سیاسی کشتی، بطرز ”نورا کشتی“

 سیاسی کشتی، بطرز ”نورا کشتی“
 سیاسی کشتی، بطرز ”نورا کشتی“

  

ہم جب لڑکپن سے جوانی کے دور میں داخل ہو رہے تھے۔یہ وہ وقت تھا، جب پنجاب میں دیسی کشتیوں کا ڈنکا بچتا تھا،ہمارے اپنے لاہور شہر میں درجنوں اکھاڑے تھے،حتیٰ کہ صورتِ حال یہ بھی تھی کہ والدین اپنے بچوں کو ورزش کے لئے ان اکھاڑوں میں بھیجا کرتے تے، چنانچہ ہم نے بھی سرائے سلطان والے اکھاڑے کی مٹی لگوائی اور زور آزمائی کرتے رہے،جلد ہی اُکتا گئے کہ رجحان تبھی کرکٹ کی طرف ہو گیا تھا، ان دِنوں ان دیسی کشتیوں کے حوالے سے ”دف بازی“ ہوتی تھی۔ آپ اسے اپنے لحاظ سے گروہ بندی کہہ لیں۔ ایک ہی شہر میں مختلف اکھاڑے آپس میں  زور آزمائی کرتے تو پھر یہ سلسلہ بڑھ کر اضلاع تک چلا جاتا تھا۔ ان دِنوں جو بڑے مقابلے ہوئے وہ لاہور اور گوجرانوالہ کے درمیان تھے۔ گوجرانوالہ تو آج بھی پہلوانوں کا شہر کہلاتا،لیکن لاہور بابوؤں کا ہو گیا۔لاہور کے رستم زمان بھولو پہلوان اور گوجرانوالہ کے یونس پہلوان کی ”دف داری“ تھی اور ان کے شاگردوں اور خود ان کے درمیان ہونے والے مقابلے بہت زور دار ہوتے، دنگل کی تاریخ کا اعلان ہوتا، تو مقررہ تاریخ سے پہلے پہلوانوں کے جلوس بھی نکلتے، یہ سب حضرات کڑ کڑ کرتے کرتے تہبند کے ساتھ پگڑیاں باندھے ہوتے، پہلے تانگے پر ڈھول والا ہوتا، جو ڈھول بجاتا اور اس کا ساتھی، ہاتھ میں بڑا سا جھنجھنا، چھنکاتا تھا، پھر یہی ڈھول والا تانگہ روک کر دنگل کے انعقاد کا اعلان بھی کرتا، اس کا بولنے کا اپنا ہی انداز ہوتا، وہ یوں شروع کرتا ”لو سنو،میرے بھائیو“ دنگل پر ٹکٹ ہوتا، لاہور می مقابلے منٹو پارک(حال اقبال پارک) کے مرکزی اکھاڑے میں ہوتے اور جیتنے والے جشن بھی مناتے۔ اکثر یہاں بھی منصفی پر تنازعہ ہو جاتا تو بڑے جوڑ کے مقابلے کاپھر سے اعلان کر دیا جاتا تھا۔

ہم اپنے قارئین! کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ دور بہت اچھا تھا، اس کے باوجود گڑبڑ ہوتی رہتی، کشتیاں فکس بھی ہوتی تھیں اور ” دف“ بھی تبدیل کر لی جاتی تھی۔ آسان زبان میں اسے فلور کراسنگ کہہ لیں، یہ تو ہمارے اپنے زمانے کی بات ہے، اس سے پہلے کے حوالے سے ہم نے پڑھا اور سنا تھا کہ نواب اور راجے، مہاراجے اچھے اچھے پہلوانوں کو اپنے اپنے دربار کی ملازمت میں رکھتے اور ان کے مقابلے کراتے تھے۔ اس دور کے بھی کئی بھید ہیں۔ ایک یہ کہ ہر ”دف“(گروپ) کا ایک بڑا استاد ہوتا، جو نہ صرف شاگردوں کو داؤ پیج سکھاتا،بلکہ حکمت عملی بھی وضع کرتا تھا، یہی بڑا پہلوان (استاد) دوسروں سے معاملات طے کرتا، اب یہ بھی بتاتے چلیں کہ متحارب گروپوں کے ان اساتذہ کے درون خانہ تعلقات اچھے ہوتے اور کئی بار یہ پورا دنگل ہی فکس کر لیتے، چھوٹے پہلوانوں کے فیصلے کراتے اور بڑے جوڑ کو برابر کرا لیتے تاکہ پھر اگلے دنگل میں کمائی زیادہ ہو (است عرف عام میں نورا کشتی کہا جاتا تھا)، ہم اس حوالے سے اور بھی بہت کچھ بیان کر سکتے ہیں۔ تاہم آمدم برسر مطلب کے طور پر یہ بتانا چاہتے ہیں کہ یہ جو بڑے استاد یا ٹرینر ہوتے تھے۔ یہ حساس بھی بہت تھے، شاگرد ان کی ہدایت پر عمل نہ کرتے تو ان کو ڈند، بیٹھکوں یا پھر دوڑ کی سزا بھی دیتے تھے۔یہ جو ہم نے فکسنگ کا ذکر کیا تو ایسا کبھی کبھا ہوتا ورنہ عموماً مقابلے عزت کا سبب بنتے تھے۔یہ جو استاد اور ٹرینر تھے، کئی بار شاگردوں کی من مانی سے تنگ آتے تو دوسری ”دف“ (گروپ) کے ٹرینر(استاد) کو اپنے پہلوان کی کمزوری بتا دیتے اور اسے ایک آدھ بار ہار جانے والی سزا بھی دیتے تھے۔

آج کے دور میں اس کا تصور ہی کیا جا سکتا ہے کہ دور بدلےء تو اطوار بھی تبدیل ہو گئے،لیکن یہ گذارش کچھ غلط نہیں ہو گی کہ اب جو سیاست ہو رہی ہے تو یہ بھی ویسی ہی پہلوانی ہے، جو اس زمانے میں ہوئی تھی۔ آج بھی ”دف داری“ ہے، ویسی ہی پشت پناہی ہوتی ہے، طاقتور اور ذہین، سیاسی گروہوں کو اپناتے، سکھاتے اور سزا بھی دیتے ہیں اور پھر فکسنگ تو عام ہے، جب چاہیں، مخالفت جتھے میں سے کچھ حضرات پر مشتمل ایک قافلہ تیار کریں،جو صبح ہوتے ہی ایک میز سے اُٹھ کر دوسری میز پر جا بیٹھے۔اکثر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جب ایک ”طاقت ور“ گروہ کے استاد، سربراہ یا ٹرینر کی ہدایت کو نظر انداز  کیا جائے تو پھر مخالفین کو موقع دیا جاتا ہے کہ وہ ذرا ”ہاتھ“ دکھا دیں، تاکہ کچھ سمجھ آ جائے، تاہم اس میں خطرہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے، اب آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ حکمران جماعت کے نوجوان اور ناتجربہ کار چھوٹے پہلوانوں کو اندازہ ہی نہیں ہوا، اور انہوں نے قومی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کے عمل کو اپنی ہنر مندی اور فتح جانا، اور اسی نشے میں ایف اے ٹی ایف کے حوالے سے قانون سازی کو مخالف فریق کی کمزوری اور اپنی کامیابی جانا اور بے قابو ہو کر طعنہ زنی ہی نہیں نشتر زنی بھی شروع کر دی۔ یہ اندازہ ناپسندیدہ ہی ہو گیا ہو گا کہ گذشتہ ہی روز قومی اسمبلی کی مفاہمت سینیٹ میں ”چِت“ ہو گئی او یہ قوانین مسترد کر دیئے گئے کہ سینیٹ میں متحدہ اپوزیشن کو اکثریت حاصل ہے۔ یہ دو روز پہلے تک منتشر تھے، اب ذرا سی ”چوک“ ان قوانین کو آگے لے گئی۔ ان کی منظوری اب پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس ہی میں ہو گی، اور وہاں بھی حزبِ اقتدار کو دانتوں پسینہ آ جائے گا، بہتر ہے کہ اپنے ”ٹرینر“ کو  ہدایات پر عمل کرنے کا یقین دِلا دیں کہ یہ قومی مسئلہ ہے، ورنہ وزیراعظم کا یہ طعنہ سچ ہونے جا رہاہے کہ اپوزیشن ایف اے ٹی ایف کے قوانین کی منظوری میں رکاوٹ  بن  رہی ہے، تھوڑا کہے کو زیادہ جان لیں۔

چلتے چلتے اپنے محترم ”بھتیجے“ مولانا فضل الرحمن کی بات بھی کر لیں، انہوں نے اپنے لڑکپن سے اس جواں سالی تک باباء اتحاد نوابزادہ نصر اللہ خان کے ساتھ سیاست میں وقت گذارا اور ان کی عدم موجودگی میں اب انہی کے راستے پر چلنے کی سعی فرما رہے ہیں، آج (جمعرات) حزبِ اختلاف کی دس چھوٹی جماعتوں کا اجلاس بلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان جماعتوں کو بھی بڑی جماعتوں مسلم لیگ(ن) اور پیپلزپارٹی کے رویے کا شکوہ ہے کہ ان جماعتوں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تعاون کیا۔یہ اجلاس مسلم لیگ(ن) کے مرکزی صدر محمد شہباز شریف کی قیادت میں ایک بڑے وفد کے ساتھ ملاقات میں اے پی سی بلانے، تحریک چلانے اور رابطہ کمیٹی بحال کرنے کے فیصلے کے نتیجے میں بلایا گیا۔ بہرحال یہ سب اب عاشورہ محرم کے بعد ہی نتیجہ خیز ثابت ہو گا اور یہاں بھی تاریخ دہرائے جائے گی، جب ایک عشائیہ پر ”قومی اتحاد“ کا اعلان ہو گیا تھا۔

مسلم لیگ(ن) کے قائد محمد نواز شریف، ان کے چھوٹے بھائی محمد شہباز شریف کے تعلقات احترام اور حکمت عملی کے حوالے سے سابقہ کالم میں عرض کر چکے اور یہ بھی کہہ چکے کہ واپسی کٹھن ہے۔ اب وفاقی کابینہ نے فیصلہ کر لیا۔ قانونی ٹیم کے باہر اعوان اور ڈاکٹر فروغ نسیم کو ذمہ داری سونپ دی گئی، نتیجہ کب نکلے گا یہ تو مستقبل بتائے گا تاہم غور فرما لیں، گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کہتے ہیں ”برطانیہ اور پاکستان کے درمیان ”ملزموں“ کے تبادلے کا معاہدہ نہیں ہے، اِس لئے نواز شریف کو حوالے کرنا مشکل امر ہے“ گورنر خود برطانوی پارلیمینٹ کے رکن رہ چکے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -