کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے،سینیٹ اجلاس میں اراکین کا مطالبہ

    کراچی کے مسائل حل کرنے کیلئے سٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے،سینیٹ ...

  

 اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) سینیٹ کا اجلاس چیئرمین سینیٹ محمد صادق سنجرانی کی صدارت میں ہوا، اجلاس کے دوران سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سابق ایم ڈی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ رائے منظور احمد کو انعام دینا چا ہئے تھا، حکومت نے ان کو اپنے عہدے سے ہٹا دیا،ان کو واپس بحال کیا جائے اور ان کو ایوارڈ دیا جائے۔سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ کراچی ڈوب رہا ہے کراچی سب کا ہے، وہ 60 فیصد ریونیو جنریٹ کر رہا ہے، ایک کمیٹی آف ہول بنائی جائے جس میں کراچی کے مسائل کو زیر بحث لایا جائے، کمیٹی میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو بلائیں،سینیٹر سسی پلیجو نے کہاکہ اوگرا سے متعلق بل کو مشترکہ اجلاس میں پیش کیا جائے،سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ نسرین ایڈوکیٹ کو حویلی لکھا اوکاڑہ سے اپنے دفتر سے اغوا کیا گیا، اس کے ساتھ جو ہوا، ساری ریاست کے ذمہ داروں کو شرم آنی چاہیئے، اس معاملے کو انسانی حقوق کی کمیٹی کے پاس بھجوا دیں۔ سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی جان لینے کی کوشش کی گئی، حکومت دنیا کو گمراہ کر رہی ہے، یہ کہتے ہیں نواز شریف جھوٹ بول کر گئے، اگر ایسا ہے تو وزرا کیخلاف ایکشن لیں۔آپ اگر کہتے ہیں کہ نواز شریف ہمیں دھوکا دیکر چلے گئے تو آپ اپنا مذاق اڑاتے ہو، کہا گیا نواز شریف سیڑھیاں چڑھ کر چلے گئے۔ عمران خان کہتے ہیں انہیں رحم آگیا تھا وہ رحم تھوڑی دیر کیلئے آیا تھا۔کراچی کی صورتحال پر مشاہد اللہ کا کہنا تھا کراچی ڈوب چکا ہے، کراچی کے لوگ پریشان ہیں، ان کو دادرسی کی ضرورت ہے، سب سے پہلے کراچی کے عوام کی دادرسی وہاں سے منتخب نمائندوں کو کرنی چاہئے۔سینیٹ کو حکومت نے آگاہ کیا ہے کہ جعلی ڈگریوں کی وجہ سے 760 پی آئی اے کے ملازمین کو اب تک ملازمت سے برخاست کیا گیا ہے، تاہم 127 ملازمین کیخلاف محکمانہ کاروائی جاری ہے،ان میں سے 87 ملازمین نے عدالتوں سے حکم امتناعی لے رکھا ہے، کووڈ 19 کی وجہ سے سپیشل فلائیٹس بھیجی گئیں، کرائے میں تھوڑا بہت اضافہ حالات کو دیکھتے ہوئے ضروری تھا۔ان خیالات کا اظہار وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور علی محمد خان نے ارکان کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کیا۔سینیٹر سراج الحق کے سوال کے تحریری جواب میں تخفیف غربت و سماجی تحفظ ڈویژن نے ایوان کو بتایا کہ 118ارب روپے کی رقم احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کے مستفیدین میں تقسیم کی جا چکی ہے۔ سینیٹر گیان چند کے سوال کے تحریری جواب میں وزیر انچارج برائے کابینہ ڈویژن نے ایوان کو بتایا کہ ضلع تھر پارکر کے تمام 7 تعلقوں میں فور جی سروسز فراہم کر دی گئی ہیں۔ 

سینیٹ اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -