امریکہ چین تعلقات پر جمی برف پگھلنے لگی،تجارتی مذاکرات کو ّآگے بڑھانے کا فیصلہ

  امریکہ چین تعلقات پر جمی برف پگھلنے لگی،تجارتی مذاکرات کو ّآگے بڑھانے کا ...

  

 واشنگٹن (تجزیاتی رپورٹ اظہر زمان،) امریکہ اور چین کے درمیان جنوری میں تجارتی معاہدے کا پہلا مرحلہ طے ہوا تھا جس سے ان کے درمیان تعلقات میں جوبہتری آئی تھی وہ زیادہ دیر برقرار نہیں رہی۔ تاہم اب  تعلقات پر جمی برف پگل گئی جب دونوں ممالک نے تجارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کیلئے ایک دوسرے سے رابطہ کیا۔  تعلقات میں خرابی کا آغاز کرونا وائرس کے حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی سے ہوا۔ امریکہ نے چین پر سنگین الزام لگایا کہ اس نے ووہان کے شہر میں کرونا وائرس کے آغاز اور بعدمیں پھلاؤ کے بارے میں  امریکہ سمیت  باقی دنیا کو جان بوجھ کر زیادہ دیر تک بے خبر رکھا۔ امریکہ کے خیال میں اگر چین بروقت یہ معلومات شیئر کرلیتا تو یہ وباء باقی دنیا میں زیادہ زور نہ پکڑتی۔ اس کے باعث امریکہ اور چین کی سرد جنگ اس حد تک بڑھ گئی کہ انہوں نے ایک دوسرے کے ملکوں سے ان کے سفارت کاروں کو باہر نکالنے کا سلسلہ شروع کردیا۔ پہلے امریکہ نے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کیا اور بعد میں چین نے چیننگڈو میں امریکی قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم جاری کردیا۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اپنے اقدام کا جواز یہ پیش کیا کہ اس طرح امریکی شہریوں کے انسٹلکچوئیل پراپرٹی کے حقوق اور ان کی نجی معلومات کو محفوظ بنایا جاسکے گا۔ اس موقع پر ایک بیان میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفرورے نے کہا تھا کہ چینی حکومت کی جانب سے چوری اور جاسوسی کے اقدامات امریکہ کے مستقبل کے لئے سب سے بڑا ”طویل مدتی خطرہ“ بن گئے ہیں۔ کرونا وائرس کے حوالے سے امریکہ اور چین کے تعلقات کشیدہ چلے آرہے تھے کہ جولائی میں چین نے ہانگ کانگ میں نئے سیکورٹی قوانین کا نفاذ کردیا اور اس طرح اس خطے کو برطانیہ سے حاصل کرنے کے وقت اپنے وعدے سے مکر گیا۔ چین نے عہد کیا تھا کہ ہانگ کانگ اور چین اگرچہ ایک ملک ہوں گے لیکن دونوں جگہ الگ الگ سسٹم رائج ہوں گے لیکن امریکہ کے نزدیک نئے سیکورٹی قوانین کے ذریعے اس عہد کی خلاف ورزی کی گئی۔ اس طرح تائیوان کو امریکہ تسلیم نہیں کرتا کیونکہ اسے چین اپنا حصہ سمجھتا ہے لیکن امریکی وزیر صحت نیتائیوان کا دورہ کرکے چین کو مشتعل کیا اور پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید خرابی آگئی۔ اب منگل کے روز امریکہ اور چین نے معطل تجارتی مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کیلئے پہلی مرتبہ جنوری کے بعد رابطہ کیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق اس بات چیت میں امریکی وزیر خزانہ سیٹو منوچن۔ امریکی تجارتی مندوب رابرٹ لائٹرز اور چینی نائب وزیراعظم لیوہی نے شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک نے بیانات جاری کرکے رابطے کی تصدیق کی۔ امریکہ نے بات چیت کے موضوعات میں خاص طور پر انٹلکچوئیل پرائرٹی کے حقوق کا ذکر کیا۔ تاہم چین نے صرف عمومی تجارتی معاملات کا حوالہ دیا۔ چیناور امریکہ کے درمیان دوسال سے تجارتی اور مالیاتی امور پر اختلافات چلے آرہے ہیں جس پر ان کے درمیان تجارتی معاہدے کا پہلا مرحلہ طے ہو چکا ہے اب امید پیدا ہوگئی ہے کہ وہ اگلے مراحل طے کرنے کے لئے مذاکرات کا آغاز کر لیں گے۔

تجزیاتی رپورٹ

مزید :

صفحہ اول -