نواز شریف کی واپسی، حقیقت یا سیاسی ڈرامہ؟

نواز شریف کی واپسی، حقیقت یا سیاسی ڈرامہ؟
نواز شریف کی واپسی، حقیقت یا سیاسی ڈرامہ؟

  

اگرچہ وزیراعظم عمران خان نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو پاکستان واپس لانے کی ہدایت جاری کر دی ہے اور وزارتِ قانون کو اس سلسلے میں اقدامات  کا حکم دیا ہے،لیکن شاید کوئی ایسا شخص ملے جو یہ یقین کرے کہ حکومت واقعی نواز شریف کو واپس لانا چاہتی ہے۔ سنا ہے کابینہ میں اس حوالے سے بڑی گرما گرمی دیکھنے میں آئی کہ نواز شریف کو پاکستان واپس کیوں نہیں لایا جا رہا۔اُدھر یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اِس بات پر برہم ہیں کہ نواز شریف پورے نظام کو ماموں بنا کر بیرونِ ملک کیسے گئے، شنید ہے کہ وہ اِس سلسلے میں تحقیقات کا حکم بھی دے چکے ہیں۔ میرے نزدیک تو یہ گڑھے مردے اکھانے والی بات ہے،بلکہ لکیر پیٹنے کا عمل ہے،جس سے کچھ حاصل وصول نہیں ہو گا ہاں ایک تماشا ضرور لگے گا،جس کے آثار بھی ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔مثلاً صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے نیب کو الزام دیا تو اُس نے تردید کر دی کہ میڈیکل رپورٹوں سے اُن کا کوئی لینا دینا نہیں، اُدھر وفاقی وزیر فواد چودھری جس طرح منیب الرحمن کو یہ الزام دیتے ہیں کہ اُنہیں سائنس کا کچھ علم نہیں، اُسی طرح انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد تو گائناکالوجسٹ ہیں، اُنہیں نواز شریف کی طبی رپورٹوں کا کیا علم ہو سکتا ہے، جواباً ڈاکٹر یاسمین راشد بھی انہیں طبی لحاظ سے چٹا اَن پڑھ کہہ گئی ہیں۔

سو دیکھا جائے تو نواز شریف کی وجہ سے خود حکومت کے اندر ایک کھچڑی پک رہی ہے، اس سارے عمل میں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے یہ کہہ کر پانی پھیر دیا ہے کہ برطانیہ کے ساتھ ملزموں کے تبادلے کا کوئی معاہدہ نہیں،اِس لئے نواز شریف کو واپس لانا ممکن نہیں، تاوقتیکہ وہ خود نہ آجائیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر بیٹھے بٹھائے ایسا کیا ہوا ہے کہ وزیراعظم سمیت پوری کابینہ کو نواز شریف کی یاد ستانے لگی ہے۔ تصویریں تو پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں،لیکن حالیہ تصویر جس میں وہ اپنے بیٹے حسن نواز کے ساتھ لندن میں چہل قدمی کر رہے ہیں، بجلی گرا گئی ہے، نہیں صاحب بات صرف اس تصویر کی نہیں،بلکہ اُس سیاسی ہلچل کی ہے جو سیاسی محاذ پر جنم لے رہی ہے اور جس میں نواز شریف ایک کردار بن کر سامنے آ رہے ہیں۔مَیں پہلے بھی ان کالموں میں لکھ چکا ہوں کہ نواز شریف کے کردار کو پاکستانی سیاست سے نکالا نہیں جا سکتا وہ اس میں پوری طرح موجود ہیں،کیونکہ اُن کی جماعت ابھی تک متحد ہے اور منتشر نہیں ہوئی۔یاد رہے کہ یہ وہی مسلم لیگ ہے،جو نواز شریف کی سعودی عرب جلاوطنی کے بعد ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی تھی،مگر اس بار اُس کے ارکانِ اسمبلی بھی جڑے ہوئے ہیں اور تنظیمی ڈھانچہ بھی برقرار ہے۔ گویا خطرہ ٹلا نہیں، پوری طرح موجود ہے کہ کسی وقت بھی حکومت کے خلاف بگل بجا دے۔جب سے مریم نواز شریف کی پیشی پر  ہنگامے کا واقعہ پیش آیا ہے حکومت کے سب اچھا سمجھنے والے حلقے بھی چوکنے ہو گئے ہیں،مجھے نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں مریم نواز کو نیب دوبارہ بلائے گا،کیونکہ اس سے بھی بڑا شو ہو سکتا ہے، جو حکومت کے لئے کسی بھی طرح قابل ِ قبول نہیں،جس طرح حکومتی حلقوں کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ نواز شریف کی طبی رپورٹیں بنوا کے بیرون ملک جانے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے اُسی طرح یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ مریم نواز کو ایک ریلی کے ساتھ پیشی پر جانے کا حکم بھی نواز شریف نے دیا ہے اور پارٹی کو اس سلسلے میں ہدایات بھی دی ہیں، سونے پہ سہاگہ پنجاب حکومت کی بے تدبیری کہ ایسے انتظامات ہی نہیں کئے کہ مسلم لیگی کارکنوں کو راستے میں  ہی روک کر احتساب بیورو تک نہ پہنچنے دیا جاتا سو ایک بڑا شو ہو گیا، جس کی باز گشت ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔

بات یہیں تک نہیں رُکی،بلکہ یہ خبریں بھی آئیں کہ بلاول بھٹو زرداری کا نواز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے۔ نومبر کے بعد سے اب تک یہ پہلا موقع تھا کہ نواز شریف نے کسی سیاسی رہنما سے اس طرح بات کی ہو۔ یہ دوسری ”حرکت“ تھی جس نے حکومتی کیمپ میں تشویش کی لہر دوڑائی کہ نوازشریف نے اب باہر بیٹھ کر سیاست کی طنابیں کھینچنا شروع کر دی ہیں، پھر یہ خبر بھی آئی کہ نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کو منانے کے لئے فون کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ اُن کی آل پارٹیز کانفرنس میں مسلم لیگ(ن) بھرپور شرکت کرے گی۔ یہ ایک اور تازیانہ تھا،جو حکومت پر برسا،کیونکہ نواز شریف کی خاموشی کے باعث مسلم لیگ(ن) ایک بے عملی کا شکار تھی۔ اگرچہ شہباز شریف بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن سے رابطے میں تھے، مگر سیاسی سطح پر کوئی گرم جوشی نہیں تھی، بلکہ الٹا ایک بے یقینی اور انتشار کی کیفیت تھی، لیکن نواز شریف کے سرگرم ہونے سے اپوزیشن میں بھی ایک نئی جان پڑنا شروع ہوئی،جس کا نتیجہ یہ ہے کہ شہباز شریف جو غیر فعال ہو چکے تھے، اب فعال ہو گئے ہیں اور انہوں نے مولانا فضل الرحمن سے ملاقات کر کے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ حکومت کے خلاف تحریک چلانا ناگزیر ہو چکا ہے۔اب یہ ساری باتیں ایسی حقیقت ہیں، جس سے نظریں نہیں چرائی جا سکتیں۔ حکومتی حلقوں  کو اس کا توڑ اس بات میں نظر آتا ہے کہ نواز شریف کو دوبارہ گوشہئ تنہائی میں دھکیلا جائے اور وہ پہلے کی طرح اپنی زبان بند رکھیں اور پاکستانی سیاست میں دخل نہ دیں، اسی لئے یہ مہم شروع ہوئی ہے کہ نواز شریف کو واپس لایا جائے۔اس مہم کا نتیجہ کیا نکلتا ہے،حکومت کو غالباً اس سے کوئی غرض نہیں البتہ وہ اس سے یہ مقصد حاصل کرنا چاہتی ہے کہ نواز شریف ایک بار پھر مریض بن کر لیٹ جائیں اور ان پر واپسی کا دباؤ ڈال کر مریم نواز کو بھی خاموش رکھا جا سکے۔ کابینہ نے جس سختی کے ساتھ یہ متفقہ بات کہی ہے کہ مریم نواز کو کسی صورت بیرون ملک جانے کی اجازت نہ دی جائے، وہ اِس امر کا اظہار ہے کہ اُن کی زبان بندی بھی حکومت اپنے لئے ضروری سمجھتی ہے۔

پاکستان میں نواز شریف کے جانے کا معاملہ اتنا اُلجھا ہوا ہے کہ کوئی بھی اب اس کی ذمہ داری لینے کو تیار نہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی یہ ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کیا ہے کہ نیب بھی اس معاملے   سے خود کو بر الذمہ قرار دے چکی ہے، رہ گئی حکومت تو وہ صرف یہ کہہ کر اپنی جان چھڑا لیتی ہے کہ اُن دِنوں یہ کہا جا رہا تھا کہ نواز شریف کو فوراً لندن نہ بھیجا گیا تو اُن کی جان جا سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان تو اس کے بارے میں اپنے خیالات کا کئی بار اظہار بھی کر چکے ہیں،اِس لئے یہ ممکن نہیں کہ وزارتِ قانون کوئی ایسا مضبوط کیس تیار کر سکے جو برطانوی حکومت کو مجبور کر دے کہ وہ نواز شریف کو ملک بدر کر دے۔ نواز شریف کوئی معمولی شخصیت نہیں، تین بار وزیراعظم رہ چکے ہیں اور مالی طور پر شریف خاندان دُنیا کے امیر خاندانوں میں شمار  ہوتا ہے۔ نواز شریف مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں،اور ماضی میں ان کا بائی پاس بھی ہو چکا ہے،اِس لئے بظاہر ایسے حالات نظر نہیں آتے کہ نواز شریف کو حکومت زبردستی ملک واپس لا سکے۔ اس ساری مہم کا مقصد صرف یہی ہے کہ ایک طرف نو از شریف پر دباؤ بڑھایا جائے۔ دوسری طرف اُن کی دھوکہ دہی و بزدلی کو اُجاگر کیا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ  اپنی ساکھ کو بچایا جائے جو نواز شریف کو باہر بھیج کے بُری طرح متاثر ہوئی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -