عثمان بزدار 2018ء کا خوش قسمت ترین شخص قرار، خود ہی اعتراف کرلیا

عثمان بزدار 2018ء کا خوش قسمت ترین شخص قرار، خود ہی اعتراف کرلیا
عثمان بزدار 2018ء کا خوش قسمت ترین شخص قرار، خود ہی اعتراف کرلیا

  

لاہور (ویب ڈیسک)  پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لیے تحریک انصاف کے کئی رہنما امیدوار تھے لیکن منصب کے لیے قرعہ سردار عثمان احمد بزدار کے نام نکلا اور ان کی حکومت کو دوسال سے زائد عرصہ بیت چکا ہے ، وزیراعلیٰ عثمان بزدار بھی اس پر معترف ہیں اور بتایا کہ  ’’میرے دوست مجھے 2018 کا خوش قسمت ترین شخص کہتے ہیں‘‘۔

سینئر صحافی جاوید چودھری نے چند دن قبل عثمان بزدار سے ملاقات کی جس کا احوال انہوں نے روزنامہ ایکسپریس میں اپنے کالم میں کیا، جاوید چودھری نے لکھا کہ " میں نے ان سے پوچھا ’’کیا آپ نے کبھی سوچا تھا آپ بارہ کروڑ لوگوں کے صوبے کے وزیراعلیٰ بن جائیں گے‘‘ عثمان بزدار نے سچے دل سے اعتراف کیا ’’میں نے کبھی نہیں سوچا تھا‘‘ میں نے پوچھا ’’پھر آپ کیسے بن گئے‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’میرے دوست مجھے 2018 کا خوش قسمت ترین شخص کہتے ہیں‘‘ پھر سیریس ہوئے اور کہا ’’مجھے علاقے کے لوگوں کی دعائیں ہیں‘ میں نے پوری زندگی غریبوں کی خدمت کی‘ میں عام لوگوں کے ساتھ بیٹھتا تھا‘ ان کے ساتھ زمین پر لیٹ جاتا تھا‘ یہ مجھے پیارکرتے تھے اور یہ مجھے اپنا وزیراعلیٰ کہتے تھے‘آپ یہ جان کر حیران ہوں گے میں ایم پی اے بننے کے بعد لاہور جا رہا تھا اور سیلاب کی وجہ سے راستہ بند ہو گیا۔

میں کچی بستی کے لوگوں کے ساتھ ننگی زمین پر سو گیا‘ میرے سرہانے مٹی کے ڈھیلے تھے‘ شاید اللہ کو میری یہ سادگی پسند آ گئی یا کسی کی دعا قبول ہو گئی اور میں اس منصب تک پہنچ گیا‘‘ میں نے ہنس کر کہا ’’ویسے اسے عام زبان میں لاٹری کہتے ہیں‘‘ یہ قہقہہ لگا کر ہنس پڑے‘ میں نے پوچھا ’’کیا آپ عمران خان کو جانتے تھے‘‘ یہ بولے ’’میری ایم پی اے بننے یا وزیراعلیٰ نامزد ہونے تک خان صاحب سے کوئی ملاقات نہیں تھی‘ مجھے میرے ایک دوست نے کہا‘ میں تمہیں لینے آیا ہوں‘ ہم نے بنی گالا جانا ہے‘ میں اس کے ساتھ آگیا‘‘ میں نے انھیں روک کر کہا ’’اور آپ کے اس دوست کا نام جمیل گجر تھا‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’ہاں یہ بھی تھے اور بھی تھے۔

وہاں میری خان صاحب سے پہلی ملاقات ہوئی‘ جہانگیر ترین سے دوسری ملاقات تھی لیکن انھوں نے مجھے پہچانا تک نہیں‘ میں پارٹی کے کسی بھی شخص کو نہیں جانتا تھا‘‘ میں نے پوچھا ’’آپ پر اعتراض کیا جاتا ہے آپ کو کوئی انتظامی تجربہ نہیں لیکن 12 کروڑ لوگوں کا صوبہ اٹھا کر آپ کی جھولی میں ڈال دیا گیا‘‘ یہ ہنس کر بولے ’’یہ بات درست ہے‘ میں زندگی میں پہلی بار ایم پی اے بنا اور اس کے ساتھ ہی وزیراعلیٰ بن گیا‘ میں نے پہلے دن اپنے اسٹاف کو کہہ دیا تھا مجھے انتظامی امور کا کوئی تجربہ نہیں‘ آپ بس یہ سمجھیں ایک شخص ڈی جی خان سے سیدھا لاہور آ گیا اور اسے راستے کے کسی شہر‘ کسی سڑک کا پتا نہیں لہٰذا میری آپ سے بس یہ درخواست ہے آپ صرف اور صرف قانون کے مطابق چلیں۔

میرا حکم بھی اگر غیرقانونی ہے تو اسے ماننے سے انکار کر دیں‘‘ وہ رک کر بولے ’’میں جانتا ہوں میں صرف ایمان داری اور قانون پسندی سے ہی سروائیو کر سکتا ہوں لہٰذا میں مضبوطی سے اس راستے پر کھڑا ہوں‘‘ میں نے عرض کیا ’’لیکن آپ پر کرپشن کے بے شمار الزامات لگ رہے ہیں‘‘ وہ ہنس کر بولے ’’آپ نے خود کہہ دیا الزامات‘ یہ صرف الزامات ہیں‘ ان میں حقیقت ہے تو کوئی ثابت کر دے‘ میں گھر چلا جاؤں گا‘‘۔

مزید :

قومی -