پنشن نظام میں اصلاحات سے وقت کی بچت اور امور میں شفافیت آئیگی:تیمور جھگڑا

پنشن نظام میں اصلاحات سے وقت کی بچت اور امور میں شفافیت آئیگی:تیمور جھگڑا

  

 پشاور(سٹاف رپورٹر)خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا نے کہا ہے کہ پنشن نظام میں اصلاحات سے وقت کی بچت ہوگی اور امور میں شفافیت آئے گی۔ پنشنرز سہولت مرکز سے پنشن سے متعلق تمام امور ایک ہی چھت کے نیچے سر انجام دیے جائیں گے۔ کورونا وباء کا زور ٹوٹنے کے بعد معیشت سنبھل رہی ہے اور اس وباء کے باعث ترقیاتی کاموں میں جو تاخیر آئی تھی اب فنڈز کے اجراء کے بعد ختم ہو جائے گی۔ صوبائی وزیر نے ان خیالات کا اظہار اکاؤنٹنٹ جنرل آفس خیبرپختونخوا میں پنشنرز فیسلیٹیشن سنٹر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس پاکستان خرم ہمایوں،اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد فہیم، سیکریٹری خزانہ عاطف رحمان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ ون ونڈو آپریشن کی طرز پر قائم پنشنرز سہولت مرکز میں پنشن کیسز کو کم سے کم وقت میں نمٹایا جائے گا اور پنشنرز کو بھی مختلف دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔ پنشنرز سہولت مرکز میں پیشن کے نظام کو ڈیجیٹلائز بھی کیا گیا ہے۔ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ اکاؤنٹنٹ جنرل دفتر میں پنشنرز کے لیے ون ونڈو آپریشن کی سہولت مہیا کرنا احسن اقدام ہے جو کہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کی غمازی کرتا ہے۔ پنشنرز کی سہولت کے لیے پنشن کے نظام میں کی جانے والی یہ اصلاحات ضلع کے اکاؤنٹ دفاتر میں بھی کی جائیں گی۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں 15 سال قبل پنشن بل 1 ارب تھا تاہم موجودہ بجٹ میں یہ 86 ارب ہو چکا ہے جو کہ اس اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس میں اصلاحات کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا کے بعد معیشت سنبھل رہی ہے اور اقتصادی صورتحال میں بہتری آ رہی ہے۔ وباء کے باعث ترقیاتی کاموں میں جو تاخیر ہوئی تھی وہ فنڈز کے اجراء کے بعد ختم ہو جائے گی۔ ایک سوال کے جواب میں صوبائی وزیر نے کہا کہ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا اور اس رقم کو صحت انصاف کارڈ میں استعمال کر رہے ہیں جس سے چند افراد نہیں بلکہ ہر خاندان مستفید ہوگا۔ ریونیو اتھارٹی کے 7 ارب روپے کے محصولات کو بھی صحت کارڈ کے تحت مفت علاج کی سہولت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ قبل ازیں اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد فہیم نے پنشنرز فیسلیٹیشن سنٹر کے حوالے بتایا کہ یہ سہولت محکمہ خزانہ خیبرپختونخوا اور یو این ڈی پی کے تعاون سے قائم کی گئی ہے۔ اس میں پنشن فائلوں کو ڈیجیٹلائز کیا گیا ہے۔ جو پنشن کیس پہلے 40 سے زائد دنوں میں مکمل ہوتا تھا اب 15 سے 20 دن میں ہوگا۔ پنشنرز کو مختلف دفاتر کے چکر بھی نہیں لگانے پڑیں گے بلکہ پنشن سے متعلق تمام امور ایک ہی جگہ پر نمٹائے جائیں گے۔ محمد فہیم نے بتایا کہ پنشنرز فیسلیٹیشن سنٹر میں ہر پنشن کیس کی اعلیٰ سطح پر مانیٹرنگ اور ٹریکنگ بھی کی جا سکے گی اور ایک فائل ایک میز پر مقررہ وقت سے زیادہ نہیں رکے گی۔ کنٹرولر جنرل اکاؤنٹس پاکستان خرم ہمایوں نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ اس طرح کی سہولیات کی فراہمی موجودہ دور کی ضرورت ہے اور ان اصلاحات کو ملک کے دیگر صوبوں میں بھی نافذ کرنے کے لیے اقدامات اٹھائیں گے۔

مزید :

صفحہ اول -