ضم شدہ اضلاع کے عوام کا معاشی انحصار زراعت اور لائیو سٹاک سے وابستہ ہے،محب اللہ 

ضم شدہ اضلاع کے عوام کا معاشی انحصار زراعت اور لائیو سٹاک سے وابستہ ہے،محب ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)بدھ کے روز محکمہ زراعت توسیع کے پشاور دفتر میں صوبائی وزیر زراعت خیبر پختونخوامحب اللہ خان کی سربراہی میں ضم شدہ اضلاع کے ممبران صوبائی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا۔جس میں وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے ایکسایز اینڈ ٹیکسیشن غزن جمال، ضم شدہ اضلاع کے ممبران صوبائی اسمبلی، سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا ڈاکٹر محمد اسرار، محکمہ زراعت و لائیوسٹاک، آبپاشی، فشریز اور سائل کنزرویشن کے سربراہان اور دیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔اجلاس میں سیکرٹری زراعت خیبرپختونخوا نے ممبران صوبائی اسمبلی کو ضم شدہ اضلاع زراعت و لائیو سٹاک کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے محکمہ زراعت و لایؤسٹاک کی ضم شدہ اضلاع میں زراعت و لایؤسٹاک کی ترقی کے مجوزہ پلان کے بارے میں بھی تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔تمام ممبران صوبائی اسمبلی نے صوبائی حکومت اور وزیر زراعت خیبرپختونخواکے ضم شدہ اضلاع میں زراعت و لایؤسٹاک کی ترقی کے لئے کئے گئے اقدامات کو سراہا اور ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے حوالے سے خصوصی اجلاس بلانے اور بلا تفریق حکومتی اور دیگر جماعتوں کے ممبران کی رائے  شامل کرنے پر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔ صوبائی وزیر زراعت نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام کا معاشی انحصار زراعت و لایؤسٹاک سے وابستہ ہے اور موجودہ حکومت ضم شدہ اضلاع میں زراعت و لایؤسٹاک کو ترقی دینے اور انہیں صوبے کے دیگر اضلاع کے برابر لانے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گی۔ وزیر زراعت نے تمام ڈایریکٹر جنرل کو ہدایات دی کہ ضلعی سطح پر جاری ترقیاتی منصوبوں پر متعلقہ ممبران اسمبلی کے ساتھ مشاورت کی جائے اور زمینداروں کے مسائل حل کئے جائیں۔ وزیر زراعت و لایؤسٹاک نے مزید کہا کہ موجودہ حکومت کی طرف سے زراعت کی ترقی کے لئے شروع کئے گئے اقدامات کی ماضی میں مثال نہیں ملتی اور حکومت کی یہ کوشش ہے کہ جدید سائنسی طریقوں سے زمینداروں اور مویشی پال لوگوں کو آگہی دلاتے ہوئے زراعت و لائیوسٹاک کے شعبوں کو معیشت کے استحکام کے ساتھ بے روزگاری کے خاتمے کا باعث بنایا جائے۔ ممبران صوبائی اسمبلی نے اس موقع پر وزیر زراعت کا شکریہ ادا کیا اور صوبہ بھر میں زراعت و لایؤسٹاک کی ترقی کے لئے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -