علی۔۔۔ان پر بھی لکھو

علی۔۔۔ان پر بھی لکھو
 علی۔۔۔ان پر بھی لکھو

  

شنجیکو سٹی (جاپان 1990ء)گائجین کلب میں شور شرابا اس وقت عروج پر ہے۔ میرا کزن انجم رانا پورے ہفتے کی محنت کے بعد اس شور میں گم ہے۔ مجھے جاپان آئے ابھی چند دن ہوئے ہیں۔اس لئے سہما سہما ایک جانب بیٹھا ہوں۔ جاپان کی قومی زبان نہنگو ہے۔ گائجین  کلب کا مطلب غیر ملکیوں کا کلب ہے۔ آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ یہ گائجین کلب اس لئے کہ اکثر جاپانی کلبس اور بارز میں پاکستانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ جاپان میں ہم پاکستانیوں کو(تمام تر جاپانیوں کے انسانی حقوق کے احترام کے) دوسرے درجے کا انسان تصور کیا جاتا ہے۔ اگر آپ ٹرین میں بیٹھے ہیں تو آپ کے ساتھ والی خالی سیٹ پر کوئی مرد بیٹھ جائے تو بیٹھ جائے کسی عورت کا بیٹھنا ناممکن ہے۔ چاہے اسے یہ مسافت کھڑے ہو کر طے کرنی پڑی۔ میری نظروں میں منٹو پارک کرکٹ گراؤنڈ کا منظر گھوم گیا۔ منٹو پارک کے باہر اس وقت کے عتیق سٹیڈیم کے سامنے چکڑ چنے اور نان حلیم والوں کی ریڑھیاں ہوتی تھیں۔ ہم میچ کے بعد یا وقفے میں وہاں سے چاٹی کی لسی، سکنجین اور نان حلیم کھاتے۔ مجھے یاد آیا مجھے سخت بھوک لگی ہوئی تھی جوانی کی شوخیاں اور جیب کی پتلی حالت بھی تھی۔

میں ریڑھی پر پہنچا اور وہاں حلیم کھانے والے ایک نوجوان کے ہاتھ سے اس کا نان تقریباً چھین کر کھانے لگا۔ میں نے اس نوجوان کی آنکھوں میں دیکھا وہاں احتجاج کے بجائے ایک خوف نما شرمندگی سی تھی۔ میرے ساتھی بھی نجانے کیوں قہقہے لگا رہے تھے۔ اس لڑکے نے ڈر تے ڈرتے کہا یار میں کر سچین ہوں۔ خدا گواہ ہے یہ سن کر میرے اندر ایسا محسوس ہوا جیسے کسی نے براہ راست دل پر گھونسا مارا ہو۔ مجھے اس کی آنکھوں کی بے بسی کا مطلب سمجھ آ گیا۔میں نے اس کے ہاتھ نان کا بچا ہوا ٹکڑا بھی لیا اور اس کی پلیٹ اپنے سامنے کرتے ہوئے کہا بھیا جی اس کی گریوی مجھے دے دو اور اس سے پیسے نہ لینا۔ اگر آپ شنجیکو میں اس وقت مجھے دیکھیں تو وہی بے بسی میری آنکھوں میں نظر آئے گی۔اقلیت ہونا کوئی گناہ نہیں اس اقلیت کو کم تر سمجھنا ضرور گناہ ہے۔ مجھے پاکستان سے محبت نہیں عقیدت ہے کیونکہ اس دھرتی کی خاطر میرے والدین بھارت میں اپنا بسابسایا گھر چھوڑ کر آئے تھے۔ میرے والد محترم رانا محمد اسحاق اس مٹی کو چومتے تھے۔ یہ آزادی کا ثمر ہے کہ مجھ جیسا اخبار فروش برف کے گولے اور پکوڑے بیچنے والا پاکستان کے لیڈنگ میڈیا ہاؤسز میں ایڈیٹر بنا۔بھارت، یورپ، سعودی عرب میں جب اقلیتوں کے ساتھ ناروا سلوک دیکھتا ہوں تو میری روح اور جسم کا پور پور قائد اعظم اور پاکستان کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو دعائیں دیتا ہے۔ 

علی احمد ڈھلوں میری صحافت کی سچی کھری محبت ہے، وہ الگ بات ہے کہ اپنے جثے اور چودھراہٹ کے سبب رپورٹر ہوتے ہوئے مجھ نیوز ایڈیٹر پر رعب جماتا تھا اپنی مرضی سے خبریں لگواتا تھا۔ سچا کھرا آدمی ہے حیرت ہے کہ سچا ہے کھراہے تو پھر کامیاب کیسے ہے؟ بہرحال معجزے تو اب بھی ہوتے ہیں۔ علی احمد ڈھلوں ایک میڈیا گروپ کا ہیڈ ہے یاروں کا یار ہے، بہترین کالم نگار ہے، خرچیلا ہے اور دوستوں پر لٹاتا ہے۔ کھردرا نہیں اپنے اندر ایک ہموار ملائم دل رکھتا ہے۔ خوبصورت ہے اور خوبصورتی پر جان دیتا ہے۔ یہ سب تو میں جانتا تھا لیکن یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ پاکستان کی اقلیتوں کے لئے اتنا خوبصورت احساس رکھتا ہے۔ اس کی کتاب ”پاکستان کی روشن اقلیتیں“ میرے ہاتھ میں ہے خوبصورت ٹائیٹل مہنگا کاغذ عمدہ مجلد لیکن میں جوں جوں صفحات پلٹتے آگے بڑھ رہا ہوں۔ پاکستان کی اقلیتوں کی روشن زندگی اور نور بھرے کارنامے، ویلڈن علی احمد تم نے پاکستانی ہونے کا قرض چکایا، یہ تم پر قرض بھی تھا اور فرض بھی، سب چھوڑیں ہماری عدلیہ کے سب سے روشن کردار سب کا تعلق اقلیتوں سے تھا، جو گندر نال منڈل سے لیکر ڈاکٹر امر لال تک سب عظیم پاکستان کے عظیم ترین کردار ہیں۔

علی احمد ڈھلوں نے ہر روشن کردار صفحات پر منتقل کر کے ایک عظیم کارنامہ انجام دیا ہے یہ ہمارے ہیرو وہ چھوٹے چھوٹے روشن جگنو میں جن کی جگمگاہٹ سے ہمارا معاشرہ رومانٹک ہے۔ علی احمد ڈھلوں نے ان کرداروں کا تذکرہ اپنے دل کے نور سے کیا ہے۔ خالص محبت کے ساتھ،بے شک علی احمد نے اقلیتوں کو عظیم خراج تحسین پیش کیا۔ لیکن میری ان سے ایک درخواست ہے کہ وہ اس کتاب میں کچھ اقلیتوں کا تذکرہ کرنا بھول گئے، مجھے امید ہے کہ وہ اگلی کتاب میں سچ بولنے والی اقلیت، ملک سے محبت کرنے والی اقلیت، اپنے کام میں ایمانداری کرنے والی اقلیت،اپنے ذمہ داریاں نبھانے والی اقلیت،22کروڑ کیڑے مکوڑوں پر حکومت کرنے والی اقلیت، صحافت میں حق حلال کی روزی کمانے والی اقلیت جیسی اقلیتوں پر بھی لکھیں گے۔

فقط اقلیت کا ایک نمائندہ

ایثار رانا

مزید :

رائے -کالم -