لب ِفرات پر اِک معرکہِ حیات

لب ِفرات پر اِک معرکہِ حیات
لب ِفرات پر اِک معرکہِ حیات

  

قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

محرم الحرام ہجری سال کا پہلا مہینہ ہے۔اس مقدس مہینے میں حق و باطل کے درمیان لب فرات  وہ معرکہ پیش آیا کہ جس کی گونج مشرق و مغرب میں قیامت تک سنائی دیتی رہے گی۔ یہ معرکہ تاریخ انسانی کا وہ ناقابل فراموش واقعہ ہے جسے کوئی بھی صاحب شعور انسان نظرانداز نہیں کرسکتا۔  یہ مہینہ ہمیں وفا، ایثار،قربانی،توکل اللہ، اتحاد امت،باہمی رواداری اور پرامن بقائے باہمی کا درس دیتا ہے۔اس مہینے کو خداِ ذولجلال نے حرمت والا مہینہ قرار دیا ہے۔قرآن پاک کی سورہ التوبہ کی آیت نمبر36 میں جن چار مہینوں کو ”منہا اربعۃ حرم“کے الفاظ سے یاد کیا گیا ہے۔ ان چار مقدس مہینوں میں محرم الحرام بھی شامل ہے۔

درحقیقت فلسفہ کربلا کیا ہے؟ مسلمانوں کے لیے اس مقدس مہینے میں کیا سبق پنہا ں ہے؟ ہمیں اپنے آپ کو اپنے ضمیر کی عدالت میں کھڑا کر کے پوچھنا ہو گا کہ کیا ہم نے اپنی زیست ِ رفتہ کو نواسہ رسول خاتم النبیینؐ کے نقش قدم پر عمل پیرا ہو کر گذارا ہے؟ کیا ہم نے شہدا کربلا کی جدوجہد اور ان کی لازوال قربانیوں کی اصل روح کو سمجھا ہے؟ کیا ہم نے اس پیغام کو آنے والی نسلوں تک منتقل کر دیا ہے؟ اگر نہیں تو ہمیں اس پر غور و فکر کرنا ہو گا تب ہی ہم اس کے اصل مقصد و مفہوم سے بہرآور ہو سکیں گے۔ تب ہی ہم اپنا مقصد حیات سمجھ سکتے ہیں، تب ہی ہمیں اپنے اشرف المخلوقات ہونے کا فلسفہ سمجھ میں آئے گا۔

 فلسفہ کربلا درحقیقت فلسفہ ’قرب و بلا‘ ہے یعنی ایک دکھ اور درد کی ایسی داستاں کہ جس میں تاریخ نے ثابت کیا کہ اسلام کو اتنا نقصان کافروں سے نہیں پہنچایا جتنامنافقوں سے پہنچا ہے۔ ان منافقوں نے اسلام کو یرغمال بنانے کے لئے ظلم کی آخری حد بھی عبور کر ڈالی، شاخ نازک سے کلیاں نوچ ڈالیں اور جگر کا خون بازاروں کی خاک میں ملا دیا۔ حتیٰ کہ چشم فلک کو بھی آنسو بہانے پر مجبور کر دیا۔ اس معرکہ میں حق و باطل آمنے سامنے آکھڑے ہوئے۔

عجب مذاق ہے اسلام کی تقدیر کے ساتھ

کٹا  حسینؓ   کا سر  نعرہ  تکبیر    کے    ساتھ

 نواسہ رسول خاتم النبیینؐ نے خاندانِ طیب کے 72 معصومیت کے پیکر تن خدا کی رضا کے لیئے قربان کر دئیے۔ مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ نواسہ رسول خاتم النبیینؐ نے یزید کی بیعت قبول کرنے سے جان عزیز کو جانِ آفریں کے سپرد کرنا مقدم سمجھا اور دینِ خدا کو رہتی دنیا تک بقا بخشی۔ یہ ایثار و قربانی ہمیں اس بات کا درس دیتی ہے کہ خدا کی خوشنودی ہی ہمارا حاصل و وصول ہے۔ اس کی رضا ہی ہماری زندگی کا مرکز و محورہونا چاہیے۔ خالق و مالک کی خوشنودی ہی ہماری حیات جاودانی کی حقیقی میراث ہونی چاہیے تاکہ ہم اْس کے ہاں سرخرو ٹھہریں اور فلاح پا جائیں۔ اْس خالق کی رضا اور خوشنودی مل جائے تو اور کسی شے کی نہ تو طلب، ضرورت اور اہمیت رہتی ہے اور نہ ہی اس کی خواہش۔ 

غریب و سادہ و رنگین ہے داستان حرم

نہایت اس کی حسینؓ ابتدا  ہے  اسماعیل

مگر دورِ جدید کے اپنے ہی روگ ہیں، ہمیں دین سے شدید محبت ہے مگر زندگی عمل سے خالی ہے بلکل ایک کھوکھلی عمارت کی مانند، ایک گوشت پوست کا انسان نما پتلا کہ جس کی بے حسی اور بے بسی قابل تفکر ہے۔ ہم فہم و فراست، حکمت و تدبر اور فکر واحساس سے بہت دور ہو چکے ہیں۔ ایک لمحہ بھی سا کت ہو کر نہیں سوچتے کہ ہمارا مقصد حیات کیا ہے۔ 

درحقیقت زندگی کی تیز رفتاری میں ہم اپنے محسنوں کو بھول بیٹھے ہیں کہ جن کی لازوال قربانیوں کی بدولت ہم دین حق سے روشناس ہوئے۔کوئی ہمارے پیدا ہونے سے ہزار سال قبل بھی ہماری خاطر آنسو بہا رہا تھا، کوئی ہمارے مستقبل کے لئے پریشان تھا،کوئی ہمارے لئے خدا کے سامنے آہ و زاری کیا کرتا تھا اور کسی نے اپنے لہو سے اس گلشن کی آبیاری کی۔ 

 مگر افسوس صد افسوس ہم کہاں جا رہے ہیں؟ کیا کر رہے ہیں؟ کیوں اس قدر بے عمل ہیں؟ کس روش کا شکار ہیں؟ کونسی سمت میں جا رہے ہیں؟ ہماری بے ضمیری اور بے حسی، ہماری چشم پوشی اور بے قدری و بے وفائی کے اْمت کی نوجوان نسل پرکیا اثرات مرتب ہو نگے؟ ان کی تربیت میں ہم کیاحصہ ڈال رہے ہیں؟۔ کیا ہم اپنے اردگرد کے لئے خوشبو ؤں کے سفیر ہیں؟ کیا ہم راحت اور آسانیاں بانٹنے والے ہیں؟

اگر نہیں تو عہد کر لیجیے کہ اس ماہ مقدس کے وسیلہ سے ہمیں اپنی زندگیوں کو بدلنا ہو گا۔خدا کی زمین پر خدا کا نظام نافذ کرنا ہو گا۔ اپنی سمت کو درست جاہ و منزل کی طرف گامزن کرنا ہوگا۔ اس ماہ مقدس میں فرقہ واریت کے بت کو پاش پاش کرنا ہو گا۔ بھائی چارے، اخوت انسان دوستی اور انسانیت کی خوشبو کو چار سْو پھیلا کر پاکستان کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانا ہو گا۔ جس مقصد کے لئے شہدا کربلا نے عظیم قربانیاں دیں اْس مقصد کو قیامت تک زندہ وجاوید رکھنا ہو گا۔ اپنی جد وجہد کو جہد مسلسل اور خالص کرنا ہو گا۔ مذ ہبی نفرت و منا فرت کو جڑ سے اْکھاڑ نا ہو گا اور خود کو راہ حق کا ساتھ اور باطل کے خلاف سینہ سْپر ہونے والا بناناہو گا۔ پاکستان میں رواداری اور برداشت کو عام کرنا ہو گا اس مقدس مہینے کی حرمت کو پامال ہونے سے بچانا ہو گا۔ وطن عزیز کے سکیورٹی اداروں کے معاون اور مددگار بننا ہو گا۔ کسی بھی نا گہانی آفت سے بچنے کے لئے ابھی سے موثر اقدامات کرنے ہونگے۔ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی ایک دوسرے کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر محرم الحرام میں ممکنہ دہشت گردی کو شکست دینا ہو گی۔ 

ایک اور بات یاد رکھیں!کرونا وائرس کم ہوا ہے ابھی ختم نہیں ہوا اس لیے محرم الحرام کے اس مقدس مہینے میں ایک دوسرے کا خیال رکھیں، حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے ایس او پیز پر عمل کریں تاکہ ملک میں کورونا وائرس کی دوسری لہرکے ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔ خدا نے ہم سے بس نیت اور کوشش مانگی ہے باقی کرم، رحمت اور برکت اْس کے گھر کی باندی ہیں وہ ہم سب پر رحم فرمائے۔ آمین 

مزید :

رائے -کالم -