تحقیق کاروں نے انٹرنیٹ کی تاریخ کی تیز ترین سپیڈ کا تجربہ کرلیا، مستقبل کی جھلک نظر آگئی

تحقیق کاروں نے انٹرنیٹ کی تاریخ کی تیز ترین سپیڈ کا تجربہ کرلیا، مستقبل کی ...
تحقیق کاروں نے انٹرنیٹ کی تاریخ کی تیز ترین سپیڈ کا تجربہ کرلیا، مستقبل کی جھلک نظر آگئی

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک) مستقبل میں انٹرنیٹ کی رفتار کس قدر تیز ہو سکتی ہے؟ برطانوی سائنسدان بالآخر مستقبل کے جھروکے میں جھانکنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اور انہوں نے اس سوال کا ایسا جواب دے دیا ہے کہ سن کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی۔ ویب سائٹ ’پروپاکستانی‘ کے مطابق یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین کی ایک ٹیم نے دنیا کے اس تیز ترین انٹرنیٹ کا تجربہ کیا ہے۔ انہوں نے ایک ایسا انٹرنیٹ کنکشن تیارکیا ہے جو گزشتہ تیار کیے گئے دنیا کے تیز ترین انٹرنیٹ کنکشن سے بھی 20فیصد زیادہ تیز ہے۔ ڈاکٹر لیڈیا گیلڈینو کی سربراہی میں کام کرنے والی اس ٹیم نے جو انٹرنیٹ کنکشن تیار کیا ہے اس کی سپیڈ 178ٹیرابائٹ (Terabits)ہے۔ 

یہ سپیڈاس قدر زیادہ ہے کہ اسے خیالی سپیڈ بھی کہا جا سکتا ہے۔ فی الوقت انسان صرف اتنے تیز رفتار انٹرنیٹ کنکشن کا سوچ ہی سکتا ہے تاہم یونیورسٹی کالج لندن کے ماہرین نے اس خیال کو حقیقت کا روپ دے کر دنیا کو بتا دیا ہے کہ مستقبل قریب میں انٹرنیٹ کس قدر تیز رفتار ہو سکتا ہے۔ یہ انٹرنیٹ کنکشن اس وقت دنیا میں کام کر رہے کسی بھی تیز ترین انٹرنیٹ کنکشن سے 2گنا زیادہ تیز ہے اور اس انٹرنیٹ پر محض ایک سیکنڈ میں پوری نیٹ فلکس لائبریری ڈاﺅن لوڈ کی جا سکتی ہے۔ 

مزید :

سائنس اور ٹیکنالوجی -