سندھ،بلوچستان،پنجاب میں شدید بارشیں،ندی نالوں میں طغیانی،نشیبی علاقوں میں ہزاروں افراد پھنس گئے،کراچی میں مزید 7،لاہور میں 4افراد جاں بحق،بھارت نے پانی چھوڑ دیا،سیلاب کا خطرہ

سندھ،بلوچستان،پنجاب میں شدید بارشیں،ندی نالوں میں طغیانی،نشیبی علاقوں میں ...

  

کراچی، لاہور، اسلام آباد، کوئٹہ (سٹاف رپورٹر،  جنرل رپورٹر، کرائم رپورٹر، لیڈی رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیا ں)مون سون کی ریکارڈ بارشوں سے کراچی کے ساتھ ساتھ سندھ کے دیگر حصوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے بچوں سمیت مزید 7 افراد جاں بحق ہوگئے۔ جبکہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں بھی بارشوں کا سلسلہ شروع ہو گیا جبکہ بھارت نے پاکستان کو بتائے بغیر دریائے چناب میں پانی چھوڑ دیا جس سے سیلاب کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔کراچی میں بارش کے بعد جمع ہونے والے پانی میں ڈوب کر 6 اور ایک شہری کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوگیا جبکہ مزید کئی افراد کے ڈوبنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔انتظامیہ، امدادی کارکنوں اورعینی شاہدین کے مطابق ملیر ندی میں ڈوبے ہوئے افراد کی تلاش کے دوران ایدھی فانڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی کی کشتی بھی الٹ گئی تاہم ماہی گیروں نے معجزاتی طور پر بچالیا۔میمن گوٹھ پولیس کا کہنا تھا کہ ملیر ندی سے 18 سالہ نوجوان کی لاش نکالی گئی جو گزشتہ روز ڈوب گئے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ نوجوان کی شناخت نعمان کے نام سے ہوئی اور ان کی لاش کو ندی کے پانی میں تیر رہی تھی۔ایس ایچ او رانا عبداللطیف کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز ملیر ندی پانی سے بھرگئی اور پانی ندی سے باہر آگیا تھا جس کے نتیجے میں تقریبا 30 سے 35 افراد ڈوب گئے تھے تاہم تمام افراد کو بچالیا گیا تھا۔ امجد مسیح نامی شہری بارش کے پانی سے بھرجانے والی ملیر ندی میں نہاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہوئے۔ ایک اور 20 سالہ نوجوان عبدالرحمن سکھن ندی میں تیرتے ہوئے جاں بحق ہوئے۔ایدھی فانڈیشن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ 35 سالہ نعمان عالم گزشتہ روز شاہ فیصل کالونی نمبر میں بارش کے پانی میں ڈوب گئے تھے جبکہ ایدھی کے تیراکوں نے ان کی لاش آج ندی سے نکال لی۔ریسکیو سروسز کے مطابق گزشتہ روز ہی سموں گوٹھ میں ملیر میں ڈوب کر تین بچے ڈوب گئے تھے، جن میں سے 5 سالہ سمیرا دم توڑ گئی تھیں اور ان کی لاش آج نکال لی گئی ہے۔انتظامیہ کے مطابق سائٹ بی ایریا میں نالے میں گر کر 11 سالہ بچہ جاں بحق ہوگیا۔کراچی کے علاقے ایوب گوٹھ میں کرنٹ لگنے 48 سالہ شہری دم توڑ گئے۔ بارش کے باعث شہر کے چھوٹے نالے ابل پڑے جبکہ ندیاں بھی اوور فلو ہوگئیں اور ان کا پانی اطراف کے علاقوں میں داخل ہوگیا جس کے باعث وہاں کے مکین چھتوں پر پناہ لینے یا نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ریکارڈ بارشوں کے باعث شہر کی صورتحال خاصی خراب ہے جس کا اعتراف وزیراعلی سندھ نے بھی کیا تھا اور آج انہوں نے سندھ کے مختلف اضلاع میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے دورہ بھی کیا۔صوبائی حکومت کی جانب سے سندھ میں گزشتہ روز رین ایمرجنسی نافذ کی جاچکی ہے جبکہ انتظامیہ کے علاوہ پاک فوج اور دیگر فلاحی تنظیمیں بھرپور انداز میں شہریوں کی امداد کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی خصوصی ہدایت پر پاک فوج نے رات گئے ندی پر بند کی مرمت کرنے اور متاثرہ علاقوں سے عوام کو نکالنے کے علاوہ انہیں کھانا، پانی وغیرہ فراہم کرنے کا آغاز کردیا تھا۔ سیلابی ریلے کے باعث قائد آباد کے نزدیک سکھن ندی کے بند میں شگاف پڑ گیا جس سے اطراف کی کچی آبادیوں، گوٹھوں اور دیگر علاقوں میں کئی فٹ پانی جمع ہو گیا۔برساتی پانی نے جن آبادیوں میں تباہی مچائی ان میں رزاق ٹان، مدینہ ٹان، خلد آباد، رضا سٹی، قائد آباد مرغی خانہ شامل ہے۔ سیلابی ریلے سے سب سے زیادہ تباہی رزاق ٹان اور مدینہ کالونی میں ہوئی جہاں 6 سے 8 فٹ تک پانی بھر جانے کے علاوہ درجنوں مکانات زمین بوس ہوگئے جس کے بعد علاقہ مکینوں نے رات پکے گھروں کی چھتوں پر بیٹھ کر گزاری۔علاقہ مکینوں کے مطابق صبح سویرے پاک فوج نے آکر امدادی کارروائیوں کا آغاز کیا اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔دوسری جانب محمود آباد اور پی ای ایس ایچ کے سنگم پر موجود ملیر ندی کے دادا بھائی بند کا ایک گیٹ کھل جانے سے آس پاس کی آبادی زیر آب آگئی۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پورے سندھ میں سب سے بارش زیادہ کراچی کے علاقے پی ایف بیس فیصل میں 134 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی۔شہر کے دیگر علاقوں میں گلش حدید میں 122 ملی میٹر، ناظم آباد میں 91، صدر میں 88، لانڈھی میں 85، یونیورسٹی روڈ پر 79، سعدی ٹان میں 72، مسرور بیس پر 68، جناح ٹرمینل پر 67، نارتھ کراچی میں 50، سرجانی ٹان میں 46 اور کیماڑی میں 24 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔سندھ کے دیگر شہروں کے حوالے سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ٹھٹہ میں 89 ملی میٹر، لاڑکانہ میں 66، میر پور خاص میں 54، نواب شاہ میں 49، جیکب آباد میں 23، مٹھی میں 13، سکھر اور حیدرآباد میں 6 جبکہ بدین میں ایک ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔۔ کراچی میں بارش سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو اینڈ ریلیف آپریشن جاری ہے، آرمی انجینئرز کی ہیوی مشینری اور پلانٹس ملیر ندی پر پانی کا بہاؤ روکنے کیلئے مصروف ہیں، متاثرین میں کھانے کی تقسیم کا عمل بھی جاری ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق ا?رمی انجینئرز کور کی ہیوی مشینری اور پلانٹس ملیر ندی پر پانی کا بہاؤ روکنے کی کوشش میں مصروف ہے جہاں شگافوں کو پر کیا جا رہا ہے اور لوگوں کو کشتیوں کی مدد سے محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے گئے۔ دوسری جانب بلوچستان کے مختلف اضلاع میں طوفانی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکام نے شہریوں کو بلوچستان کے کسی بھی علاقے کی طرف بلا ضرورت سفر نہ کرنے کی ہدایت کی ہے۔قلات میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، کئی گاڑیاں سیلابی ریلے میں پھنس گئیں، ہرنائی کا زمینی رابطہ بھی دیگر علاقوں سے منقطع ہوگیا اور سیکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔اس کے علاوہ واشک میں بارشوں نے پیاز اور کھجور کی تیار فصلوں کو نقصان پہنچایا جبکہ حب میں شہریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت 20 افراد کو ریسکیو کیا، حب میں بارشوں کے بعد سیلابی صورتحال سے 400 سے زائد افراد گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔کوئٹہ میں 3 روز قبل مرمت ہونے والا مچھ پل ایک مرتبہ پھر ٹوٹ گیا جس کے باعث مچھ کا کوئٹہ اور دیگر علاقوں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا جبکہ موسلادھار بارشوں کے باعث اوتھل میں ندی بھپر گئی۔۔ دوسری طرف وزیراعظم نے شہر قائد میں بارش کے بعد کی صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی اداروں کو کراچی کے شہریوں کو ہر ممکن ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ عمران خان نے کہا عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاقی ادارے اپنے تمام وسائل بروئے کار لائیں۔ عمران خان نے این ڈی ایم اے اور پاک فوج کے اقدامات کی تعریف کی۔ لاہور کے نواح میں جی ٹی روڈ کی آبادی برکت ٹاؤن میں بارش کے دوران بوسیدہ مکان کی چھت گرنے سے ملبے تلے دب کر محنت کش میاں بیو ی دو کمسن بچوں سمیت جاں بحق  جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے،چار جنازے ایک ساتھ اٹھنے پر علاقے میں کہرام مچ گیا۔ ریسکیو1122کی ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر بد قسمت خاندان کی نعشوں اور زخمیوں کو ملبے کے ڈھیر سے نکالا۔  علی اصغر نامی محنت کش اپنی بیوی اور کمسن بچو ں کے ہمراہ گھر پر موجود تھا کہ غریبوں کے مکان کی چھت شام کے وقت برسنے والی بارش کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اور ایک زور دار جھٹکے کے ساتھ زمین بوس ہو گئی۔ چھت کے ملبے تلے دب کرمحنت کش علی اصغر، اس کی بیو فوزیہ بی بی، سات سالہ ایمان اور دس سالہ عثمان جاں بحق جبکہ دو افراد شدیدزخمی ہو گئے۔ دوسری طرف  بھارت نے بغیر اطلاع پانی کا بڑا ریلا چھوڑ دیا، دریائے چناب میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ پیدا ہو گیا،  بھارت نے، پاکستان کو بتائے بغیر دریائے چناب میں اچانک ایک لاکھ کیوسک پانی چھوڑ دیا، بگلیہار جھیل سے چھوڑا جانے والا پانی دریا کے پانی سے ملکر 1 لاکھ 60 ہزار کیوسک ریلے کی شکل میں ہیڈ مرالہ پہنچ گیا، دریائے چناب میں بڑے سیلابی ریلے کے خدشہ کے پیش نظر گوجوانوالہ،حافظ آباد اور جھنگ میں الرٹ جاری کر دیا گیا۔بارشوں کے باعث دریائے جہلم میں سطح بلند ہونے سے منگلا ڈیم میں پانی کی آمد بڑھ گئی، ہنگامی طور پر ڈیم کے سپل وے کھول کر پانی کا بڑا ریلا رسول بیراج کی طرف بہا دیا گیا ہے، ارسا حکام نے جمعرات کی شام تک منگلا ڈیم میں 6 لاکھ کیوسک کا بڑا ریلا آنے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔وزیر اعلی پنجاب نے دریائے چناب اور جہلم میں ممکنہ سیلاب کے خدشہ کے پیش نظر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے متعلقہ محکموں کو الرٹ کردیا ہے، عثمان بزدار نے ہدایت کی ہے کہ دریاؤں کی صورتحال کو 24 گھنٹے مانیٹر کیا جائے، پیشگی انتظامات مکمل رکھے جائیں۔

بارش/ سیلاب

مزید :

صفحہ اول -