصیات کے بعد)میری مراد حضرت علامہ محمد عنایت اللہ خان المشرقی  رحمۃ اللہ علیہ بلاشبہ علامہ مشرقی بر صغیر پاک و ہند کی ایسی کرشمہ ساز شخصیت ہیں جنہیں ان کے اصل مقام اور رتبے سے نہ تو پوری طرح پہچانا گیا تھا اور پھر آنیوالے سالوں میں ایک منظم سازش اور طاغوتی قوتوں کی وجہ سے علامہ مشرقی کے نام کو مٹا دیا گیا اسی لیے آج کے طالبعلم کو علامہ عنایت اللہ خان المشرقی صاحب کا نام نہ تو نصاب کی کتابوں میں ملتا ہے اور نہ ہی ہمارے جدید دور کے میڈیا میں ان کی شخصیت کے علمی، سیاسی، مذہبی اور مفکر انہ پہلوؤں کو اُجاگر کیا جاتا ہے۔ 

میں اگر یہ کہوں تو بے جانہ ہو گا کہ علامہ مشرقی کے نظریات، تعلیمات اور فکر کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت بلاشبہ آج سب سے زیادہ ہے تو بالکل غلط نہیں ہو گا۔ علامہ المشرقی کے وہ تمام خدشات اور اندیشے ایک ایک کر کے بالکل درست ثابت ہوئے ہیں۔جو علامہ صاحب نے قوم کو پچاس، ساٹھ سال پہلے متنبہ کر دئیے تھے۔ 

آج کا آرٹیکل خصوصی طور پر علامہ المشرقی صاحب کے یوم پیدائش 25اگست 1888؁ء اور یوم وفات27اگست1963؁ء کی مناسبت سے لکھا ہے۔ اس آرٹیکل میں علامہ مشرقی اور انکی جدو جہد، مختصر سے احاطہ کیا جائے گا۔ اسکے ساتھ ساتھ علامہ مشرقی کے جمہوریت اور نظام حکومت کے حوالے سے نظریات پر مختصر نظر ڈالتے ہیں علامہ صاحب پیشن گوئیاں اور پاکستان کے آنے والے حالات کے حوالے سے مختصر جائزہ لیں گے۔اسی کے ساتھ ساتھ علامہ صاحب کے غلبہ اسلام اور مسلمانوں کے اندر بحیثیت قوم دنیا پر غلبہ پانے کے حوالے سے بات کرتے ہیں۔ ویسے تو علامہ مشرقی جیسی شہراء آفاق شخصیت کا احاطہ کرنے کے لیے ایک آرٹیکل تو کیا کئی کتابیں بھی کم پڑ جاتی ہیں۔ 

علامہ محمد عنایت اللہ خان المشرقی 25اگست 1888؁ء کو امرتسر کے علمی اور متمول گھرانے میں خان عطا محمد خان کے گھر پیدا ہوئے۔ علامہ مشرقی کے والد امرتسر کے پہلے اور سب سے بڑے جرید ے ”الوکیل“ کے مدیر ا علی تھے جسکی وجہ سے برصغیر اور خصوصًا امرتسر میں خان عطا محمد خان کونہایت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ جمال الدین افغانی، سید عبداللہ العمادی جیسی اہم شخصیات خان عطا محمد خان کے مہمان بننا اپنے لیے باعث اعزاز سمجھتی تھیں۔ 

علامہ مشرقی 1906؁ء میں 18سال کی چھوٹی سی عمر میں گورنمنٹ کالج لاہور (پنجاب یونیورسٹی سے متصل) سے ایم۔اے (M.A)ریاضی میں پچھلے تمام ریکارڈ توڑتے ہیں 100فیصد نمبروں کے امتیازی ریکارڈ کے ساتھ   بر صغیر کی تاریخ میں نیا ریکارڈ بنایا (جو کہ آج تک قائم ہے)اس حیران کن ریکارڈ کے بعد علامہ صاحب برطانیہ مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے چلے گئے اور آکسفورڈ اور کیمبرج یونیورسٹی سے 5سال کے مختصر عرصہ میں بیک وقت چارٹر آئی پوز کیے آنرز رینگلر سکالر، بیچلر سکالر، فاؤنڈیشن سکالر، مکینیکل انجینئرنگ، فزکس، اورئینٹل لینگویجز، جرمن، فرنچ، انگلش لنگویجز اور ریاضی میں امتیازی ڈگری حاصل کیں اور لگ بھگ 15سال کے تعلیمی کورسز 5سال کے مختصر عرصے میں نہ صرف مکمل کیں بلکہ تقریباً تمام ڈگریوں میں نئے ریکارڈ بھی بنائے علامہ مشرقی صاحب نہ صرف تعلیمی میدان میں غیر معمولی خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے۔ بلکہ بعد میں آنیوالی زندگی میں بھی علامہ صاحب نے دنیا کو حیران کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ 

انکی تعلیمی زندگی کے اعتراف میں کہیں کیمبرج یونیورسٹی نے اعتراف کیا کہ وہ یونیورسٹی کی آٹھ سو سالہ تاریخ میں ذہین ترین طالبعلم ہیں۔ برطانیہ کے مقبول ترین، اخبار ”Tribune“ نے لکھا کے کیا اب بھی کوئی کہے گا کے مسلمان حساب نہیں جانتا؟ کیوں کے بر صغیر میں عمومی طور پر ہندووئں کو ہی ریاضی دان سمجھا جاتا تھا اور مسلمانوں کا ریاضی کے معاملے میں تمسخر اڑایا جاتا تھا جسے علامہ مشرقی نے ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا۔ 

علامہ مشرقی کی تعلیمی قابلیتوں کے حوالے سے بہت سی خبریں اور معلومات برطانیہ کے لندن ہسٹری میوزیم میں بھی دستیاب ہیں۔برطانیہ سے تعلیم مکمل کر کے واپسی پر اسوقت کی برطانوی حکومت نے انہیں پہلے برطانوی انڈر سیکرٹری کے اعزاز سے نوازا جسے بعد میں علامہ صاحب نے انگریز کے حاکمانہ طرز عمل اور بر صغیر کے لوگوں سے غیر انسانی سلوک اور اختلاف کی وجہ سے چھوڑ دیا۔ اس کے ساتھ علامہ صاحب اسلامیہ کالج پشاور کے پرنسپل بھی رہے اور اسلامیہ کالج پشاور کو پہلی بار بر صغیر پاک و ہند میں پہچان دلانے اور اسکی صحیح خطوط پر بنیاد کے حوالے سے علامہ مشرقی صاحب کا کردار نا قابل فراموش ہے۔ 

برطانوی راج کی نوکری مختصر عرصہ کرنے کے بعد چھوڑتے ہی علامہ صاحب بر صغیر کے مسلمانوں میں اصل اسلام اور اس سے دوری اور بے عملی نے بے چین کیا اور علامہ صاحب نے 4سال کے مختصر عرصہ میں اپنی شہرہ آفاق تصنیف ”تذکرہ“ تحریر فرمائی اور اس کتاب میں اللہ کے پیغام قرآن پاک کی تشریح اور تفسیر علمی سائنسی اور تحقیقی انداز میں ایک ایسے منفرد انداز میں کی۔ اور جسکی وجہ سے پوری اسلامی دنیا میں علامہ صاحب کی تصنیف ”تذکرہ“ کو نہایت پذیرائی ملی اور اسی کتاب اور علامہ صاحب کی علمی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے علامہ مشرقی صاحب کو قاہرہ میں ہونیوالی مؤتمر اسلامی کانفرنس میں صدر چنا گیا اور علامہ مشرقی صاحب کے تاریخ کے طویل ترین علمی اور تحقیقی خطاب کے بعد ہی مفکرِ مشرق۔ عالمِ مشرق۔ یعنی (Scholar of the East) یعنی علامہ مشرقی کے خطاب سے نوازا گیا جو کہ علامہ صاحب کی پہچان بن گیا۔ 

1924؁ء میں تذکرہ لکھنے پر ہی علامہ صاحب کا نام نوبل پرائز کے لیے بھی تجویز کیا گیا جس میں شرط انگریزی زبان ہونے کی وجہ سے علامہ صاحب نے اس متصبانہ اقدام کی بنا پر نوبل پرائز سے بھی انکار کر دیا۔ 

 یہ بات تاریخی طور پر شاہد ہے کہ خود قائد اعظم محمد علی جناح صاحب نے علامہ مشرقی صاحب کو خط لکھا اور ان کا اور خاکساروں کا فسادات کے خاتمے اور شہر میں امن بحال کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ اسی طرح باوجود برطانوی سامراج اور بنگال کی حکومت کی پابندیوں کے خاکساروں نے 1943؁ء کو بنگال کے تاریخی قحط میں انسانیت کی خدمت اور بلا امتیاز رنگ و نسل اور مذہب قحط زدہ لوگوں کی زندگیاں بچائیں جسکے بعد پورے بر صغیر میں خاکسار کے تحریک جذبے اور نظم و ضبط کو سراہا گیا لیکن اس سے پہلے1938؁ء کے بعد سے ہی علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک انگریز سامراج اور اسکے حواریوں یعنی کانگریس کو کھٹکنے لگی تھی اور جواہر لال نہرو اور دوسرے لیڈران نے وائسرائے ہند کو خطوط لکھ کر اور رابطے کر کے خاکسار تحریک پر بے وجہ پابندیاں لگوا دیں جس پر علامہ صاحب نے فروری /مارچ 1940؁ء میں وائسرائے ہند کو خط لکھا اور کہا کہ خاکسار تحریک ایک امن پسند اور منظم جماعت ہے جس پر وائسرائے نے علامہ صاحب کو ملنے کا کہہ کر مارچ1940؁ء میں دہلی بلوا کر جیل میں ڈال دیا۔ علامہ صاحب جب دہلی، ویلور جیل میں قید تھے تو خاکساروں نے اپنے احتجاج اورانگریز کے غاصبانہ طرز عمل کے خلاف 1940؁ء، 19مارچ کو لاہور کے منٹو پارک موجودہ مینار پاکستان میں مارچ پاسٹ اور روایتی پُر امن جلسے کا اعلان کیا جس کی اسوقت کی پنجاب سرکار اور دہلی راج نے اجازت نہ دی اور 313نہتے خاکساروں سے تصادم کے بعد گولی چلا کر 82خاکساروں کو موقع پر شہید اور 132خاکسار شدید زخمی ہوئے اور ان زخمیوں میں علامہ مشرقی ؒ کے بیٹے احسان اللہ اسلم شہید بھی شامل تھے جو کہ دو دن بعد علامہ صاحب کے گھر اچھرہ میں پولیس کی آنسو گیس سے مزید زخمی ہوئے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ 

یہی نہیں علامہ صاحب کی خاکسار تحریک میں علامہ صاحب کی زندگی میں ہی ان کی پہلی اولاد میں سے چاروں بیٹوں اکرام اللہ انور، احسان اللہ اسلم شہید، انعام اللہ اکرم (میرے والد محترم) اور عنایت اللہ خان اصغر نے بھی انگریز کے خلاف عملی جدو جہد میں حصہ لیا اور متعدد مرتبہ چھوٹی عمروں میں گرفتار بھی کیے گئے اور قید وبند کی صعبوتیں برداشت کیں اور علامہ مشرقی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے کبھی نہیں رکے۔خاکساروں پر 19مارچ 1940؁ء کو گولی چلنے کے بعد گو کہ خاکسار تحریک کو ختم کرنے اور منشتر کرنے کے لیے پابندی لگا دی گئی خاکی وردی بھی پابندی کا حصہ بنی علامہ مشرقی صاحب1943؁ء تک جیل میں قید رہے۔ لیکن اس سب کے باوجود 13اپریل1919؁ء کے جلیانوالہ باغ کے واقع کے بعد19مارچ1940؁ء کے خاکساروں کے قتل عام نے بر صغیر سے انگریز سامراج کے نکلنے پر مہر ثبت کر دی اور بر صغیر کی آزادی کی تحریک میں نئی روح پھونک دی۔ ہماری تاریخ کی کتابوں میں یہ تو لکھا جاتا ہے کہ علامہ مشرقی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی مگر یہ نہیں لکھا جاتا کہ وہ مخالفت دراصل کیا تھی اور اس میں قائد اعظم سے کیا اصولی اختلاف تھا اور یہ بھی نہیں بتایا جاتا ہے کہ 1946؁ء میں جب علامہ صاحب قیام پاکستان پر متفق ہوگئے تو انہوں نے کیسے گاندھی اور قائد اعظم کی ملاقات اور مذاکرات میں اہم کردار ادا کیا نہ صرف یہ بلکہ میرے والد (مرحوم و مغفور) انعام اللہ خان اکرم المشرقی نے مجھے خود بتایا کہ علامہ صاحب جب 1940؁ء سے1943؁ء تک دہلی کے ویلور جیل میں قید تھے تو انکے ساتھ کانگریس کے صدر راج گوپال اجاریہ بھی کچھ عرصے اسی جیل میں رہے اور اسی اثناء میں علامہ صاحب نے راج گوپال اجاریہ سے متعدد نشستیں کیں اور انہیں قیام پاکستان اور مسلم ریاست کے قیام اور اسی کو  بر صغیر پاک و ہند کے مستقل امن کے جوڑا اور راج گوپال اجاریہ کو دو قومی نظریے کی حقیقت اور صداقت پر قائل کیا۔ اسی راج گوپال اجاریہ نے علامہ صاحب سے متاثر ہونے کے بعد گاندھی جی اور نہرو کو بھی ہندوستان کے بٹوارے پر قائل کیا۔ گوکہ بلواستہ طور پر علامہ مشرقی کی کاوشیں ہی گاندھی اور نہرو کو تقسیم ہند پر قائل کر سکیں۔ 

میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت قائد اعظم پر یہ حملہ بر صغیر کے مسلمانوں کے خلاف ایک بد ترین سازش تھی جسکے نتیجے میں دشمن نے قائد اعظم اور علامہ مشرقی کو ہمیشہ کے لیے دور کر دیا اور مسلم لیگ اور خاکسار تحریک کے درمیان ایک ایسی خلیج پیدا کر دی جس نے بر صغیر کی تقسیم میں مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ کیوں کہ علامہ مشرقی تقسیم کے مخالف نہیں تھے بلکہ وہ انگریز اور ہندو کی ذہنیت اور شیطانیت سے واقف تھے اور وہ بر صغیر کی غیر منصفانہ تقسیم کو بھانپ گئے تھے اسی لیے وہ قائد اعظم اور تمام مسلمانوں کو اکٹھا کرکے ایک مؤقف اپنانے کی اہمیت پر زور دیتے رہے۔ علامہ صاحب کا اولین موقف تو یہ تھا کہ چونکہ انگریز نے 700سال سے حکومت کرتے مسلمانوں سے حکومت چھینی تھی اس لیے جاتے ہوئے۔ وہ عنان اقتدار واپس مسلمانوں کو ہی دے کر جائے یعنی جو چیز جس سے چھینی گئی ہے اسے ہی واپس کرے لیکن چونکہ کانگریس اور ہندو نواز جماعتیں بہت مضبوط  ہو گئی تھیں اور انگریز سرکار کے قریب بھی تھیں لحاظہ انگریز نے علامہ مشرقی کا یہ اصولی موقف ماننے سے صاف انکار کر دیا اور دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے ساتھ ہی ہندوستان چھوڑنے اور بٹوارے کا اعلان کر دیا گیا۔ علامہ مشرقی نے اپنے مؤقف میں لچک لاتے ہوئے اور بروقت بٹوارے کی کوشش کرتے ہوئے پاکستان کے مطالبے اور قیام کی1945/46؁ء میں حمایت کر دی جسکے لیے اسوقت کے شائع ہونیوالے خاکسار تحریک کے جریدے الالفلاح کی اشاعت موجود ہے۔ مگر پاکستان کے مطالبے کی حمایت میں علامہ مشرقی نے قائد اعظم پر بار بار زور دیا کے صرف منصفانہ تقسیم کے مطالبے پر قائم رہیں اور جلد بازی نہ کریں علامہ مشرقی ہی اس وقت وہ واحد لیڈر تھے جنہوں نے تینوں مسلم اکثریتی صوبوں یعنی پنجاب، بنگال، سندھ کی تقسیم کی شدید مخالفت کی اور اسے انگریز ہندو گٹھ جوڑ قرار دیا اور علامہ مشرقی نے واضح موقف اپنایا کے ہندوستان کے بٹوارے کی صورت میں مسلمانوں کو ان کا جائزمقام اور حصہ دیا جائے اور پورا پنجاب، بنگال، سندھ، کشمیر، حیدر آباد دکن، جوناگڑھ اور دہلی سمیت ڈھاکہ تک خشکی کے راستے سے رسائی دی جائے۔

علامہ مشرقی ہی وہ پہلے رہنما تھے جنہوں نے ”کشمیر بروز کشمیر کا نعرہ لگایا وہ نعرہ جو آج ہر کوئی لگاتا ہے مگر اس کا ماخذ نہیں بتاتا ہے۔ آج علامہ کی بات سچ ثابت ہے اسی طرح علامہ مشرقی صاحب نے1953؁ء میں اپنے ایک طویل خطاب میں حکومت پاکستان کو خبردار کیا کے انڈیا آنیوالے 40سالوں میں کشمیر اور ہندوستان سے پاکستان کی طرف آنیوالے دریاؤں پر ہیڈ ورکس بنا کر اور دو ارب روپے کی لاگت سے بند باندھ کر دریاؤں کا رخ موڑ کر پورے پاکستان کو بنجر کر دے گا اور پاکستان پانی کی بوندبوند کو ترسے گا۔ اس وقت علامہ مشرقی صاحب کی باتوں کا مذاق اڑایا گیا اور کہا گیا بھلا دریاؤں کا رخ بھی بدلہ جا سکتا ہے۔ آج 2020؁ء میں ہم یہ سب کچھ ہوتا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔پھر علامہ صاحب نے 1951؁ء میں پیشن گوئی کی کہ اگر مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے ثقافتی معاشی سماجی طور پر نہ جوڑا گیا اور حکمرانوں نے مشرقی پاکستان سے امتیازی سلوک کیا تو 20سے25سال میں مشرقی پاکستان مغربی پاکستان سے علیحدہ ہو جائے گا۔ اور پھر پورے بیس سال بعد1971؁ء میں ہم نے مشرقی پاکستان جدا ہو گیا۔ 

اسی طرح علامہ صاحب نے ایران، عراق جنگ یمن کی خانہ جنگی اور عربوں میں آپس کی جنگوں سمیت روس کے ٹوٹنے کی پیشن گوئیاں کی جو کہ پوری ہوئیں۔ علامہ مشرقی صاحب نے انسان کے خلاء میں جانے چاند پر قدم رکھنے۔ کلوننگ اور اجرام فلکی پر بہت ساری علمی بحثیں کیں جو کہ سائنسی اعتبار سے بھی بالکل درست ثابت ہوئی۔ 

پاکستان کے قیام کے وقت علامہ صاحب نے ایک متوازن اسلامی مساوی آئین بھی لکھ کر حکومت پاکستان کو دیا۔ جن میں برطانوی جمہوریت کو ناموزوں قرار دیا اور اسلام کے بنیادی اصولوں پر حکومت کرنے کی جانب زور دیا اور انتخابات کے لیے طبقاتی طرز انتخاب کی تجویز پیش کی جس کا مقصد ملک کے ہر طبقے غریب امیر مزدور، کسان صنعت کار سائنسدان سمیت سب کی نمائندگی ہو اور بلاشبہ آج بھی یہ طریقہ اپنا کر ملک کو ایک نئی راہ پر ڈالا جاسکتاہے۔آخر میں یہی کہوں گا کے ضرورت اس امر کی ہے کہ اب تمام اختلافات کو بھلا کر اور ملک کی ترقی اور قوم کی یکجہتی کی خاطر علامہ عنایت اللہ مشرقی کی سوچ اور فکر کو سمجھا جائے۔ اور علامہ مشرقی کے غلبہ اسلام اور جذبہ خدمت اور ایثار کی تحریک کو ملک گیر تحریک کی شکل دے کر کچھ بھی نام دے کر حکومتی سطح پر شروع کیا جائے۔ ملک میں نا انصافی کے خاتمے اور موروثی سیاست کو دفن کرنے کے لیے روایتی جمہوریت سے ہٹ کر طبقاتی طرز انتخاب اور اختیاراتی Authortativeحکومت کی طرف جایا جائے پاکستان کی درسی کتب میں علامہ مشرقی کی علمی کا میابیوں کو نئی نسل میں جذبہ پیدا کرنے کیئے اُجاگر کیا جائے حکومت پاکستان قائد اعظم، علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، سر سید احمد خان، ڈاکٹر قدیر کیطرح علامہ مشرقی کے نام پر بھی سڑکوں اور مقامات کے نام رکھے۔ 

مزید :

ایڈیشن 1 -