ہمارا میڈیا اور کراچی کی بارشیں!

ہمارا میڈیا اور کراچی کی بارشیں!
ہمارا میڈیا اور کراچی کی بارشیں!

  

پاکستان کے داخلی مسائل اتنے گھمبیر ہو چکے ہیں کہ ان کو دیکھ دیکھ کر اور سن سن کر ہول آنے لگتا ہے۔ جب سے موسم برسات شروع ہوا ہے اخباروں نے کئی بار یہ شہ سرخی لگائی ہے کہ کراچی ڈوب رہا ہے۔لیکن یہ تو ایک جاری صورتِ حال ہے، سوال یہ ہے کہ ڈوبتے ہوئے کو پار کس نے لگانا ہے؟ کئی دِنوں سے میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ ڈوبتے کراچی کو بچانے کے لئے وفاق نے آگے آنا ہے یا صوبے نے۔ حتمی فیصلہ اب تک نہیں ہو سکا۔ الیکٹرانک میڈیا پر روزانہ ٹاک شوز چلائے جاتے ہیں لیکن کسی تجویز یا سفارش پر عمل نہیں  کیا جاتا۔ عاملوں اور عمال میں جب پھوٹ پڑی ہوئی ہو تو ایکشن کون لے؟ بس اپنا اپنا ٹائم پورا کر کے میڈیا والے بھی رخصت ہوتے ہیں اور مبصر حضرات و خواتین بھی۔……کمرشل دھڑا دھڑ چلائے جا رہے ہیں اور ان کی وجہ سے اشیائے صرف روز بروز مہنگی ہو رہی ہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حکومتیں آتی جاتی ہیں، چہرے بدلتے ہیں لیکن مسائل وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔

کیا آج تک کسی حکومت نے یہ سوچا ہے کہ ایک ”وزیرِ مہنگائی“ بھی ہونا چاہئے،اور وہ دوسرے کئی وزراء کی طرح برائے نام وزیر نہ ہو بلکہ طاقتور ترین وزیر ہو۔ اس کو ہر شہر اور قصبے اور گاؤں میں ایک ایک مہنگائی مجسٹریٹ مقرر کرنا چاہئے۔ ضروری نہیں کہ وہ تعلیمی کوالی فیکیشن کے اعتبار سے مجسٹریٹ کی تقرری کا حق دار ہو۔”سپلائی اور ڈیمانڈ“ کا اصول یا فارمولا یا محاورہ سن سن کر کان پک گئے ہیں۔ ہر ملک کے اپنے مخصوص حالات اور تقاضے ہیں۔میرے خیال میں مہنگائی کے موضوع پر بھی ایکJIT یا کمیشن بنا کر اس کو پابند کیا جائے کہ ایک مقررہ ٹائم فریم کے اندر اندر اپنی سفارشات اور تجاویز پیش کرے۔ ان سفارشات پر فی الفور عمل کا آغاز کر دینا چاہئے۔ حکومت کا یہ بہانہ کہ ہر فیلڈ میں ایک مافیا موجود ہے، اب ختم ہونا چاہئے۔ دو برس بعد بھی اگر یہی کچھ سننا ہے تو اس حکومت کا فائدہ؟…… عام آدمی کو ریلیف ملنا چاہئے۔ بجلی، تیل، گیس، اشیائے خوردو نوش سب کی سب اتنی گراں ہو چکی ہیں کہ سارے اگلے پچھلے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔ میڈیا پر ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے کہ ملک کی معیشت روبہ ترقی ہے۔میرا خیال ہے کہ گردن توڑ مہنگائی کا نام حکومت نے ”ترقی“ رکھ دیا ہے۔

ایک مسئلہ ہو تو اس کا رونا  رویا جائے…… مَیں کلARY نیوز پر ایک ٹاک شو دیکھ رہا تھا۔ ملک کے ایک معروف صحافی کراچی میں بارشوں کا ذکر رہے تھے۔ پہلے تو15منٹ تک ایک رپورٹ دکھائی گئی جس میں کراچی کو واقعی ڈوبتا دکھایا گیا۔لیکن دوسری طرف ٹاک شو کا دوسرا مبصر چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا:”کہاں ہیں وزیراعظم؟ عمران خان کو فوراً ہیلی کاپٹر پر بیٹھ کر کراچی پہنچنا چاہئے اور سیلابی ریلوں کو روکنے کے انتظامات کے احکامات صادر کرنے چاہئیں۔وہ ایوانِ وزیراعظم میں بیٹھ کر کیا کر رہے ہیں؟کراچی کے علاوہ لاہور کا بھی یہی حال ہے۔ کیا وزیراعظم اور ان کی کابینہ سو رہی ہے؟“

مَیں ان کی گفتگو سن رہا تھا۔ ان کا صحافی برادری میں بڑا نام اور مقام ہے۔لیکن ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا بارشوں کو روکنا اور بارشی پانی کے ریلوں کے آگے بند باندھنا وزیراعظم کا کام ہے؟

فرض کریں عمران خان کا ہیلی کاپٹر کراچی میں لینڈ کر گیا ہے تو کیا سیلابی بارشیں اس کو دیکھ کر تھم جائیں گی؟ انہوں نے اگر کسی کو آرڈرز ہی دینے ہیں تو یہ اسلام آباد میں بیٹھ کر بھی دیئے جا سکتے ہیں،اس کے لئے بہ نفس ِ نفیس کراچی لینڈ کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

اور پھر اسی پروگرام کا دوسرا اینکر بتا رہا تھا کہ صوبائی حکومت کہاں ہے؟ وہ متعلقہ افراد اور محکموں کو لانچ کیوں نہیں کرتی؟ اور ڈوبتے کراچی کو کیوں نہیں بچاتی؟…… اس پروگرام کی ”جوڑی“ کو کس طرح بتایا جائے کہ نہ صرف امسال زیادہ بارشیں ہو رہی ہیں،بلکہ آنے والے برسوں میں اس سے بھی زیادہ بارشیں ہوں گی اور بقولِ شخصے:”جب بارش زیادہ ہو گی تو پانی بھی زیادہ آئے گا!“

اور کثرتِ باران کا عذاب صرف پاکستان پر نہیں، بلکہ ساری دُنیا پر چھایا ہوا ہے اور اس میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے اسباب کیا ہیں۔ اس موضوع پر لاتعداد بحث و مباحثے ہو چکے اور بے شمار مضامین لکھے جا چکے ہیں۔امریکہ، یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک اس کا شکار ہیں۔مَیں اگلے روز ”دی نیو یارک ٹائمز“ میں ایک آرٹیکل پڑھ رہا تھا۔ اسے 24اگست کی اشاعت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا عنوان تھا:

Floods Cripple broad swath of China

 پانچ کالموں پر مشتمل اس طویل آرٹیکل میں بتایا گیا ہے کہ:”کورونا وائرس کو ایک حد تک کنٹرول کر لینے کے بعد چین کے لیڈر اب بڑھتے اور پھیلتے سیلابوں کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سینکڑوں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔…… دریائے یانگ زی (Yanghtze) پر تین غاروں والا ڈیم (تھری گارجز ڈیم) پانی ذخیرہ کرنے کی آخری حدوں تک پہنچ گیا ہے اور اب حکومت کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں کہ وہ فلڈ گیٹ کھول دے اور سینکڑوں ہزاروں انسانوں کے ڈوبنے کا نظارہ کرے اور تمام فصلیں برباد اور لاکھوں مکانات اس سیلاب کی زد میں آ کر تباہ ہوتے ہوئے دیکھے۔“

اکثر قارئین کو شاید معلوم نہیں کہ چین میں ہر سال اس موسم میں سیلاب آتے ہیں۔ 2003ء میں چین نے یہThree Gorges Dam تعمیر کیا تھا جس سے سیلابوں پر کافی حد تک قابو پا لیا گیا،لیکن دوسری طرف بارشوں کی کثرت کا کوئی علاج نہیں۔ہمارے کراچی سے بھی بڑے بڑے سات آٹھ شہر جو دریائے یانگ زی کے کناروں پر آباد ہیں وہ سب ان سیلابوں کا شکار ہوئے ہیں۔…… دریائے یانگ زی چین کا سب سے بڑا دریا ہے جس کی لمبائی 6300کلو میٹر(3900میل) ہے۔ یہ تبت سے نکلتا ہے اور جنوب مشرق کی طرف بہتا ہوا شنگھائی کے مقام پر ساؤتھ چائنا سمندر میں جا گرتا ہے۔ خود صدر شی چند روز پہلے اس شدید طور پر متاثرہ دریا کے کنارے ایک بڑے گنجان آباد شہر میں پہنچے۔ ان کو جو بریفنگ دی گئی،اس میں بتایا گیا کہ: ”امسال صرف اس دریا کی طغیانی کی وجہ  سے6کروڑ 30 لاکھ لوگ متاثر ہوئے، 54000گھر ملیا میٹ ہو گئے اور219 افراد لہروں میں بہہ گئے۔“……

یہ اعداد و شمار صرف ایک دریا کی طغیانی کے ہیں، باقی چین میں درجنوں اور دریا بھی ہیں اور ان میں بارشوں کے سبب طغیانی بھی آئی ہوئی ہے۔ کیا کسی قاری نے سوچا ہے کہ وہ یہ خبر پڑھ کر اس بات پر غور کرے کہ آفاتِ ارضی و سماوی پر کسی کا بس نہیں چلتا۔لیکن پاکستانی میڈیا تو دن رات کراچی کی بارشوں کی رٹ لگاتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ کراچی کا گورنر ہاؤس، ڈیفنس کا ایریا اور باقی پوش علاقے سب کے سب 4،4 فٹ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ابھی کچھ معلوم نہیں کہ بارشوں کا یہ سپل(Spell) کب تک کراچی پر طاری رہے گا؟

پھر میں نے8سے9 بجے کے ٹاک شوز میں ”سما“ نیوز کا ایک مذاکرہ سنا۔ ندیم ملک نے خرم دستگیر صاحب کو بلایا ہوا تھا۔ ان سے پوچھا گیا کہ کراچی کی بارشوں پر آپ کا تبصرہ کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا:”مجھے یاد ہے شہباز شریف ایسی بارشوں میں ربڑ کے لمبے بوٹ گھٹنوں تک چڑھا کر پانی میں کھڑے ہو جاتے تھے۔یہ اشارہ تھا کہ اگر وزیراعلیٰ پانی میں آدھا ڈوبا ہوا ہے تو متعلقہ آفیسرز بھی آگے بڑھیں اور لوگوں کو بارشوں کے عذاب سے بچائیں۔لیکن میاں شہباز شریف کی اس ادا کو دیکھ کر اپوزیشن نے ان کو ”شو باز شریف“ کہنا شروع کر دیا!“…… آپ اندازہ لگائیں کہ اینکر نے سوال کیا پوچھا اور خرم صاحب نے جواب کیا دیا۔ کیا یہ تمہید ناگزیر تھی؟ کیا ان کا مطلب تھا کہ سندھ کے مراد علی شاہ جی ربڑ کے لمبے بوٹ زیب پا کر کے کراچی کے متاثرہ علاقوں میں اُتر جاتے  اور صوبے کے ”خادمِ اعلیٰ“ ہونے کا حق ادا کرتے؟

شائد اسی روزARY کے ”دی رپورٹر“ ٹاک شو میں غلام سحین صاحب نے بھی کچھ ایسا ہی واویلا مچایا اور کہا کہ آرمی چیف فوراً کراچی پہنچیں۔ رینجرز اور آرمی کے دستوں کو حکم دیں کہ وہ ڈوبتے لوگوں کی جانیں بچائیں اور اس طرح عند اللہ ماجور ہوں۔…… مَیں حیران تھا کہ ایک پختہ فکر صحافی بھی یہ بات کہہ سکتا ہے۔ کیا آرمی چیف کا یہی فرض ہے کہ وہ بارشوں میں گھرے شہر میں خود جا کر فوج کو حکم دیں کہ شہریوں کی جانیں بچائیں؟…… کیا دُنیا کے کسی بھی آرمی چیف کا فرضِ اولیں یہی ہے…… اور بائی دی وے! کراچی کے کتنے آڈمی ڈوب کر ہلاک ہوئے تھے کہ اس سانحہ میں آرمی چیف کی آمد ضروری سمجھی گئی!

قارئین گرامی! اگر ہمارے میڈیا کا یہ حال ہو کہ اس کے کہنہ مشق صحافی اور مبصر یہ فیصلہ نہ کر سکیں کہ ملک کی کس شخصیت کی ذمہ داری کیا ہے تو پھر ملک کا حال جو ہونا ہے، وہ ہو رہا ہے…… یہی صورتِ حال دیکھ دیکھ کر میرا دل کڑھتا ہے اور مَیں ملک کے سیاسی اور نیم سیاسی موضوعات پر لکھنا نہیں چاہتا اور ملکی، علاقائی اور بین الاقوامی دفاعی صورتِ حال پر کالم لکھ لکھ کر دِل کی بھڑاس کو ایک دوسرے والو (Valve) کے ذریعے نکالنے کو ترجیح دیتا ہوں!

مزید :

رائے -کالم -