ایف بی آر: آڈٹ پالیسی 2019 منظور‘ متعین پیرا میٹرز خفیہ 

  ایف بی آر: آڈٹ پالیسی 2019 منظور‘ متعین پیرا میٹرز خفیہ 

  

ملتان(نیوز رپورٹر)فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ٹیکس سال 2018کے لئے آڈٹ پالیسی 2019 کی منظوری دے دی ہے۔ آڈٹ پالیسی 2019 کا اطلاق انکم ٹیکس(بقیہ نمبر45صفحہ 7پر)

 آرڈینینس 2001، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت رجسٹرڈ افراد پر ہو گا۔ٹیکس سال 2018 کے تمام ٹیکسز کے لئے کیسز کے انتخاب کا معیار پیرامیٹرک طریقہ کار پر مبنی ہے۔ سائنسی بنیادوں پر کیسز کے انتخاب کے لئے رسک پر مبنی آڈٹ مینجمنٹ نظام نامی سافٹ ویئر  ڈیزائن کیا گیا ہے۔ اس سافٹ ویئر کی بدولت ایف بی آر کے لئے ممکن ہو گاکہ وہ زیادہ سے زیادہ عدم تعمیل کرنے والے ٹیکس گزاروں کے کیسز پر توجہ دے سکے اور تعمیل کرنے والے ٹیکس گزاروں کو سہولت دے تاکہ ان کا آڈٹ نظام پر اعتماد کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ ایف بی آر نے کہا ہے کہ جلد ہی رسک پر مبنی پیرامیٹرز کے تحت کمپیوٹر قرعہ اندازی کے ذریعے سال 2018 کے انکم ٹیکس کے لئے تمام فائلرز ما سوا وہ جن کو خارج کیا گیا ہے کے 0.76 فیصد کیسز کا آڈٹ کے لئے انتخاب کیا جائے گا۔ اسی طرح ایف بی آر تمام فائلرز میں سے سوائے وہ جن کو خارج کیا گیا ہے، سلیز ٹیکس اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے لئے باالترتیب 1.67 فیصد اور 5.65 فیصد کیسز کا آڈٹ کے لئے کمپیوٹر قرعہ اندازی کے ذریعے انتخاب کرے گا۔ٹیکس گزاروں کی سہولت کے لئے ایف بی آر نے انتخاب سے خارج ہونے کی مختلف کیٹیگریز بنائی ہیں۔  ان کیٹیگریز میں ایسے تمام کیسز شامل ہیں جن پر ایف بی آر کا انٹیلی جنس اور انوسٹی گیشن ونگ تحقیقات کر رہا ہے۔ ایسے تمام کیسز بھی خارج کر دیئے جائیں گے جن میں تنخواہ اور پنشن پر ٹیکس لاگو آمدنی ٹیکس عائد آمدنی کے 50 فیصد سے تجاوز کر جائے سوائے ان کیسز پر جہاں آمدنی کاروبار کے ذریعے آئے۔ کمپنیوں کے ڈائریکٹرز اس اخراج کے لئے کوالیفائی نہیں کرتے۔ وہ تمام کیسز جن میں تمام آمدنی حتمی ٹیکس رجیم کے دائرہ کار میں آئے اور وہ تمام کیسز جنہوں نے 2018 اور 2019ایمنسٹی سکیم کے تحت اثاثے ظاہر کر دیئے ہیں وہ بھی آڈٹ کے انتخاب سے خارج کر دیئے ہیں۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کے ادارے بھی  آڈٹ کے لیئے خارج کر دیئے گئے ہیں۔ قانون کے مطابق آڈٹ کے لئے متعین پیرامیٹرز خفیہ رکھے جائیں گے۔

خفیہ

مزید :

ملتان صفحہ آخر -