جنگلات کا تحفظ اور ٹمبر مافیا کی حوصلہ شکنی ترجیحات میں شامل،سید ظہیرالاسلام شاہ

جنگلات کا تحفظ اور ٹمبر مافیا کی حوصلہ شکنی ترجیحات میں شامل،سید ...

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)کمشنر ملاکنڈڈویژن سید ظہیرالاسلام شاہ نے کہاہے کہ عوام کو درپیش مسائل کے حل کے ساتھ ساتھ جنگلات کا تحفظ اور ٹمبر مافیا کی حوصلہ شکنی ترجیحات میں شامل ہیں عوام کوفرنیچر اور ان کی دیگر ضرورت کے مطابق لکڑی فراہم کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جارہے ہیں جو درختوں کی کٹائی کی روک تھام میں معاؤن ثابت ہوں گے عوامی مسائل سے آگاہ ہیں جن کے حل کیلئے تمام تردستیاب وسائل اور صلاحیتیں بروئے کار لائے جارہے ہیں لوگوں کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے صوبائی حکومت نے خصوصی ہدایات جاری کی ہیں جس کی روشنی میں انتظامیہ عوام کی خدمت کیلئے مسلسل متحرک ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزاپنے دفترمیں سینئر صحافی فضل رحیم خان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سوات یونین آف جرنلسٹس کے فنانس سیکرٹری وکارکن صحافی ناصرعالم بھی موجود تھے کمشنر ملاکنڈڈویژن سید ظہیر الاسلام شاہ نے مزید کہاہے کہ جنگلات کے تحفظ کیلئے ہرممکن قدم اٹھارہے ہیں جبکہ ٹمبر مافیا کیخلاف تسلسل کے ساتھ کاروائیاں جاری ہیں جس کے دوران درختوں کی کٹائی اور سمگلنگ کی کوشش ناکام بنائی جارہی ہیں جبکہ اس دوران فارسٹ کے پانچ اہلکاروں کو بھی ٹرمینیٹ کیاگیا ہے انہوں نے کہاکہ جنگلات اور درخت علاقے کے حسن وخوبصورتی بڑھارہے ہیں تو دوسری جانب آلودگی کی روک تھام اور انسانوں کو صاف ماحول فراہم کرنے میں بھی اہم کرداراداکررہے ہیں انہوں نے کہاکہ جنگلات کے تحفظ کیلئے ہرکمپارٹمنٹ کیلئے کمیٹی قائم کی گئی ہے جس میں انتظامی آفیسر،محکمہ فارسٹ کے اہلکار وغیرہ شامل ہیں یہ کمیٹیاں جنگلات اور درختوں کی نگرانی کریں گی اورجہاں سے کٹائی کی اطلاع موصول ہوگی تو کمیٹی فوری کاروائی عمل میں لائے گی یہ سب کچھ جنگلات کے تحفظ اور ٹمبر مافیاکی حوصلہ شکنی کیلئے کیا جارہاہے جن کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے تاہم اس ضمن میں عوام کو بھی تعاؤن کرنا ہوگا انہوں نے کہاکہ درختوں کی کٹائی میں ملوث افراد کیخلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جارہی ہے جس میں جرمانے عائد کرنے کے ساتھ ساتھ قید بھی ہوسکتی ہے انہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت کی ہدایات کی روشنی میں عوامی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات اٹھارہے ہیں اور اس مقصد کیلئے تمام تر دستیاب وسائل کے ساتھ ساتھ تمام صلاحیتیں بھی بروئے کارلارہے ہیں۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -