’دماغ میں لگنے والی مائیکرو چپ اس ہفتے آرہی ہے‘ اس سے آپ کیا کیا کام کر سکیں گے؟ صدی کی سب سے حیران کن خبر آگئی

’دماغ میں لگنے والی مائیکرو چپ اس ہفتے آرہی ہے‘ اس سے آپ کیا کیا کام کر سکیں ...
’دماغ میں لگنے والی مائیکرو چپ اس ہفتے آرہی ہے‘ اس سے آپ کیا کیا کام کر سکیں گے؟ صدی کی سب سے حیران کن خبر آگئی

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ایلن مسک کی کمپنی نیورالنک برین ایک ایسی مائیکرو چِپ بنانے پر کام کر رہی تھی جو انسانی دماغ میں نصب کی جا سکتی ہے۔ اب اس حوالے سے بڑی خبر آ گئی ہے۔ ایلن مسک نے بالآخر اعلان کر دیا ہے کہ ان کی یہ چِپ تیار ہو چکی ہے اور اسی ہفتے اس چِپ کا پہلا عملی مظاہرہ (Demo)دنیا کو دکھایا جائے گا۔ unilad.co.ukکے مطابق اس برین چپ میں انسانی بال سے بھی دس گنا چھوٹی تھریڈز ہوں گی جنہیں ایک چھوٹے سے امپلانٹ کے ذریعے انسانی دماغ سے منسلک کر دیا جائے گا۔ اسے کمپیوٹر سائنس کے ماہرین نے برین کمپیوٹر انٹرفیس کا نام دیا ہے تاہم اسے سادہ الفاظ میں برین چپ (Brain Chip)کہا جا رہا ہے۔ 

اس چپ کی مدد سے انسان مختلف جسمانی اور دماغ بیماریوں سے نجات پا سکے گا اور اس کی مدد سے مختلف زبانیں بولنے والے لوگ ایک دوسرے سے بات بھی کر سکیں گے۔یہ چپ نظر کی کمزوری پر بھی قابو پا سکتی ہے اور دماغ کے ساتھ پیش آنے والے کسی بھی مسئلے کو حل کر سکتی ہے۔ یہ چپ ایک طرح سے دنیا سے زبانوں کا خاتمہ ہی کر دے گی کیونکہ اس کے عام ہونے کے بعد زبان کوئی معاملہ ہی نہیں رکھے گی اور مختلف زبانیں بولنے والے لوگ بھی ایک دوسرے سے اس چپ کی مدد سے بات کر سکیں گے۔

ایلن مسک نے ایک بار ایک انٹرویو میں اس چپ کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”میں نہیں جانتا کہ اس چپ کے آنے کے بعد زبانوں کا کیا مستقبل ہو گا۔ میرے خیال میں زبانیں ختم ہو جائیں گی یا شاید صرف جذبات کے اظہار کے لیے ان کا استعمال باقی رہ جائے گا۔ اگر کوئی شخص اس چپ کی مدد سے کئی مختلف زبانیں بولنا چاہے گا تو اسے صرف ان زبانوں کا پروگرام ڈاﺅن لوڈ کرنا ہو گا اور وہ ان زبان کو فر فر بولنے لگے گا۔ 

 اس کا یہ ایک پہلو بھی ہے جس کی وجہ سے اس چپ پر تنقید کی جا رہی ہے اور اسے متنازعہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس چپ کی مخالفت کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چپ باآسانی ہیک کی جا سکتی ہے چنانچہ اس چپ کے عام ہونے کے بعد انسانی ذہنوں میں موجود راز بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ہیکرز ممالک کی خفیہ معلومات، فوجی رازوں وغیرہ تک رسائی حاصل کر لیں گے اور اس کا انجام تباہ کن ہو گا۔ 

مزید :

ڈیلی بائیٹس -سائنس اور ٹیکنالوجی -