"دوسری شادی بیوی کی اجازت نہیں بلکہ اس چیز سے مشروط ہے۔۔۔"سپریم کورٹ کے فیصلے پر چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل بھی میدان میں آگئے

"دوسری شادی بیوی کی اجازت نہیں بلکہ اس چیز سے مشروط ہے۔۔۔"سپریم کورٹ کے فیصلے ...

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر قبلہ ایاز نے کہا ہے کہ دوسری شادی بیوی کی اجازت  نہیں بلکہ عدل کے ساتھ مشروط ہے، دوسری شادی کے لیے قانون ثالثی کونسل جاکر اہلیہ سے اجازت  لینے کا مجاز ہوگا.

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر  قبلہ ایاز کا کہنا تھا کہ شریعت میں دوسری شادی سے متعلق عدل کی بات کی گئی ہے اجازت کی نہیں،دوسری شادی کی اجازت  کا معاملہ بارہا اسلامی نظریاتی کونسل میں آیا ہے، 2013 میں دوسری شادی  سے متعلق خواتین کی طرف سے سخت ردعمل آیا۔قبلہ ایاز نے کہا کہ بعض معاملات قانون کے ذریعے درست نہیں ہوسکتے، ثالثی کی ضرورت ہوتی ہے، حق مہر کی ادائیگی پر قانون  اور شریعت دونوں راستے موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ عائلی نظام میں تربیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے، دوسری شادی کے لیے قانون ثالثی کونسل جاکر اہلیہ سے اجازت  لینے کا مجاز ہوگا۔

یاد رہے کہ گذشتہ روز  سپریم کورٹ نے حق مہر سے متعلق ایک درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ دوسری شادی سے قبل پہلی بیوی یا ثالثی کونسل کی اجازت لینا ضروری ہے تاکہ معاشرے میں توازن قائم رکھا جا سکے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کےسیکشن چھےکاحوالہ دیتےہوئےواضح کیا کہ اس دفعہ کےتحت دوسری شادی کی ممانعت نہیں ہے،مذکورہ سیکشن معاشرتی ڈھانچے کو مجموعی طور پر منظم کرنے کے لیے دوسری شادی سے قبل اجازت کی بات کرتا ہے،اس سیکشن کی خلاف ورزی کے باعث معاشرے میں کئی مسائل جنم لیں گے

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -