عدلیہ کے اختیارات استعمال کرنے کی سمری بنانیوالے جیل میں ہونگے:چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ

 عدلیہ کے اختیارات استعمال کرنے کی سمری بنانیوالے جیل میں ہونگے:چیف جسٹس ...

  

 لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہورہائی مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم مومن آغا، ڈپٹی سیکرٹری جوڈیشل عمران منیراور سپیشل سیکرٹری ہوم اقبال کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرتے ہوئے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا،عدالت نے چیف سیکرٹری پنجاب کو غیر مشروط فوری معافی دینے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو بھی آئندہ تاریخ سماعت پرعدالت کی معاونت کے لئے پیش ہونے کی ہدایت کی ہے،عدالت نے انتظامیہ (کمشنرز،ڈپٹی کمشنرزاور اسسٹنٹ کمشنرز)کو عدلیہ کے اختیارات دینے کا تمام ریکارڈ بھی آئندہ سماعت پرطلب کر لیاہے،فاضل جج نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کے اختیار کو استعمال کرنے کی جس جس نے سمری بنائی ہے وہ سب جیل میں ہوں گے، اس بیورو کریسی نے ملک کو تباہ کر دیا ہے،سیکرٹری اپنے کام سے گورنمنٹ توڑ دیتے ہیں یاپھر گورنمنٹ بنا دیتے ہیں، یہ برصغیر کی تاریخ ہے، آپ یہ چاہتے ہیں کہ سول سیکرٹریٹ اوروزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کو سیل کر دیا جائے،ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے انتظامیہ کوعدالتی اختیارات دینے کی ساری ذمہ داری اپنے سر لے کر چیف سیکرٹری اوروزیراعلی سمیت سب کو بچانے کی کوشش کی ہے،وہ سمجھتے ہیں سارے بچالئے گئے ہیں، چلیں آپ ایک پر سارا ملبہ ڈال دیں لیکن بچے گا کوئی بھی نہیں، کچھ لوگوں کو بچانے کے لئے عدالت کے ساتھ کھیلنے کی کوشش نہ کریں۔ انتظامی افسروں (کمشنر، ڈپٹی کمشنرز اوراسسٹنٹ کمشنرز)کو جوڈیشل مجسٹریٹس کے اختیارات دینے کے خلاف شہری عبداللہ تنویر کی درخواست پر سماعت شروع ہوئی تو چیف سیکرٹری پنجاب کی جانب سے ڈاکٹر خالد رانجھا ایڈووکیٹ نے عدالت میں پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ چیف سیکرٹری پنجاب غیر مشروط معافی مانگتے ہیں، چیف سیکرٹری پنجاب کا تحریری معافی نامہ اورتوبہ موجود ہے، رحم کیا جائے، فاضل جج نے کہا کہ پورے ادارے کی بے حرمتی کی گئی، عدالتی حکم کے خلاف جہاں لوگ جیلوں میں چلے جائیں وہاں کوئی اس کی تلافی ہو سکتی ہے؟ ڈاکٹر خالد رانجھا ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہمارا یہاں عدالتوں میں معافیاں مانگتے 2، 2 سال لگ جاتے ہیں، جس پرفاضل جج نے کہا کہ ہو سکتا ہے یہاں توہین عدالت کی دو کارروائیاں کی جائیں، سرکاری وکیل عدالت کو بتائیں کیا وزیراعلیٰ پنجاب کے سمری منظور کرنے سے وہ توہین عدالت کے زمرہ میں آتے ہیں یا نہیں؟بندے آئیں تو سہی، پتہ تو کریں ان سے کہ انہوں نے غلطی کی ہے، اتھارٹی نے نوٹیفیکیشن معطلی کا نوٹس جاری نہیں کیا جس کا مطلب عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنا چاہ رہے تھے، چیف جسٹس نے مزید کہا کہ مجھے وہ سمری لا کر دکھائیں جس پر وزیراعلی نے منظوری دی، سرکاری وکیل نے کہا کہ ہم نے متفرق درخواست کے ذریعے متعلقہ ریکارڈ پیش کر دیا ہے، فاضل جج نے کہا کہ اتھارٹی نے نوٹیفیکیشن معطلی کا نوٹس جاری نہیں کیا جس کا مطلب عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرنا چاہ رہے تھے، کیا چیف سیکرٹری پنجاب نے سمری تیار کرتے ہوئے اپنا ذہن استعمال کیا یا نہیں؟۔فاضل جج نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم سے کہا کہ اپنا بیان قلمبند کروائیں، یہ کہاں سے نوٹنگ چلی ہے؟  سیکرٹری ہوم نے کہا کہ سپیشل سیکرٹری جوڈیشل نے نوٹنگ بنائی ہے۔فاضل جج نے استفسار کیا کہ آپ نے کوشش کی کہ لاء ڈیپارٹمنٹ سے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے رائے لے لیتے؟ جس پر ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے کہا جی سر ہم نے کوئی رائے نہیں لی، جس پر فاضل جج نے کہا کہ آپ نے سارے سسٹم کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے کہا کہ عمران منیر ڈپٹی سیکرٹری جوڈیشل اور سپیشل سیکرٹری ہوم اقبال نے نوٹنگ تیار کی ہے۔ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ یہ نوٹیفیکیشن واپس لیا جا رہا ہے، ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم نے کہا کہ سر میری عرض سن لیں، عدلیہ کے اختیارات والا نوٹیفیکیشن واپس لے لیا گیا ہے، سر میں نے غیر مشروط معافی مانگی ہے۔ ڈاکٹر خالد رانجھا ایڈووکیٹ نے عدالت سے کہا کہ ہم تو آئے تھے نماز بخشوانے کے لئے یہ روزے گلے پڑ رہے ہیں، آج ہمارا ترلہ دن ہے آج توہین عدالت کا نوٹس جاری نہ کریں، سر یہ سول سرونٹ ہیں، جس پر فاضل جج نے کہا کہ یہ تو بڑے ببر شیر ہیں، ان کو کچھ نہیں ہوتا۔ فاضل جج نے مذکورہ بالا ریمارکس کے ساتھ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم مومن آغا، عمران منیر ڈپٹی سیکرٹری جوڈیشل، سپیشل سیکرٹری ہوم اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید سماعت 2ہفتوں پر ملتوی کردی،عدالت نے آئندہ تاریخ سماعت پر چیف سیکرٹری پنجاب کو بھی پیش ہونے کی ہدایت کی ہے،درخواست گزار کا موقف ہے کہ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اوراسسٹنٹ کمشرنزکو جوڈیشل مجسٹریٹس کے اختیارات دینے کاحکومتی نوٹیفکیشن معطل کیا مگر مریدکے کے اے سی اور ڈی سی نے جوڈیشل اختیارات استعمال کر کے فیصلے کئے، عدلیہ اور انتظامیہ کو آئین میں الگ الگ اختیارات دیئے گئے، حکومت نے نوٹیفیکیشن جاری کر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مجسٹریٹ کے اختیارات تفویض کر دیئے، کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو عدالتی اختیارات دینے کے اس نوٹیفیکیشن کوغیر آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔

بیوروکریسی تباہ

مزید :

صفحہ آخر -