پی ٹی آئی نے کرپشن اور قرضوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، غلام احمد بلور

پی ٹی آئی نے کرپشن اور قرضوں کے ریکارڈ توڑ دیے ہیں، غلام احمد بلور

  

پشاور(پ ر) عوامی نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر حاجی غلام احمد بلور نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے کرپشن، لوٹ کھسوٹ اور قرضوں کے تمام ریکارڈز توڑ دیے گئے ہیں۔ قرضوں کیلئے ملک کو آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھا گیا ہے۔ ملک کو مزید تباہی سے بچانے، معاشی بحران کے خاتمے اور مہنگائی کی خوفناک سونامی کا راستہ روکنے کیلئے حکمرانوں کا بوریا بستر گول کرنا اور نئے انتخابات وقت کی ضرورت بن چکی ہے۔ پشاور میں سانحہ سپین تنگی کے 90سال مکمل ہونے پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے حاجی غلام احمد بلور نے کہا کہ فرنگی سامراج کی جانب سے آزادی پلیٹ میں رکھ کر تحفے میں نہیں دی گئی بلکہ ہمیں آزادی باچاخان اور خدائی خدمتگار تحریک کی عظیم جدوجہد اور ہزاروں جانوں کی قربانیوں کی بدولت ملی ہے۔ فرنگی سامراج کی جانب سے ہمیں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے غلامی کی زنجیروں میں جھکڑے رکھنے کیلئے قصہ خوانی پشاور، بازار کلاں پشاور، سپین تنگی بنوں، ٹکر مردان گجرگڑھی مردان اور بابڑہ سمیت دیگر مقامات پر سینکڑوں خدائی خدمتگاروں کو شہید کیا گیا۔ ان قومی ہیروز کی قربانیوں کو ہر گز فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ حاجی غلام احمد بلور نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا سے ناانصافی کا سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔ ون یونٹ بننے سے قبل بجلی ہمارے صوبے کے اختیار میں تھی لیکن ون یونٹ کے بعد یہ اختیار ہم سے چھین لیا گیا۔خیبرپختونخوا میں صوبے کی ضرورت سے زیادہ بجلی پیدا ہورہی ہے لیکن اسکے باوجود صوبے میں بدترین لوڈشیڈنگ صوبے کے عوام کے ساتھ ظلم ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی نے 18ویں ترمیم کے ذریعے صوبے کیلئے جو حقوق اور وسائل حاصل کئے، پی ٹی آئی حکومت وہ حقوق اور وسائل صوبے سے چھیننا چاہتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ، صوبائی وزراء، اراکین صوبائی اسمبلی اورخیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء و اراکین قومی اسمبلی ان حقوق اور وسائل کا تحفظ کرسکتی ہے یا نہیں؟ اگر وہ ان حقوق کا تحفظ نہیں کرسکتے تو یہ صوبے کے عوام کے ساتھ غداری ہوگی اور آئند ہ نسلیں انہیں کبھی بھی معاف نہیں کریں گی۔ حاجی غلام احمد بلور کا کہنا تھا کہ 2018ء کے انتخابات میں پختون قیادت کو سازش کے تحت اسمبلیوں سے باہر رکھا گیا تاکہ صوبے کے حقوق کیلئے اسمبلیوں کے اندر آواز نہ اٹھ سکے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -