وفاقی حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا

وفاقی حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کے ...
وفاقی حکومت نے سندھ ہائیکورٹ کے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف بڑا قدم اٹھا لیا

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )وفاقی حکومت نے شوگر کمیشن کی رپورٹ کالعدم قرار دینے کا سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیاہے ۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ شوگر کمیشن کا نوٹیفکیشن قانون کے مطابق جاری کیا گیا ، شوگر کمیشن نے محض فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کی ، سفارشات کو محض خدشات کی بنیاد پر کالعدم قرار نہیں دیا جا سکتا ، سپریم کورٹ سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے ۔

یاد رہے کہ دس روز قبل سندھ ہائیکورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن کے خلاف درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے شوگر انکوائری کمیشن اور انکوائری رپورٹ کو کالعدم قرار دے دیا۔ عدالت نے نیب، ایف آئی اے، ایف بی آر اور دیگر اداروں کو چینی کی قلت سے متعلق آزادانہ اور قانون کے مطابق تحقیقات کرنے کا حکم دے دیاتھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے سندھ ہائیکورٹ کو بتایا کہ تحقیقات شوگر ملز مالکان کے خلاف نہیں تھیں بلکہ چینی کی قلت کی وجوہات جاننے کے لیے کی گئیں، کمیشن کی رپورٹ میں چینی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا پتا لگایا گیا ہے، شوگر ملز مالکان کے خلاف کوئی براہ راست الزام نہیں ہے اور نہ ہی انکو کام سے روکا گیا ہے۔

شوگر ملز مالکان نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا کہ رپورٹ میں کہا گیا کہ یہ دن دیہاڑے عوام کی جیب پر 5 ارب روپے سے زائد ڈاکہ ڈالا جارہا ہے، کمیشن کی 253 صفحات کی رپورٹ پڑھ کر کابینہ کو بریفنگ بھی دے دی اور ایکشن کا بھی کہ دیا گیا ہے لیکن کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔20 سے زائد شوگر ملز مالکان نے انکوائری کمیشن کی تشکیل اور رپورٹ کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

مزید :

قومی -