’’نیب ابھی پتا نہیں کیا کیا کھولے گا، یہ میرے کپڑے تک گنے گا مگر ۔ ۔ ۔ " عثمان بزدار کھل کر بول پڑے

’’نیب ابھی پتا نہیں کیا کیا کھولے گا، یہ میرے کپڑے تک گنے گا مگر ۔ ۔ ۔ " عثمان ...
’’نیب ابھی پتا نہیں کیا کیا کھولے گا، یہ میرے کپڑے تک گنے گا مگر ۔ ۔ ۔

  

لاہور (ویب ڈیسک) شراب کا لائسنس اور غیر قانونی ٹھیکوں کے الزام میں نیب نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے خلاف بھی گھیرا تنگ کرلیا ہے اور وہ اپنا جواب بھی جمع کراچکے ہیں، اب وزیراعلیٰ کھل کر میدان میں آگئے اور بولے "نیب ابھی پتا نہیں کیا کیا کھولے گا۔یہ میرے کپڑے تک گنے گا مگر میں پریشان نہیں ہوں کیوں کہ میں ٹرائبل سوسائٹی سے آیا ہوں اور قبائلی لوگوں کے اعصاب کیس بھگت بھگت کر مضبوط ہو چکے ہوتے ہیں‘ ۔

روزنامہ ایکسپریس میں جاوید چودھری نے لکھا کہ " دوسرامیں جب تحصیل ناظم تھا تو اس وقت بھی نیب اور اینٹی کرپشن نے میرے خلاف تحقیقات کی تھیں‘ میں نے اس بار بھی ان کا مقابلہ کیا تھا چناں چہ یہ اس مرتبہ بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے‘ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا‘ میرے ہاتھ صاف ہیں‘ اگر لائسنس غلط جاری ہوا تو اس کا ذمے دار ڈی جی ایکسائز اکرم اشرف ہے اور میں یہ ثابت کروں گا‘‘۔

میرا اس میں کوئی عمل دخل نہیں تھا‘‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ بوگے شاہ اور اس کی فیملی کو جانتے ہیں‘‘ ان کا جواب تھا ’’بالکل نہیں‘‘ میں نے پوچھا ’’اور گوربچن سنگھ کون ہے‘‘ ان کا جواب تھا ’’میں اسے بھی نہیں جانتا‘‘ میں نے پوچھا ’’پھر اسے شراب کا لائسنس کیسے مل گیا؟‘‘ ان کا جواب تھا ’’آپ اکرم اشرف سے پوچھیں گوربچن کون ہے اوراسے یونی کارن کے ساتھ لائسنس کیوں جاری کیا گیا‘‘ میں نے کہا ’’اکرم اشرف کا موقف ہے مجھے پرنسپل سیکریٹری ڈاکٹر راحیل صدیقی نے چیف منسٹر کی طرف سے آرڈر دیا تھا۔

 یہ مجھے چیف منسٹر آفس میں بلا کر کہتے رہے‘‘ان کا جواب تھا ’’یہ غلط ہے‘ راحیل صدیقی اور اکرم اشرف دونوں ریٹائر ہو چکے ہیں اگر اکرم اشرف اتنا ہی بہادر تھا تو وہ انکار کر دیتا یا پھر نوکری میں رہ کر کلمہ حق کہتا مجھے پرنسپل سیکریٹری مجبور کر رہا ہے‘ یہ کیا بہادری ہوئی آپ نے اپنی ریٹائرمنٹ اورراحیل صدیقی کی ریٹائرمنٹ کے بعد الزام لگا دیا‘‘ میں نے پوچھا ’’لیکن یہ مہربانی صرف یونی کارن پریسٹیج پر کیوں؟‘‘ بزدار صاحب کا جواب تھا ’’گورنر خالد مقبول کے دور میں ہالی ڈے اِن ملتان اور پی سی بھوربن کو بھی لائسنس جاری کیے گئے تھے اور ان کے لیے بھی یہی پروسیجر فالو کیا گیا تھا‘‘ میں نے کہا ’’ لیکن نیب آپ پر کرپشن کا الزام لگا رہا ہے‘‘ یہ ہنس کربولے ’’نیب ابھی پتا نہیں کیا کیا کھولے گا۔یہ میرے کپڑے تک گنے گا مگر میں پریشان نہیں ہوں کیوں کہ میں ٹرائبل سوسائٹی سے آیا ہوں اور قبائلی لوگوں کے اعصاب کیس بھگت بھگت کر مضبوط ہو چکے ہوتے ہیں‘ ۔

انہوں نے مزید لکھا کہ "عثمان بزدار 18 اگست کو اسلام آباد تھے‘ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو دو سال پورے ہو چکے تھے‘ میں بزدار صاحب کی دعوت پر پنجاب ہاؤس گیا اور مجھے تنہائی میں ان کے ساتھ ایک گھنٹہ گزارنے کا موقع ملا‘ یہ میری ان کے ساتھ پہلی ملاقات تھی اور یہ مجھے توقع سے بھی زیادہ سادہ اور معصوم لگے‘ یہ شراب کے لائسنس کے ایشو پر نیب کو تازہ تازہ جواب پہنچا کر آئے تھے لیکن یہ اس کے باوجود مطمئن تھے اور ان کا کہنا تھا ’’میرے والد کہتے تھے تمہیں وزیراعلیٰ اللہ نے بنایا ہے‘ جب تک یہ چاہے گا تم وزیراعلیٰ رہو گے‘ اس لیے کسی کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں لہٰذا میں پریشان نہیں ہوں اگر اللہ نہیں چاہے گا تو نیب کیا دنیا کی کوئی طاقت میرا کچھ نہیں بگاڑ سکے گی‘‘۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -