اپوزیشن کے 10موٹے مسائل

 اپوزیشن کے 10موٹے مسائل
  اپوزیشن کے 10موٹے مسائل

  

 موجودہ اپوزیشن کے 10موٹے مسائل درج ذیل ہیں:  (1)اپوزیشن منقسم ہے، (2) اپوزیشن دباؤ میں ہے، (3) اپوزیشن کی ساکھ بری طرح متاثر ہے، (4) اپوزیشن کی لیڈرشپ بدنام ہے، (5) اپوزیشن کی لیڈرشپ بیمار ہے، (6) میڈیا کا ایک بڑا حصہ اپوزیشن کا مخالف ہے، (7) بظاہر اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن مخالف ہے، (8) اپوزیشن کو عدلیہ سے فوری ریلیف نہیں مل پارہا، (9) اپوزیشن کے کارکن بددل ہیں، اور (10)انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ بھی اپوزیشن کو گھاس نہیں ڈال رہی ہے۔

موجودہ اپوزیشن کے بارے میں یہ تاثر بڑی تیزی سے فروغ پایا ہے کہ وہ باہم منقسم ہے، خاص طور پر اے پی سی کے اعلان کے بعد سے تو اس تاثر کا جادو سر چڑھ کر بولا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ عوامی حلقوں میں اس کو تقویت ملی ہے۔ نون لیگ میں طرفہ تماشہ تو یہ بھی ہوا ہے کہ خود اس جماعت میں قیادت کی سطح پر تقسیم اور اختلاف رائے کا تاثر عوامی سطح پر گہرا ہوا ہے۔ اس حوالے سے ہر پیش رفت پر میڈیا کی جانب سے ایسی ایسی نقطہ آفرینی کی گئی ہے جو تقسیم کے تاثر کو مزید اجاگر کر گئی ہے۔ اس صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اپوزیشن کا بہت سا راوقت منقسم ہونے کے تاثر کو زائل کرنے میں لگ رہا ہے مگر اس کے باوجود وہ وہ ایک سوراخ میں کپڑا دیتی ہے تو دوسرے سے ہوا داخل ہونا شروع ہوجاتی ہے!

اس کے ساتھ ساتھ ایک بیمار اور بدنام لیڈر شپ کی وجہ سے اپوزیشن اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالا نہیں دے سکی ہے۔ منی لانڈرنگ سے لے کر توشہ خانہ کے تحائف تک، بجلی کے کارخانوں سے لے کر سڑک کا ایک ٹوٹا بچھانے تک اور ملک بنانے سے عزت بچانے تک، بات بات پر نیب اپوزیشن قیادت کے خلاف حرکت میں آجاتی ہے۔ اپوزیشن کے وہ اراکین جو میڈیا پر دبنگ طریقے سے بات کرتے ہیں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، وہ بھی آئے روز شکوہ کرتے دکھائی دیتے ہیں کہ نیب سمیت ہر ادارے سے انہیں نوٹس جاری ہو جاتے ہیں۔ اپوزیشن کا بودا پن اس بات سے عیاں ہے کہ اس کو عدلیہ سے ریلیف لینے میں بھی دو دوسال لگ رہے ہیں، اوپر سے پلک جھپکنے میں کوئی مفرور تو کوئی اشتہاری، جبکہ کرونا کے باوجود اپوزیشن کی بیمار قیادت کی بدنامی کا عالم یہ ہے کہ عدالتوں کے کٹہروں میں ماسک کے پیچھے منہ چھپائے حاضر ہے تو کہیں لاٹھی کا سہار الئے کھڑی ہے۔ایسی صورت حال میں اپوزیشن سے حکومت کے خلاف کسی تحریک کی منصوبہ بندی دیوانے کا خواب لگتا ہے۔ اس کے باوجود اگراپوزیشن گاہے گاہے متحرک ہوتی بھی ہے تو اس کے خلاف چور، ڈاکو اور کرپٹ کی گردان شروع ہو جاتی ہے اور شام کو میڈیا اس گردان کو دو کے پہاڑے میں بدل لیتا ہے اور رات گئے تک وہ ہاہا کار مچتی ہے کہ اپوزیشن کے لوگ عزت بچا کر گھر پہنچتے ہیں تو گھر والے صدقے کا بکراکاٹ کر سوتے ہیں۔ 

چونکہ اپوزیشن کی قیادت اسپتالوں میں پڑی ہے یا نیب کے عقوبت خانوں میں، اس لئے اپوزیشن جماعتوں کے کارکن بھی بڑی حد تک بددل ہو چکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ انہیں مریم نواز کے ساتھ نکلنے کا موقع ملا تو انہوں نے بینروں کی بجائے پتھروں سے اپنے جذبات کا اظہار کیا اور الٹا اپنی قیادت کے لئے شرمندگی کا سامان اکٹھا کیا کیونکہ انہیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ قیادت کی عدم موجودگی میں راستے میں حائل رکاوٹوں کو کس طرح عبور کیا جائے۔

 میڈیا کے بارے میں یہ تاثر کبھی ہوا کرتا تھا کہ وہ حکومت وقت کی اپوزیشن ہواکرتا ہے،مگر اب تو میڈیا کا ایک بڑا حصہ حکومت کا پارٹنر دکھائی دیتا ہے اور پراپیگنڈے کی تلوار سے ہر رات اپوزیشن کا سر قلم کرکے سوتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر زہر قاتل کا کردار سوشل میڈیا کا ہے جو کسی کے اختیار میں نہ ہونے کے باوجود ایک خودکارطریقے سے اپوزیشن کی کردارکشی پر تلا ہوا ہے، ایسے میں کہیں کہیں سے کچھ آوازیں حکومت کے خلاف بھی ابھرتی ہیں مگر ان کو بھی خالی پوں پاں کی جازت ہے، چوں چراں کی نہیں!....اسی طرح فی الوقت یہ تاثر بھی کمزور پڑاہواہے کہ اسٹیبلشمنٹ اپوزیشن کی ہوتی ہے اور ہر سرکاری دفتر سے چوہا رپورٹیں اپوزیشن کو مل رہی ہوتی ہیں جو حکومت کو سولی پر چڑھائے رکھتی ہے!

تاہم ایک بات طے ہے کہ اپوزیشن کے جتنے بھی منفی پہلو ہوں، حکومت کی خراب معاشی کارکردگی بہرحال ان سب پر حاوی ہوجایا کرتی ہے کیونکہ عوام دو وقت کی روٹی کی تنگی برداشت نہیں کرپاتی ہے اور جس کو بڑے چاؤ سے لائی ہوتی ہے، اسی کو کوسنے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب اپوزیشن نے حکومت کی گزشتہ دو سالوں میں خراب معاشی کارکردگی کو جواز بنا کر اپنی بات سنانا شروع کی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا اپوزیشن اس بنا پر کوئی تحریک بپا کرسکتی ہے؟ اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو حکومت کو دن میں تارے نظر آسکتے ہیں وگرنہ ان تلوں میں تیل نہیں!

مزید :

رائے -کالم -