جنوبی پنجاب: نئی حکومتی پالیسی سے ڈاکٹرز میں تشویش کی لہر 

  جنوبی پنجاب: نئی حکومتی پالیسی سے ڈاکٹرز میں تشویش کی لہر 

  

ملتان (وقا ئع نگار) جنوبی پنجاب سمیت دیگر شہروں سے ایم بی بی ایس کرنے والے ڈاکٹرز پر لاہور کے ٹیچنگ ہسپتالوں میں پوسٹ گریجوایشن ٹریننگ کے دروازے بندہوگئے، سب سے زیادہ جنوبی پنجاب کے 4 سرکاری میڈیکل کالجز کے گریجوایٹس متاثر ہونگے۔ایک جانب بزدار سرکارجنوبی پنجاب کو ترجیح دینے کی دعویدار ہے تو دوسری جانب جنوبی (بقیہ نمبر36صفحہ6پر)

پنجاب کے سرکاری میڈیکل کالجز کیگریجوایٹس پر اب لاہور میں  پوسٹ گریجوایشن کے دروازے ہی بند ہوگئے ہیں۔ محکمہ سپیشلائزڈ ہیلتھ کی جانب سے مرتب کی گئی نئی پوسٹ گریجوایشن ٹریننگ پالیسی میں ہر ڈاکٹرز کو اپنی مادرعلمی میں ہی پوسٹ گریجوایشن کرنے کے مواقع بڑھا دیئے گئے ہیں۔نئی پالیسی کے تحت ایم بی بی ایس کرنے کے بعد مادر علمی میں ہی ہاؤس جاب کرنے کے 3 اضافی نمبر ملیں گے اور مادر علمی میں ہی پوسٹ گریجوایشن کے خواہاں ڈاکٹرز کو 7 اضافی نمبر ملیں گے۔ مادر علمی کے مجموعی طور پر 10 اضافی نمبروں سے کسی دوسرے میڈیکل کالج کے گریجوایٹ کیلئے پی جی ٹریننگ حاصل کرنا مشکل ترین ہوجائے گا۔نئی پالیسی سے سب سے زیادہ متاثر جنوبی پنجاب ہوگا جہاں کے 4 سرکاری میڈیکل کالجز کے گریجوایٹس کیلئے لاہور کے کسی سرکاری ٹیچنگ ہسپتال میں  پوسٹ گریجوایشن کے دروازے بند ہوگئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس پالیسی کے باعث اب پرائیویٹ میڈیکل کالجز سے ایم بی بی ایس کرنے والے ڈاکٹرز کیلئے بھی سرکاری ٹیچنگ ہسپتالوں سے پوسٹ گریجوایشن کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

بند

مزید :

ملتان صفحہ آخر -